بجلی کے شعبے کے ریگولیٹر نیپرا کی جانب سے نیشنل گرڈ کمپنی (این جی سی) کے مالی سال 2023 سے 2025 تک کے ملٹی ایئر ٹیرف کے تعین کی اہمیت صرف اس منظور شدہ آمدنی کی ضرورت تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک بار پھر پاکستان کے پاور سیکٹر کے ریگولیٹری فریم ورک میں موجود ایک مستقل کمزوری کو بھی نمایاں کرتا ہے۔
اتھارٹی نے این جی سی کی جانب سے طلب کردہ آمدنی کی ضرورت میں نمایاں کمی کی ہے جبکہ آپریشنز اور گورننس سے متعلق ہدایات کی ایک طویل فہرست بھی جاری کی ہے۔ تاہم اس معاملے سے حاصل ہونے والا وسیع تر پالیسی سبق کچھ اور ہے: ٹیرف کے فیصلے اب بھی اس مدت کے گزرنے کے کافی عرصے بعد جاری کیے جاتے ہیں جن سے وہ متعلق ہوتے ہیں۔
پاکستان کے شعبہ بجلی میں ایک مانوس روایت بن چکی ہے۔ ملٹی ایئر ٹیرف پٹیشنز کا مقصد ریگولیٹری یقینی صورتحال فراہم کرنا ہوتا ہے تاکہ بجلی کی کمپنیاں سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کر سکیں جبکہ صارفین کو مستقبل کے نرخوں کے بارے میں آگاہی حاصل ہو۔ اس کے بجائے منظوری کے فیصلے اکثر اس وقت آتے ہیں جب کنٹرول مدت کا بیشتر حصہ پہلے ہی گزر چکا ہوتا ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ گزشتہ برسوں کے ایڈجسٹمنٹس کا جمع ہونا ہے جس کے باعث صارفین کو ماضی کے اخراجات بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں جبکہ بجلی فراہم کرنے والے ادارے طویل عرصے تک غیر یقینی ریگولیٹری ماحول میں کام کرتے رہتے ہیں۔
تاہم معاملہ صرف ٹرانسمیشن کے شعبے تک محدود نہیں ہے۔ بجلی کے پورے شعبے میں تاخیر سے ہونے والے ٹیرف فیصلے اب استثنا نہیں بلکہ معمول بن چکے ہیں۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، پیداواری منصوبے اور ٹرانسمیشن ادارے سب ہی اکثر اپنی آمدنی کی ضروریات کے حتمی تعین کے لیے برسوں انتظار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، نتیجتاً ایک ایسا ریگولیٹری نظام تشکیل پا گیا ہے جو مسلسل ماضی کے معاملات کا جائزہ لیتا رہتا ہے۔
یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کیونکہ ٹیرف کا ضابطہ صرف حساب کتاب کی کارروائی نہیں ہے۔ بروقت فیصلے سرمایہ کاری کے فیصلوں، مالیاتی اخراجات اور آپریشنل منصوبہ بندی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بجلی کے اداروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اربوں روپے کے سرمایہ کاری پروگرامز پر عملدرآمد کریں، اپنے نیٹ ورکس کو وسعت دیں اور نظام کی قابلِ بھروسہ کارکردگی بہتر بنائیں، تاہم ان کے منافع اور آمدنی سے متعلق ریگولیٹری اشارے اکثر کام مکمل ہونے کے بعد موصول ہوتے ہیں۔ ایسی غیر یقینی صورتحال بالآخر کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافہ کرتی ہے، چاہے وہ زیادہ مالیاتی اخراجات، سرمایہ کاری میں تاخیر یا بعد کے برسوں میں بڑے ایڈجسٹمنٹ دعووں کی صورت میں ہو۔
صارفین کی صورتحال بھی اس سے بہتر نہیں ہے، اگرچہ تاخیر سے ہونے والی منظوریوں کے باعث عارضی طور پر بجلی کے نرخوں میں اضافے کو مؤخر کیا جا سکتا ہے لیکن یہ اضافہ ختم نہیں ہوتا۔ بالآخر یہ اخراجات گزشتہ برسوں کے ایڈجسٹمنٹس کے ذریعے ٹیرف میں شامل ہو جاتے ہیں جو اکثر اس اضافے سے کہیں زیادہ بڑے اور غیر متوقع ہوتے ہیں جو بروقت فیصلے کی صورت میں درکار ہوتے۔ آج جو اقدام سیاسی طور پر موزوں نظر آتا ہے وہ دراصل بوجھ کو کل کے لیے مؤخر کر دیتا ہے اور اکثر اس کے ساتھ عوامی بے اطمینانی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان کے پاور سیکٹر نے ریگولیٹری نگرانی کو مضبوط بنانے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ کارکردگی کے معیارات مزید سخت ہوگئے ہیں۔ سرمایہ کاری کے منصوبوں کی زیادہ باریک بینی سے جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ تھرڈ پارٹی تصدیق، رپورٹنگ کے بہتر تقاضے اور گورننس کے سخت معیارات اب ٹیرف کے تعین کے عمل کا بڑھتا ہوا حصہ بن رہے ہیں۔ نیپرا کا حالیہ فیصلہ بھی اس ارتقا کی عکاسی کرتا ہے جس میں ٹرانسمیشن نقصانات، منصوبوں پر عملدرآمد، سرمایہ کاری کی نگرانی اور ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق ہدایات شامل ہیں۔
یہ خوش آئند پیش رفت ہے۔ اسی طرح حوصلہ افزا بات یہ بھی ہے کہ ریگولیٹر نے این جی سی کو اپنی اگلی ملٹی ایئر ٹیرف پٹیشن دائر کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اگر پاور سیکٹر کو ایک ایسے حقیقی طور پر مستقبل پر نظر رکھنے والے ریگولیٹری نظام کی جانب منتقل ہونا ہے جو ہمیشہ ماضی کے معاملات نمٹانے میں مصروف نہ رہے تو اس کے لیے تسلسل بے حد ضروری ہے۔
تاہم، اصل چیلنج صرف یہ نہیں کہ بجلی کے اداروں کو ٹیرف درخواستیں بروقت جمع کرانے کا پابند بنایا جائے۔ مکمل ریگولیٹری عمل جس میں درخواست جمع کرانے، اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت، سماعتوں اور حتمی فیصلوں تک کے تمام مراحل شامل ہیں کو قابلِ پیش گوئی مدت کے اندر مکمل ہونا چاہیے۔ کسی بھی مرحلے پر ہونے والی تاخیر ملٹی ایئر ریگولیشن کے بنیادی مقصد کو متاثر کرتی ہے۔
پاکستان کے پاور سیکٹر میں اصلاحات کا بنیادی زور بلاشبہ نقصانات میں کمی، وصولیوں میں بہتری اور گردشی قرضے کو قابو کرنے پر رہا ہے۔ یہ اہداف بدستور ناگزیر ہیں، تاہم ریگولیٹری فیصلوں میں بروقت عملدرآمد کو بھی ایک الگ اور اہم اصلاح کے طور پر تسلیم کیے جانے کی ضرورت ہے۔ قابلِ پیش گوئی ٹیرف سرمایہ کاری کی بہتر منصوبہ بندی میں مدد دیتے ہیں، مالیاتی غیر یقینی صورتحال کو کم کرتے ہیں اور ماضی کے اخراجات کی ایسی وصولیوں کی ضرورت کو محدود کرتے ہیں جو نہ صارفین کے مفاد میں ہیں اور نہ ہی بجلی کے اداروں کے لیے فائدہ مند۔
جیسے جیسے پاور سیکٹر ادارہ جاتی ازسرِ نو تشکیل کے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں نیشنل گرڈ کمپنی اور انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر زیادہ واضح اور الگ الگ ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں، اسی رفتار سے ریگولیٹری عمل کو بھی خود کو تبدیل کرنا ہوگا۔ مضبوط ضابطہ کاری کی تعریف صرف احتیاط یا سخت جانچ پڑتال تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کی بنیاد پیش گوئی کے قابل فیصلوں اور بروقت اقدامات پر بھی ہوتی ہے۔ برسوں بعد طے کیا جانے والا ٹیرف اگرچہ ریگولیٹری تقاضے پورے کر سکتا ہے لیکن جدید بنیادی ڈھانچے کے شعبوں کو درکار یقینی صورتحال فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments