کے ایس ای 100 انڈیکس معمولی اضافے پر بند، آخری لمحات کی فروخت نے ابتدائی تیزی ماند کر دی
- کاروبار کے اختتام پر100 انڈیکس 176,133.56 پوائنٹس کی سطح پر برقرار رہا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کو بھی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جہاں 100 انڈیکس نے اپنے بیشتر فوائد گنوانے کے بعد بالآخر معمولی اضافے کے ساتھ بند ہونے میں کامیابی حاصل کی۔
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس دن کی بلند ترین سطح 178,370.45 پوائنٹس پر جاپہنچا۔
کاروباری سیشن کے پہلے نصف حصے میں مثبت رجحان غالب رہا جہاں بینچ مارک انڈیکس صبح کے بیشتر وقت 178,000 پوائنٹس کی سطح سے اوپر رہا۔ تاہم دوپہر کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کا حصول شروع کرنے کے باعث تیزی کی رفتار میں نمایاں کمی آگئی۔
بعدازاں فروخت کا دباؤ مزید بڑھ گیا جس نے انڈیکس کو 177,000 کی حد سے نیچے دھکیل دیا۔ ٹریڈنگ کے دوران بینچ مارک بالآخر دن کی نچلی ترین سطح 176,062.69 پر پہنچ گیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 205.83 پوائنٹس یا 0.12 فیصد اضافے سے 176,133.56 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مارکیٹ کے اختتام پر جاری اپنی رپورٹ میں کہا مارکیٹ کے اس سست اختتام نے مسلسل جاری جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور عالمی توانائی کی منڈیوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی عکاسی کی، جس نے ابتدائی تیزی کے باوجود مارکیٹ کے شرکاء کو محتاط ہو کر شیئرز کا انتخاب کرنے پر مجبور کیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا شعبہ جات کی بات کی جائے تو ریفائنری کے شیئرز سب سے زیادہ فروخت کے دباؤ کی زد میں رہے، کیونکہ منڈی میں یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ طویل عرصے سے التوا کا شکار ریفائنری پالیسی مزید تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔ مجموعی طور پر سرمایہ کاروں کا رویہ محتاط رہا کیونکہ مارکیٹ کے شرکاء جیو پولیٹیکل صورتحال اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں، افراطِ زر (مہنگائی) اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد پر اس کے ممکنہ اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔ ٹاپ لائن کے مطابق انڈیکس میں مثبت کردار ادا کرنے والے اداروں میں ایم سی بی، لک، ایم ای بی ایل، اینگرواور یوبی ایل نمایاں رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر بینچ مارک انڈیکس میں تقریباً 258 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ اس کے برعکس اوجی ڈی سی،ایف ایف سی، ایم ایل سی ایف، سی این ای آر جی وائی اور ڈی جی کے سی نے مارکیٹ پر منفی اثر ڈالا اور مجموعی طور پر انڈیکس سے تقریباً 178 پوائنٹس کم کر دیے۔
یاد رہے کہ پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ابتدائی شدید گراوٹ کے بعد زبردست ریکوری دیکھنے میں آئی جس کی بدولت مارکیٹ معمولی اضافے کے ساتھ بند ہوئی۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ہونے والی گھبراہٹ پر مبنی فروخت کو بلیو چِپ حصص میں جارحانہ ویلیو بائنگ نے زائل کر دیا۔
گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 124.95 پوائنٹس یا 0.07 فیصد اضافے سے 175,927.74 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی مارکیٹوں میں منگل کو ایشیائی حصص میں اضافہ دیکھا گیا کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں ثالثی کی کوششوں کے باعث تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح سے نیچے آگئیں جبکہ سرمایہ کار کارپوریٹ نتائج کے نئے سلسلے کے منتظر ہیں جو دباؤ کا شکار اے آئی سے متعلق سرمایہ کاری کے رجحان کا اہم امتحان ثابت ہوں گے۔
ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کریں گے جس سے امریکا اور ایران کے درمیان حملوں کے دوران توانائی کی فراہمی مزید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جبکہ اسی دوران ایک نازک جنگ بندی کو بحال کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
منگل کو ابتدائی کاروبار کے دوران برینٹ خام تیل کے فی بیرل سودے کی قیمت 0.38 فیصد کمی کے بعد 88.88 ڈالر پر آگئی کیونکہ سرمایہ کار تنازع کے حل کی امیدوں سے پُرامید نظر آئے۔ گزشتہ سیشن میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 91.42 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھ، جو جون کے وسط کے بعد بلند ترین سطح تھی۔
پیر کو ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران کو ثالث ممالک کی جانب سے 10 روزہ جنگ بندی کی ایک تجویز موصول ہوئی ہے جس کا مقصد 7 اکتوبر کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔
حصص بازاروں میں ایم ایس سی آئی کے جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کا وسیع ترین انڈیکس مسلسل تین سیشنز کی گراوٹ کے بعد 0.25 فیصد بڑھ گیا جبکہ جاپانی اسٹاک مارکیٹ میں 1 فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس تقریباً 3 فیصد چڑھ گیا۔
دوسری جانب امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے 0.01 فیصد مضبوط ہوا۔ مقامی کرنسی 0.03 روپے (3 پیسے) کے اضافے کے ساتھ ڈالر کے مقابلے میں 277.92 پر بند ہوئی۔تمام شیئرز انڈیکس میں تجارتی حجم (حجمِ حصص) پچھلے سیشن کے 675.92 ملین سے بڑھ کر 1,003.50 ملین شیئرز تک پہنچ گیا۔حصص کی مالیاتی قدر پچھلے سیشن کے 30.27 ارب روپے سے بڑھ کر 35.70 ارب روپے ہو گئی۔
263.63 ملین شیئرز کے کاروبار کے ساتھ سینرجیکو پی کے حجم کے لحاظ سے پہلے نمبر پر رہا، جس کے بعد ٹرسٹ بروکریج 111.32 ملین شیئرز اور ٹی پی ایل پراپرٹیز 73.87 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہیں۔
منگل کو کل 494 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 268 کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 191 میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 35 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم (بغیر کسی تبدیلی کے) رہیں۔



Comments