بیرونی شعبے کا نازک توازن
- مالی سال 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ 13 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے معمولی خسارے میں رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال میں 1.8 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا
مالی سال 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ 13 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے معمولی خسارے میں رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال میں 1.8 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔ صرف جون کے مہینے میں کرنٹ اکائونٹ کا خسارہ 64 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا، جبکہ اس سے ایک ماہ قبل 50 کروڑ ڈالر کا سرپلس تھا۔
جون میں کرنٹ اکائونٹ خسارے میں جانے کی بنیادی وجہ ترسیلاتِ زر میں نسبتاً نمایاں کمی تھی، جو ماہانہ بنیاد پر 18 فیصد کم ہو گئیں۔
تاہم سالانہ بنیاد پر ترسیلاتِ زر نے مضبوط بنیاد پر 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا، جس نے اشیا کی تجارت کے بڑھتے ہوئے خسارے کے اثرات کو بڑی حد تک متوازن کر دیا۔

آئندہ کے لیے کرنٹ اکائونٹ خسارے کو قابو میں رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا، کیونکہ ایران کی جنگ ختم ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ اس سے خلیجی تعاون کونسل کے ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جن کا مالی سال 2026 میں مجموعی ترسیلاتِ زر میں 55 فیصد حصہ تھا۔ اس کے علاوہ تیل کی درآمدات میں اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے، جو مالی سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں مالی سال 2022 کی چوتھی سہ ماہی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 میں درآمدات 69.7 ارب ڈالر رہیں، جو مالی سال 2022 کے بعد بلند ترین سالانہ سطح ہے۔ مالی سال 2022 وہ سال تھا جب عالمی سطح پر اشیائے صرف کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی تھی۔
اتنی زیادہ درآمدات اور خام تیل کی اوسط قیمت 79 ڈالر فی بیرل ہونے کے باوجود ملکی معاشی نمو اب بھی 4 فیصد سے کم ہے۔ ایسی معیشت کے لیے، جہاں برآمدات جمود کا شکار ہوں، یہ ایک تشویشناک حقیقت ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کو نکال کر دیکھا جائے تو درآمدات 52.9 ارب ڈالر رہیں، جو مالی سال 2022 کی بلند ترین سطح سے 7 فیصد کم ہیں۔ اس کے برعکس خوراک کی درآمدات تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں، جبکہ تقریباً تمام غذائی اشیا کی درآمدات میں اضافہ ہوا ہے، حالانکہ کوئی غیر معمولی یا ایک وقتی درآمد نہیں ہوئی۔ یہ صورتحال مزید تشویشناک اس لیے ہے کہ غذائی برآمدات 30 فیصد کمی کے بعد 5 ارب ڈالر تک گر چکی ہیں۔
خوراک کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 4.1 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے، جو مالی سال 2022 کے 3.6 ارب ڈالر کے خسارے سے بھی زیادہ ہے۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے نے بھی نمایاں توجہ حاصل کی، جہاں درآمدی بل 4.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو سالانہ بنیاد پر 66 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ مکمل طور پر ناک ڈاؤن (سی کے ڈی) گاڑیوں کی درآمدات 92 فیصد بڑھ کر 2.1 ارب ڈالر ہو گئیں، جو مالی سال 2022 سے بھی زیادہ ہیں، حالانکہ اس سال گاڑیوں کی فروخت مالی سال 2022 کے مقابلے میں کم رہی۔ یہ صورتحال اس کے باوجود سامنے آئی کہ اسٹیٹ بینک نے آٹو فنانسنگ کی حد کم رکھی ہوئی ہے اور گاڑیوں پر ٹیکس بھی غیر معمولی طور پر زیادہ ہیں۔

پیٹرولیم درآمدات میں مجموعی اضافہ صرف 5 فیصد رہا اور ان کی مالیت 16.8 ارب ڈالر تک پہنچی، جو مالی سال 2022 کی بلند ترین سطح سے 28 فیصد کم ہے۔ اگرچہ آخری سہ ماہی میں خام تیل اور بالخصوص پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، تاہم آر ایل این جی کی کم دستیابی نے درآمدات میں اضافے کو محدود رکھا۔
اس کے باوجود مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں پیٹرولیم درآمدات سہ ماہی بنیاد پر 72 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 40 فیصد بڑھ کر 5.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو مالی سال 2022 کی چوتھی سہ ماہی کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اگر تیل کی عالمی قیمتیں بلند رہیں تو مالی سال 2027 پاکستان کے لیے ایک مشکل سال ثابت ہو سکتا ہے۔
اشیا کی برآمدات کی کارکردگی میں خوش ہونے کی کوئی خاص وجہ نہیں، کیونکہ مالی سال 2026 میں یہ 6 فیصد کمی کے بعد 30.1 ارب ڈالر رہ گئیں۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شعبہ غذائی برآمدات کا تھا، جہاں سرحدی بندشوں اور کمزور زرعی پالیسیوں نے برآمدی کارکردگی کو شدید متاثر کیا۔ ٹیکسٹائل برآمدات 17.9 ارب ڈالر پر جمود کا شکار رہیں، جبکہ دیگر صنعتی برآمدات میں 4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اشیا کا تجارتی خسارہ 25 فیصد بڑھ کر 33.6 ارب ڈالر ہو گیا۔ تاہم خدمات کی برآمدات میں مضبوط کارکردگی نے اس بگاڑ کو کسی حد تک متوازن کیا۔ آئی سی ٹی اور دیگر کاروباری خدمات کی برآمدات مجموعی طور پر 22 فیصد اضافے کے ساتھ 6.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جس کے باعث اشیا اور خدمات کے مجموعی تجارتی خسارے میں اضافہ 20 فیصد تک محدود رہا اور یہ 35.5 ارب ڈالر ہو گیا۔
اس خسارے کا بڑا حصہ ترسیلاتِ زر کی مضبوط آمد نے پورا کیا، جو مضبوط بنیاد پر 9 فیصد اضافے کے ساتھ 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ تاہم جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا اس رفتار کے برقرار رہنے پر خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔
اس صورتحال کے باعث کرنٹ اکائونٹ کی بحالی بدستور نازک رہے گی۔ اگر ترسیلاتِ زر میں کمی آئی یا عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں تو اسٹیٹ بینک کو غیر ضروری درآمدات پر مزید سخت پابندیاں لگا کر دوبارہ کفایت شعاری کی پالیسی اختیار کرنا پڑ سکتی ہے۔
دوسری جانب اشیا کی برآمدات بڑھانے پر توجہ تقریباً نظر نہیں آتی، حالانکہ یہ مسلسل بتدریج کم ہو رہی ہیں۔ برآمدی شعبہ اب بھاری ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے، جبکہ اسے ملنے والی تقریباً تمام مراعات واپس لے لی گئی ہیں۔ مزید یہ کہ روپے کی موجودہ قدر بھی برآمدات کے لیے معاون ثابت نہیں ہو رہی۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے شائع کردہ حقیقی مؤثر شرح مبادلہ (آر ای ای آر) 106.5 تک پہنچ چکی ہے، جو 2018 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ کرنسی کو اس حد تک مضبوط رکھنا برآمدات میں اضافے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔
اس صورتحال میں اسٹیٹ بینک پر یہ دباؤ بھی برقرار رہے گا کہ وہ بینکوں کے درمیان کرنسی مارکیٹ سے ڈالر خریدتا رہے تاکہ اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کر سکے، جو اس وقت 17.2 ارب ڈالر ہیں۔
حکام کی کرنسی کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کی پالیسی کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ رواں کیلنڈر سال کے دوران شرح سود میں کسی بھی قسم کی کمی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔


Comments