مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، ڈالر مزید مضبوط ہوگیا
- امریکی ڈالر 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 162.48 جاپانی ین تک پہنچ گیا
مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کے باعث پیر کو ایشیائی کاروبار کے آغاز پر امریکی ڈالر نے بیشتر عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں معمولی مضبوطی حاصل کر لی۔
امریکی ڈالر 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 162.48 جاپانی ین تک پہنچ گیا، جو 9 جولائی کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں نے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ڈالر کا رخ کیا۔
یورو 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 1.1426 ڈالر پر آ گیا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3445 ڈالر پر تقریباً مستحکم رہا۔ آسٹریلوی ڈالر 0.1 فیصد گر کر 0.6975 امریکی ڈالر، جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 0.5833 امریکی ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔
ویسٹ پیک کے تجزیہ کاروں کے مطابق زرمبادلہ کی منڈی نسبتاً پرسکون رہی، تاہم مجموعی طور پر امریکی ڈالر مستحکم رہا جبکہ آسٹریلوی ڈالر سمیت کئی بڑی کرنسیاں دباؤ کا شکار رہیں۔ ان کے مطابق سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کی قدر سے متعلق خدشات اور ایران کی جانب سے عبوری امن معاہدے کی بعض شرائط معطل کیے جانے کے بعد سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید متاثر ہوا۔
دوسری جانب برینٹ خام تیل کی قیمت ایشیائی تجارت کے آغاز پر 3.3 فیصد اضافے کے ساتھ 90.97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، کیونکہ امریکا نے اعلان کیا کہ اس نے ایران کے خلاف مسلسل نویں رات بھی حملے کیے ہیں۔
ادھر مالیاتی منڈیاں اب بھی توقع کر رہی ہیں کہ 29 جولائی کو ہونے والے فیڈرل ریزرو کے آئندہ اجلاس میں شرح سود برقرار رکھی جائے گی۔ سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق شرح سود میں تبدیلی نہ ہونے کے امکانات 85.6 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔
کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں بٹ کوائن 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 64,637.89 ڈالر جبکہ ایتھر بھی 0.2 فیصد بڑھ کر 1,869.72 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔


Comments