BR100 Decreased By (-0.4%)
BR30 Decreased By (-0.65%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.84 Increased By ▲ 0.21 (0.85%)
BOP 30.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.23%)
CNERGY 12.75 Decreased By ▼ -0.23 (-1.77%)
DFML 18.13 Increased By ▲ 0.64 (3.66%)
DGKC 186.90 Decreased By ▼ -0.32 (-0.17%)
FABL 93.20 Decreased By ▼ -0.51 (-0.54%)
FCCL 51.00 Decreased By ▼ -0.65 (-1.26%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.79%)
HBL 302.50 Decreased By ▼ -1.28 (-0.42%)
HUBC 198.80 Decreased By ▼ -0.16 (-0.08%)
HUMNL 9.75 Decreased By ▼ -0.10 (-1.02%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
MLCF 90.33 Decreased By ▼ -0.90 (-0.99%)
OGDC 315.40 Increased By ▲ 2.01 (0.64%)
PAEL 34.73 Decreased By ▼ -0.51 (-1.45%)
PIBTL 14.23 Decreased By ▼ -0.48 (-3.26%)
PIOC 235.00 Decreased By ▼ -4.62 (-1.93%)
PPL 221.00 Decreased By ▼ -0.36 (-0.16%)
PRL 90.89 Decreased By ▼ -0.33 (-0.36%)
SNGP 90.30 Decreased By ▼ -0.57 (-0.63%)
SSGC 23.39 Increased By ▲ 0.09 (0.39%)
TELE 7.40 Decreased By ▼ -0.21 (-2.76%)
TPLP 12.02 Decreased By ▼ -0.54 (-4.3%)
TRG 54.35 Decreased By ▼ -1.44 (-2.58%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

بھارت ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرینیں چلانے والے منتخب ممالک میں شامل

  • یہ ٹرینیں صرف حرارت اور آبی بخارات خارج کرتی ہیں، اس لیے روایتی ڈیزل انجنوں کے مقابلے میں زیادہ ماحول دوست سمجھی جاتی ہیں
شائع اپ ڈیٹ

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کو ملک کی ہائیڈروجن سے چلنے والی پہلی ٹرین کا افتتاح کر دیا، جس کے ساتھ ہی بھارت اس ماحول دوست، زیرو ایمیشن ایندھن پر چلنے والی ٹرینیں استعمال کرنے والے چند منتخب ممالک میں شامل ہو گیا۔

بھارت اب جرمنی، جاپان، چین اور امریکا سمیت ان ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے جہاں ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرینیں آپریشنل ہیں۔ ان ٹرینوں سے ضمنی پیداوار کے طور پر صرف حرارت اور آبی بخارات خارج ہوتے ہیں، جس کے باعث یہ روایتی ڈیزل انجنوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ماحول دوست متبادل سمجھی جاتی ہیں۔

10 کوچز پر مشتمل اس ٹرین میں 2,600 مسافروں کی گنجائش ہے اور یہ روزانہ دو مرتبہ دارالحکومت دہلی سے متصل شمالی ریاست ہریانہ کے شہروں جند اور سونی پت کے درمیان 90 کلومیٹر (55 میل) طویل روٹ پر سفر کرے گی۔

ہائیڈروجن ٹرین کو اس کے پہلے سفر کے لیے روانہ کرنے کے بعد نریندر مودی نے کہا کہ بھارت کارکردگی بہتر بنانے، لاگت کم کرنے اور اس نیٹ ورک کو مزید وسعت دینے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔

حکومتی بیان میں جمعرات کو کہا گیا کہ ”اس منصوبے میں جدید پروپلشن ٹیکنالوجی کے ساتھ ہائیڈروجن کے ذخیرہ، ری فیولنگ اور آپریشنل انفرااسٹرکچر کو بھی مربوط کیا گیا ہے۔“

بھارت میں ہی ڈیزائن، انجینئرنگ اور تیار کی گئی یہ ٹرین زیادہ سے زیادہ 75 کلومیٹر فی گھنٹہ (47 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے چل سکے گی اور اسے 1,200 کلوواٹ صلاحیت کے ہائیڈروجن فیول سیل پروپلشن سسٹم سے توانائی فراہم کی جائے گی۔

بھارت اپنی 70 ہزار کلومیٹر (43 ہزار 500 میل) طویل براڈ گیج ریلوے لائن، جو دنیا کے بڑے ریلوے نیٹ ورکس میں شمار ہوتی ہے، کا تقریباً مکمل برقی نظام میں تبدیل کر چکا ہے۔ اس اقدام کا مقصد 2030 تک بھارتی ریلوے کو خالص صفر کاربن اخراج (نیٹ زیرو) کے ہدف تک پہنچانا ہے۔

Comments

200 حروف