سرمایہ کاری اعتماد کے ساتھ آتی ہے۔ یہ استحکام، پیش گوئی کے قابل ماحول اور اس معقول یقین کی متلاشی ہوتی ہے کہ لوگ، اثاثے اور کاروباری سرگرمیاں مسلسل رکاوٹوں اور بے یقینی کا شکار ہوئے بغیر جاری رہ سکیں۔
لہٰذا او آئی سی سی آئی کا تازہ ترین سیکیورٹی سروے پاکستان کی امن و امان کی صورتحال کے محض ایک جائزے سے بڑھ کر اہمیت رکھتا ہے۔ یہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ سیکیورٹی ملک کی سب سے بڑی معاشی رکاوٹوں میں سے ایک بن چکی ہے اور یہ ایک ایسے نازک وقت پر ہوا ہے جب پاکستان اس طرح کی رکاوٹوں کا متحمل بالکل نہیں ہو سکتا۔
اس سروے کے نتائج تشویشناک ہیں۔ دس میں سے سات سے زائد سرکردہ غیر ملکی سرمایہ کار سیکیورٹی کو اپنے تین بڑے کاروباری خدشات میں شامل کرتے ہیں۔ کراچی جو پاکستان کا تجارتی دارالحکومت اور مالیاتی مرکز ہے، وہاں حالات مزید خراب ہوئے ہیں جہاں اسٹریٹ کرائم کاروباری اداروں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔
کوئٹہ اور بلوچستان کے باقی حصوں میں سیکیورٹی کے حوالے سے تاثر بدستور انتہائی منفی ہے جبکہ کمپنیاں ملازمین کی حفاظت، لاجسٹکس اور کاروباری تسلسل کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کا بھی اظہار کررہی ہیں۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ محض اعداد وشمار نہیں ہیں بلکہ یہ سرمایہ کاری کے ان فیصلوں کی عکاسی کرتے ہیں جو شاید کبھی نہ لیے جائیں اور توسیع کے ان منصوبوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو شاید کبھی عملی شکل اختیار نہ کرسکیں۔
یہ صورتحال خود سروے سے کہیں زیادہ پالیسی سازوں کیلئے تشویش کا باعث ہونی چاہیے۔
پاکستان کی معیشت کو سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے۔ اس وقت ملکی نجی سرمایہ کاری کا رجحان انتہائی سست پڑا ہوا ہے۔
غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری برسوں سے ایسی سطح تک پہنچنے کے لیے کوشاں ہے جو پائیدار معاشی ترقی کو سہارا دے سکے۔ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے سرمایہ کاری کو فروغ دینے والے ادارے قائم کیے، سہولت کاری کے اقدامات کا اعلان کیا اور سرمایہ کو راغب کرنے کے لیے ساختی اصلاحات پر عمل کیا ہے۔
تاہم ان میں سے کوئی بھی کوشش اس ماحول کی کمی کو مکمل طور پر پورا نہیں کر سکتی جہاں سرمایہ کار بنیادی سیکیورٹی کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہوں۔
یہ چیلنج روایتی دہشت گردی سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
کراچی مسلسل اسٹریٹ کرائم، منظم مجرمانہ نیٹ ورکس، بھتہ خوری اور ذاتی تحفظ کو لاحق ان خطرات سے نبرد آزما ہے جو براہِ راست تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کرتے ہیں۔ کاروباری ادارے ان خطرات کا تخمینہ روزانہ کی بنیاد پر بیمہ (انشورنس) کی زیادہ قیمتوں، نجی سیکیورٹی کے اضافی اخراجات، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور کم ہوتی آپریشنل کارکردگی کی صورت میں لگاتے ہیں۔ اس کا مجموعی معاشی نقصان بہت زیادہ ہے، چاہے یہ سرکاری اعدادوشمار میں نظر نہ آتا ہو۔
ملک کے تجارتی مرکز سے ہٹ کر سیکیورٹی کا منظرنامہ اسی قدر سنگین ہے۔ پاکستان کی مغربی سرحدوں پر سرحد پار دہشت گردی کے لیے مسلسل فوجی اور انٹیلی جنس آپریشنز کی ضرورت ہے۔ پاکستانی اہداف کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد گروہوں کی جانب سے افغان سرزمین کا بار بار استعمال قومی تشویش کا ایک جائز مسئلہ بن چکا ہے جس کے لیے ٹھوس سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ مستقل سفارتی روابط کی بھی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیاں بارہا ان عسکریت پسند گروہوں کے لیے بیرونی حمایت اور فنڈنگ کا الزام لگاتی رہی ہیں جو ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں جس سے پہلے ہی مشکل سیکیورٹی ماحول مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
بلاشبہ ان میں سے کوئی بھی چیلنج اچانک پیدا نہیں ہوا۔
پاکستان نے شدت پسندی کے طویل ادوار کے بعد دہشت گردی کا مقابلہ کرنے، سیکیورٹی اداروں کی تعمیرِ نو اور عوامی اعتماد کی بحالی میں برسوں صرف کیے ہیں۔ دہشت گردی کی تاریک ترین دہائیوں کے مقابلے میں بلاشبہ کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ بگاڑ زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بڑی مشکل سے حاصل کی گئی کامیابیوں کو مستقل اور یقینی نہیں سمجھا جا سکتا۔ معاشی استحکام کی طرح سیکیورٹی کے لیے بھی مستقل چوکسی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اوآئی سی سی آئی سروے کا حوصلہ افزا پہلو یہ ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستان سے منہ نہیں موڑا ہے۔ زیادہ تر جواب دہندگان اب بھی ملک میں بورڈ اور انتظامی میٹنگز منعقد کرنے کے لیے تیار ہیں جو پاکستان کے طویل مدتی معاشی امکانات پر ان کے مسلسل اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم اس اعتماد کو لا محدود صبر کا نام نہیں دینا چاہیے۔ سرمایہ کار مسلسل خطرات کا جائزہ لیتے رہتے ہیں اور سرمایہ کاری کے لیے متبادل مقامات کی دنیا میں کوئی کمی نہیں ہے۔
اس لیے حکومت کی ذمہ داری واضح ہے۔ پولیسنگ کو مضبوط بنانا، شہری سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا، منظم مجرمانہ نیٹ ورکس کو ختم کرنا، تجارتی مراکز کا تحفظ یقینی بنانا اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف دباؤ برقرار رکھنا، اب صرف سیکیورٹی اہداف نہیں رہے۔ یہ معاشی ضروریات بن چکے ہیں۔ عوامی تحفظ میں ہونے والی ہر بہتری پاکستان میں سرمایہ کاری کے کیس کو مضبوط کرتی ہے اور ہر بگاڑ اسے کمزور کرتا ہے۔
پاکستان ان تمام بنیادی سہولتوں کا حامل ہے جن کی سرمایہ کار تلاش کرتے ہیں: ایک بڑی مقامی مارکیٹ، نوجوان آبادی، اسٹریٹجک جغرافیائی محل وقوع اور کافی حد تک غیر استعمال شدہ معاشی صلاحیت۔ تاہم یہ فوائد سیکیورٹی کے حوالے سے مسلسل خدشات کا ازالہ نہیں کر سکتے۔ سرمایہ کاری کا انحصار بالآخر اعتماد پر ہوتا ہے اور اعتماد کا انحصار ریاست کی اس صلاحیت پر ہے کہ وہ اس بات کی ضمانت دے سکے کہ کاروبار ایک محفوظ اور پیش گوئی کے قابل ماحول میں چل سکتے ہیں۔
پاکستان برسوں سے سرمایہ کاروں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان کاروبار کے لیے اوپن ہے۔ یہ پیغام اس وقت زیادہ وزن اور اثر رکھے گا جب سیکیورٹی کے حالات اس کی نفی کرنے کے بجائے مستقل طور پر اس کی تائید کریں۔ تب تک سیکیورٹی کا ہر ایک دھچکا ایک ایسی معاشی قیمت وصول کرتا رہے گا جس کا متحمل ہونا پاکستان کے لیے انتہائی مشکل ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments