جی ایس پی پلس برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو اصلاحات کا خلا پُر کرنا ہوگا، یورپی یونین
- رپورٹ کے مطابق تجارتی شعبے میں کامیابی کے باوجود پاکستان جی ایس پی پلس سے وابستہ 27 بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں کر سکا
یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی منافع بخش جی ایس پی پلس تجارتی اسکیم تک مسلسل رسائی کا انحصار قانون سازی میں اصلاحات اور بگڑتی ہوئی انسانی حقوق کی صورتحال کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو دور کرنے پر ہوگا۔ یونین کا کہنا ہے کہ ریکارڈ تجارتی فوائد حاصل کرنے کے باوجود پاکستان نے کئی اہم شعبوں میں پسپائی اختیار کی ہے۔
یورپی یونین کی جانب سے 2023 تا 2025 کے عرصے پر مشتمل تازہ جی ایس پی پلس نگرانی رپورٹ کے مطابق، پاکستان بدستور پائیدار ترقی اور بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے خصوصی مراعاتی انتظام (جی ایس پی پلس) سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک رہا۔ پاکستان نے 2024 میں 7.5 ارب یورو مالیت کی جی ایس پی پلس کے تحت اہل برآمدات، جن میں زیادہ تر ٹیکسٹائل اور ملبوسات شامل تھے، یورپی یونین کو بھیجیں۔ اس ترجیحی اسکیم کے تحت پاکستانی برآمدکنندگان کو ٹیرف میں چھوٹ کی صورت میں اندازاً 73 کروڑ 20 لاکھ یورو کا فائدہ حاصل ہوا۔
تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ تجارتی کامیابی کے باوجود پاکستان جی ایس پی پلس سے منسلک 27 بین الاقوامی معاہدوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل میں مطلوبہ پیش رفت نہیں کر سکا۔
رپورٹ میں کہا گیا، ”2023 سے 2025 کے نگرانی کے عرصے کے دوران پاکستان کو جی ایس پی پلس کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کے حوالے سے مسائل کا سامنا رہا۔ متعدد شعبوں میں صورتحال تنزلی کا شکار ہوئی، جبکہ مثبت پیش رفت محدود رہی۔“
یورپی یونین نے اس دوران قانون سازی اور ادارہ جاتی سطح پر ہونے والی بعض مثبت پیش رفت کا بھی اعتراف کیا، جن میں قومی کمیشن برائے اقلیتیں کے قیام سے متعلق قانون سازی، سزائے موت کے دائرۂ کار میں کمی، پھانسیوں پر غیر اعلانیہ پابندی (ڈی فیکٹو موراٹوریم) کا برقرار رہنا، اور انسدادِ تشدد قانون کے تحت عمل درآمد سے متعلق قواعد کی منظوری شامل ہیں۔
رپورٹ میں اسلام آباد کے لیے گھریلو تشدد کے خلاف قانون کی منظوری کا بھی خیرمقدم کیا گیا، جبکہ ازدواجی زیادتی کے مقدمے میں پاکستان کی پہلی سزا کو خواتین کے حقوق کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا گیا۔
رپورٹ میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی سراہا گیا، جس نے وزارتِ انسانی حقوق اور وزارتِ قانون و انصاف کے ساتھ مل کر بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
محنت کشوں کے حقوق کے حوالے سے یورپی یونین نے بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او) کے جبری مشقت سے متعلق کنونشن کے 2014 کے پروٹوکول کی پاکستان کی جانب سے توثیق اور محنت کشوں کی نگرانی کے نظام میں بہتری کو سراہا۔ رپورٹ میں بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لیے صوبائی سطح پر نئے ایکشن پلانز کا بھی خیرمقدم کیا گیا۔
تاہم رپورٹ میں زور دیا گیا کہ ان قوانین پر عمل درآمد اب بھی کمزور ہے، بچوں سے مشقت میں کمی کی رفتار سست ہے، جبکہ بیشتر اصلاحات قانون سازی تک محدود ہیں اور ان کے عملی نتائج ابھی تک خاطر خواہ طور پر سامنے نہیں آئے۔
رپورٹ میں قانون کی حکمرانی کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور شہری آزادیوں کے محدود ہوتے دائرہ کار پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
یورپی یونین کے مطابق جائزہ مدت کے دوران جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے واقعات میں اضافہ ہوا، جبکہ ذمہ دار عناصر کا احتساب نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سائبر کرائم، انسدادِ دہشت گردی اور توہینِ مذہب سے متعلق قوانین میں حالیہ ترامیم کے بعد آزادیٔ اظہار کی صورتحال بھی مزید خراب ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق ان قوانین میں بعض مبہم شقیں شامل ہیں جنہیں صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، سیاسی مخالفین، اقلیتوں اور عام شہریوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ ان قوانین کے تحت افراد کو قید، اثاثوں کی ضبطی اور بیرونِ ملک سفر پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ حالیہ آئینی ترامیم پر عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرنے کے حوالے سے تنقید کی گئی ہے، جس سے منصفانہ ٹرائل اور انصاف تک رسائی سے متعلق پہلے سے موجود خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق قانون سازی کے باوجود جبری مشقت اب بھی بڑی تعداد میں کارکنوں کو متاثر کر رہی ہے۔
2027 سے نافذ ہونے والے نظرثانی شدہ جی ایس پی پلس فریم ورک کے تناظر میں یورپی یونین نے ان ترجیحی شعبوں کی نشاندہی بھی کی جن پر پاکستان کو ترجیحی تجارتی رسائی برقرار رکھنے کے لیے توجہ دینا ہوگی۔
ان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مؤثر احتساب، تشدد کی روک تھام کے لیے اقدامات تیز کرنا، جیلوں کے حالات اور سزائے موت سے متعلق قوانین میں اصلاحات، جبری گمشدگیوں کے رجحان کا خاتمہ، آزادیٔ اظہار کا تحفظ، خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام، بچوں کی تعلیم تک رسائی میں اضافہ، کم عمری کی شادیوں کا خاتمہ، بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لیے صوبائی منصوبوں پر مکمل عمل درآمد، جبری مشقت کے خلاف مؤثر کارروائی، اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کی روک تھام، اور وفاقی و صوبائی سطح پر انسدادِ بدعنوانی کے اداروں کی آزادی اور صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ پاکستان نے جی ایس پی پلس کے تحت نمایاں معاشی فوائد حاصل کیے ہیں، تاہم آئندہ اس ترجیحی تجارتی سہولت کا تسلسل محض قانون سازی کے وعدوں کے بجائے بین الاقوامی انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، بہتر طرزِ حکمرانی اور متعلقہ عالمی ذمہ داریوں پر مؤثر اور قابلِ عمل پیش رفت سے مشروط ہوگا۔


Comments