اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کی واپسی، 100 انڈیکس 2650 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا
- صبح 9 بجکر 38 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 176,192.90 پوائنٹس پر جاپہنچا
گزشتہ روز بدترین تجارتی سیشنز کے بعد بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ایک بار پھر خریداری کا رجحان ایک بار لوٹ گیا، ٹریڈنگ کے ابتدائی اوقات میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 2650 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا۔
صبح 9 بجکر 38 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 2,674.09 پوائنٹس یا 1.54 فیصد اضافے سے 176,192.90 پوائنٹس پر جاپہنچا۔
آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز)، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور ریفائنری شعبے میں نمایاں خریداری دیکھی گئی۔ اے آر ایل، حبکو، ماری، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، پی او ایل، ایم سی بی، میزان بینک، نیشنل بینک اور یو بی ایل بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔
منگل کو پی ایس ایکس نے اپنے بدترین تجارتی سیشنز میں سے ایک کا سامنا کیا، جہاں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بڑے پیمانے پر فروخت دیکھی گئی۔ بینچ مارک 100 انڈیکس 6,408.23 پوائنٹس (3.56 فیصد) کی گراوٹ سے 173,518.82 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر بدھ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی دیکھی گئی کیونکہ امریکہ میں افراطِ زر توقعات سے زیادہ سست رہنے کے بعد شرحِ سود میں اضافے سے متعلق مارکیٹ کی توقعات کمزور پڑ گئیں۔ دوسری جانب خام تیل کی قیمتوں میں بھی وقفہ آیا کیونکہ امریکہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری جہاز پر فیس عائد کرنے کا منصوبہ واپس لے لیا۔
وال اسٹریٹ کے بڑے بینکوں کے شاندار مالی نتائج نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی تاہم ٹیکنالوجی کمپنی آئی بی ایم کے شیئرز میں 25 فیصد کمی جو آمدنی کی پیش گوئی تجزیہ کاروں کی توقعات سے کم رہنے کے باعث ہوئی، اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق حصص میں حالیہ تیزی ضرورت سے زیادہ بڑھ چکی ہے اور سرمایہ کار معمولی منفی خبر پر بھی فوری ردِعمل دے رہے ہیں۔
جنوبی کوریا کی چِپ ساز کمپنیوں پر مشتمل کوسپی انڈیکس ابتدائی کاروبار میں 6 فیصد تک اچھل گیا جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس 0.4 فیصد بڑھا۔ اسی طرح جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔
کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر جاپانی ین کے سوا دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں کمزور پڑ گیا جبکہ مسلسل دباؤ کا شکار جاپانی ین بدستور کمزور رہا۔ دوسری جانب قلیل مدتی امریکی سرکاری بانڈز میں خریداری بڑھی جس کے نتیجے میں دو سالہ ٹریژری ییلڈ 11 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 4.19 فیصد رہ گئی جو منگل کو تقریباً 4.3 فیصد کی 17 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔
امریکا میں جون کے دوران ہیڈ لائن کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) 0.4 فیصد کم ہوا جو کووڈ 19 وبا کے بعد پہلی ماہانہ کمی ہے۔ دوسری جانب بنیادی (کور) افراطِ زر کی سالانہ شرح 2.6 فیصد رہی جبکہ مارکیٹ کو 2.8 فیصد کی توقع تھی۔
یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے


Comments