BR100 Decreased By (-1.03%)
BR30 Decreased By (-1.24%)
KSE100 Decreased By (-0.84%)
KSE30 Decreased By (-0.84%)
BAFL 58.51 Decreased By ▼ -0.12 (-0.2%)
BIPL 27.72 Decreased By ▼ -0.48 (-1.7%)
BOP 35.34 Decreased By ▼ -0.76 (-2.11%)
CNERGY 10.20 Increased By ▲ 0.51 (5.26%)
DFML 19.47 Decreased By ▼ -0.34 (-1.72%)
DGKC 219.00 Decreased By ▼ -5.49 (-2.45%)
FABL 99.80 Decreased By ▼ -1.83 (-1.8%)
FCCL 54.65 Decreased By ▼ -1.23 (-2.2%)
FFL 17.30 Decreased By ▼ -0.28 (-1.59%)
GGL 24.62 Decreased By ▼ -0.39 (-1.56%)
HBL 312.50 Decreased By ▼ -1.28 (-0.41%)
HUBC 224.00 Decreased By ▼ -3.05 (-1.34%)
HUMNL 11.07 Decreased By ▼ -0.09 (-0.81%)
KEL 7.94 Decreased By ▼ -0.16 (-1.98%)
LOTCHEM 32.14 Increased By ▲ 0.68 (2.16%)
MLCF 101.69 Decreased By ▼ -2.55 (-2.45%)
OGDC 334.28 Increased By ▲ 0.15 (0.04%)
PAEL 43.78 Decreased By ▼ -1.25 (-2.78%)
PIBTL 17.70 Decreased By ▼ -0.27 (-1.5%)
PIOC 271.00 Decreased By ▼ -1.59 (-0.58%)
PPL 233.47 Decreased By ▼ -3.08 (-1.3%)
PRL 43.60 Increased By ▲ 1.53 (3.64%)
SNGP 111.15 Decreased By ▼ -1.25 (-1.11%)
SSGC 30.57 Decreased By ▼ -0.26 (-0.84%)
TELE 9.08 Decreased By ▼ -0.09 (-0.98%)
TPLP 12.20 Decreased By ▼ -0.42 (-3.33%)
TRG 64.59 Decreased By ▼ -0.99 (-1.51%)
UNITY 10.09 Decreased By ▼ -0.17 (-1.66%)
WTL 1.30 Decreased By ▼ -0.02 (-1.52%)
کاروبار اور معیشت

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش سے ڈالر مزید مضبوط

  • ین کے مقابلے میں ڈالر 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 162.075 ین پر پہنچ گیا
شائع اپ ڈیٹ

مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ شروع ہونے والی جنگی کارروائیوں کے باعث مہنگائی کے خدشات بڑھنے اور دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کی جانب سے شرحِ سود میں اضافے کے امکانات کے پیش نظر ڈالر نے اپنی بیشتر حریف کرنسیوں کے مقابلے میں قدر حاصل کرلی۔

جاپانی کرنسی ین کے مقابلے میں ڈالر 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 162.075 ین پر پہنچ گیا۔ دوسری جانب یورو 0.1 فیصد کمزور ہو کر 1.1397 ڈالر رہ گیا جبکہ برطانوی پاؤنڈ 0.2 فیصد گر کر 1.3374 ڈالر پر آ گیا۔

آسٹریلوی ڈالر 0.3 فیصد کمی کے ساتھ 0.6928 امریکی ڈالر پر آ گیا جبکہ اس کے ہم منصب نیوزی لینڈ (کیوی) ڈالر کی قدر بھی 0.1 فیصد گھٹ کر 0.5757 امریکی ڈالر رہ گئی۔

ہفتے اور اتوار کے دوران امریکی اور ایرانی افواج نے ایک دوسرے پر میزائلوں اور ڈرونز سے شدید حملے کیے۔ اتوار کو تہران نے خلیجی ممالک میں واقع امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور اعلان کیا کہ اس نے ایک بار پھر عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز کی بحری گزرگاہ بند کردی ہے۔ ان پیش رفتوں کے باعث ایشیائی تجارت کے دوران تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جہاں برینٹ خام تیل کے فیوچرز 4.1 فیصد بڑھ کر 79.11 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔

سڈنی میں آئی جی مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائکامور نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر شروع ہونے والی کشیدگی جو ہفتہ وار تعطیل کے دوران بھی جاری رہی، اس کے ردعمل میں ڈالر مضبوط ہوا جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس کا بنیادی محرک رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال نے دوبارہ یہ خدشات بڑھا دیے ہیں کہ اگر توانائی کی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں تو دنیا بھر کے مرکزی بینک متوقع وقت سے پہلے شرحِ سود میں اضافہ کرنا شروع کرسکتے ہیں۔

سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق فیڈ فنڈز فیوچرز اس بات کا 50.9 فیصد امکان ظاہر کر رہے ہیں کہ امریکی مرکزی بینک کے دسمبر کے اجلاس تک شرحِ سود میں دو یا اس سے زیادہ مرتبہ اضافہ کیا جائے گا۔ یہ امکان جمعہ کو 47.6 فیصد تھا جو اب بڑھ گیا ہے۔

امریکی ڈالر انڈیکس 0.1 فیصد بڑھ کر 101.13 پر پہنچ گیا جبکہ اس سے قبل یہ 8 جولائی کے بعد اپنی بلند ترین سطح کو بھی چھو گیا تھا۔

ویلنگٹن میں کیپٹل اکنامکس کے ایشیا پیسیفک مارکیٹس کے سربراہ تھامس میتھیوز نے کہا کہ گزشتہ مرتبہ جنگ کے دوران ڈالر واضح طور پر سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والی کرنسی تھا۔ تاہم اس بار صورتحال مختلف ہے کیونکہ ڈالر پہلے ہی خاصا مضبوط ہو چکا ہے اور فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسی سے متعلق توقعات کی ازسرِنو قیمت بندی بھی بڑی حد تک ہوچکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرے خیال میں اگر صورتحال مزید بگڑتی بھی ہے تو ضروری نہیں کہ اس بار ڈالر کو اتنا ہی فائدہ ہو جتنا گزشتہ بار ہوا تھا اور اب تک کی مارکیٹ ٹریڈنگ بھی غالباً اسی تاثر کی عکاسی کر رہی ہے۔

ویسٹ پیک کے تجزیہ کاروں نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں لکھا کہ مہنگائی کے خطرات بدستور سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز رہیں گے۔

رائٹرز سے بات کرنے والے بینک آف جاپان کی سوچ سے واقف تین ذرائع کے مطابق مرکزی بینک مالی سال 2026 کے لیے اپنی معاشی ترقی کی پیش گوئی بڑھا سکتا ہے اور مہنگائی کے ہدف سے تجاوز کے خدشات پر توجہ برقرار رکھے گا، کیونکہ کمزور ین اور اے آئی کی مضبوط طلب کے باعث بڑھتی لاگتیں تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات کو جزوی طور پر زائل کر رہی ہیں۔

دوسری جانب کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں بٹ کوائن 2.1 فیصد کمی کے ساتھ 62,790.02 ڈالر پر آ گیا جبکہ ایتھر کی قیمت 2.3 فیصد گھٹ کر 1,779.01 ڈالر رہ گئی۔

Comments

200 حروف