لاہور ایکسپو سینٹر میں تین روزہ سولر اینڈ اسٹوریج ایکسپو کا آغاز
- نمائش میں 100 سے زائد بین الاقوامی اور مقامی کمپنیوں کی شرکت
یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے سر پرست اعلیٰ ایس ایم تنویر اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس ایند انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے ریجنل چیئرمین و نائب صدر ذکی اعجاز نے ایکسپوسنٹر لاہور میں 3 روزہ سولر اینڈ اسٹوریج ایکسپو کا افتتاح کردیا۔
نمائش میں 100 سے زائد بین الاقوامی اور مقامی کمپنیوں نے شرکت کی جہاں جدید سولر ٹیکنالوجی، انرجی اسٹوریج سلوشنز، الیکٹرک گاڑیاں، ای وی بائیکس اور قابلِ تجدید توانائی سے متعلق جدید مصنوعات اور خدمات پیش کی گی ہیں۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایم تنویر اور ذکی اعجاز نے کہا کہ پاکستان کی صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے، توانائی کے تحفظ اور پائیدار معاشی استحکام کے لیے شمسی توانائی کا فروغ ناگزیر ہوچکا ہے۔موجودہ حالات میں صنعتوں کو سستی، قابلِ اعتماد اور ماحول دوست توانائی کی فراہمی ملکی معیشت کی اولین ضرورت ہے، اگر انڈسٹریز کو چلانا ہے تو سستی بجلی مہیا کرنی ہو گی، مستقبل اسی کا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پیک آورز کا بجلی ریٹ کم کریں۔ پنجاب میں الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس زیادہ ہے، پنجاب حکومت ٹیکس کو کم کریں۔
انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ سولر بیٹریز کی خریداری کے لیے صرف 3 فیصد شرح پر خصوصی فنانسنگ اسکیم متعارف کرائی جائے تاکہ خصوصا پنجاب کی صنعت کم لاگت پر توانائی حاصل کرکے عالمی منڈی میں موثر انداز میں مقابلہ کرسکے۔
انہوں نے وزیراعظم میاں شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سولر پینلز، بیٹریز اور انورٹرز پر مزید ٹیکس عائد نہ کرنے کا فیصلہ صنعت، تجارت اور صارفین کے لیے خوش آئند اقدام ہے، تاہم حکومت کو گرین انرجی کے فروغ کے لیے مزید عملی اقدامات بھی کرنے چاہئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت مہنگی بجلی، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، درآمدی ایندھن پر انحصار اور ماحولیاتی آلودگی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، جس کے باعث قومی صنعت کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔دنیا بھر میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک قابلِ تجدید توانائی کو ترجیح دے کر اپنی معیشتوں کو مستحکم بنا رہے ہیں، جبکہ پاکستان کو سال کے بیشتر حصے میں وافر دھوپ کی صورت میں قدرت کا عظیم تحفہ حاصل ہے، جس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments