ورلڈ بینک نے بجلی کے ترسیلی نظام کی بہتری کیلئے 376 ملین ڈالر کی منظوری دیدی
- ورلڈ بینک کے بیان کے مطابق یہ منصوبہ 10 سالہ پروگرام کا پہلا مرحلہ ہے
ورلڈ بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پاکستان کے بجلی کے ترسیلی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے 375.9 ملین ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان میں ٹرانسمیشن کے ذریعے توانائی کے تحفظ کو فروغ دینے کے تحت ملٹی فیز پروگرامیٹک اپروچ کا پہلا مرحلہ ہے۔
ورلڈ بینک کے بیان کے مطابق یہ منصوبہ 10 سالہ پروگرام کا پہلا مرحلہ ہے، جس کا مقصد پاکستان کے بجلی کی ترسیل کے نظام کو جدید بنانا، بجلی کی بندشوں میں کمی لانا اور گھروں، کاروباروں اور صنعتوں تک زیادہ صاف توانائی فراہم کرنا ہے۔
ورلڈ بینک کی پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار نے کہا کہ پاکستان کو درپیش توانائی کے مسائل اس کے مجموعی اقتصادی استحکام سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی مضبوط ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری سے بجلی کی لاگت کم کرنے، قومی گرڈ میں مزید قابلِ تجدید توانائی شامل کرنے اور ایسا بجلی کا نظام تشکیل دینے میں مدد ملے گی جو گھریلو صارفین، کاروبار، صنعت اور مجموعی معیشت کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہوگا۔
ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کا بجلی کا ترسیلی نظام طویل عرصے سے گرڈ کے عدم استحکام اور ٹرانسمیشن کی رکاوٹوں کا شکار ہے، جس کے باعث بجلی کی قابلِ اعتماد فراہمی متاثر ہوتی ہے اور قابلِ تجدید توانائی کی مکمل صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔
ان مسائل کے باعث لاکھوں پاکستانی روزانہ بجلی کی بار بار بندش، زیادہ بجلی کے نرخ اور معاشی مواقع سے محرومی جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔
منصوبے کے تحت ٹرانسمیشن گرڈ کو مستحکم بنانے اور اہم گرڈ اسٹیشنز پر بجلی کی ترسیل بہتر بنانے کے لیے جدید آلات نصب کیے جائیں گے۔
اس میں تین بڑے 500 کے وی گرڈ اسٹیشنز پر اسٹیٹک سنکرونس کمپنسیٹرز کی تنصیب کے علاوہ 26 گرڈ اسٹیشنز پر فکسڈ ری ایکٹرز اور کیپیسٹر بینکس بھی نصب کیے جائیں گے۔
ان اپ گریڈز کے ذریعے اس وقت محدود کی جانے والی 640 میگاواٹ ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی کو قومی گرڈ میں شامل کیا جا سکے گا، جبکہ جنوبی پاکستان میں موجود 1,840 میگاواٹ ونڈ پاور کی مکمل صلاحیت کو طلب کے بڑے مراکز تک منتقل کرنا ممکن ہوگا۔
اس کے علاوہ یہ منصوبہ نجی شعبے کے زیر قیادت تقریباً 491 میگاواٹ کے مجوزہ قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کو بھی قومی گرڈ سے منسلک کرنے میں معاون ہوگا۔
بیان میں کہا گیا کہ ان اقدامات سے پاکستان کو 2030 تک اپنی بجلی کے مجموعی نظام میں 60 فیصد قابلِ تجدید توانائی شامل کرنے کے قومی ہدف کے حصول میں مدد ملے گی، جو پیرس معاہدے کے تحت پاکستان کی قومی ذمہ داریوں سے ہم آہنگ ہے۔
ورلڈ بینک کے مطابق منصوبے کے دوران ہر سال تقریباً 832,500 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے بچا جا سکے گا، جبکہ 25 برس میں مجموعی طور پر 2 کروڑ 8 لاکھ ٹن سے زائد اخراج میں کمی آئے گی۔
ورلڈ بینک کے لیڈ انرجی اسپیشلسٹ ولید صالح السریح نے کہا کہ پاکستان کے توانائی کے مستقبل کے لیے ایک قابلِ اعتماد اور جدید ٹرانسمیشن گرڈ انتہائی ضروری ہے۔“
انہوں نے کہا کہ پروگرام کا یہ پہلا مرحلہ بڑے پیمانے پر صاف توانائی کے فروغ، توانائی کے تحفظ میں اضافے اور ٹرانسمیشن کے شعبے کو جدید اور تجارتی بنیادوں پر استوار کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔ اس مقصد کے لیے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی اصلاحات کی جائیں گی تاکہ مستقبل میں نجی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو۔
منصوبہ حکومت کے جاری ٹرانسمیشن سیکٹر اصلاحاتی ایجنڈے کو بھی آگے بڑھائے گا، جس کے تحت نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کو مختلف خصوصی اداروں میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔
یہ منصوبہ گورننس، جوابدہی، آپریشنل کارکردگی اور بجلی کے شعبے کی طویل مدتی پائیداری کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات پر عملدرآمد کو بھی تیز کرے گا۔
ورلڈ بینک نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے خطرات، خصوصاً دریائی و شہری سیلاب اور شدید گرمی کی لہروں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
اسی لیے منصوبے میں تمام نئی تنصیبات کو موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق محفوظ ڈیزائن کے تحت تعمیر کرنے کی شرط رکھی گئی ہے، جن میں سیلاب سے بچاؤ کے لیے زمین سے بلند پلیٹ فارمز اور 55 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت برداشت کرنے والے آلات شامل ہیں۔
ورلڈ بینک کے مطابق یہ اقدامات مون سون کے موسم اور شدید گرمی کے دوران بھی بجلی کے نظام کی قابلِ اعتماد کارکردگی کو یقینی بنانے میں مدد دیں گے۔


Comments