BR100 Increased By (1.06%)
BR30 Increased By (1.22%)
KSE100 Increased By (0.98%)
KSE30 Increased By (1.07%)
BAFL 58.85 Increased By ▲ 0.09 (0.15%)
BIPL 28.33 Increased By ▲ 0.32 (1.14%)
BOP 36.11 Increased By ▲ 0.15 (0.42%)
CNERGY 9.31 Decreased By ▼ -0.09 (-0.96%)
DFML 20.10 Increased By ▲ 0.32 (1.62%)
DGKC 226.10 Increased By ▲ 2.80 (1.25%)
FABL 101.98 Increased By ▲ 0.66 (0.65%)
FCCL 56.50 Increased By ▲ 1.03 (1.86%)
FFL 17.62 Increased By ▲ 0.14 (0.8%)
GGL 24.78 Decreased By ▼ -0.03 (-0.12%)
HBL 315.67 Increased By ▲ 6.78 (2.19%)
HUBC 228.75 Increased By ▲ 1.82 (0.8%)
HUMNL 11.15 Increased By ▲ 0.04 (0.36%)
KEL 8.13 Increased By ▲ 0.19 (2.39%)
LOTCHEM 31.20 Increased By ▲ 0.77 (2.53%)
MLCF 105.30 Increased By ▲ 2.53 (2.46%)
OGDC 337.55 Increased By ▲ 4.00 (1.2%)
PAEL 45.60 Increased By ▲ 0.53 (1.18%)
PIBTL 18.10 Increased By ▲ 0.08 (0.44%)
PIOC 274.40 Increased By ▲ 2.56 (0.94%)
PPL 237.95 Increased By ▲ 2.33 (0.99%)
PRL 42.04 Increased By ▲ 0.19 (0.45%)
SNGP 114.35 Increased By ▲ 0.12 (0.11%)
SSGC 31.20 Increased By ▲ 0.13 (0.42%)
TELE 9.15 Increased By ▲ 0.15 (1.67%)
TPLP 12.62 Decreased By ▼ -0.05 (-0.39%)
TRG 65.50 Increased By ▲ 0.33 (0.51%)
UNITY 10.24 Increased By ▲ 0.04 (0.39%)
WTL 1.32 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

یورپی یونین کے جی ایس پی پلس تک رسائی انتہائی اہم ہے، اسحاق ڈار

  • اسلام آباد میں کروشیا کے وزیر خارجہ گورڈن گرلچ راڈمین کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس
شائع اپ ڈیٹ

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس (جی ایس پی پلس) تک پاکستان کی رسائی پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اقتصادی تعاون کا ایک اہم ستون اور دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند فریم ورک ہے۔

انہوں نے یہ بات جمعرات کو اسلام آباد میں کروشیا کے وزیر خارجہ گورڈن گرلچ راڈمین کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ یکم جنوری 2027 سے جی ایس پی پلس کے نئے ضوابط نافذ ہونے جا رہے ہیں، جس کے پیش نظر پاکستان نے 2027 کے آغاز میں دوبارہ درخواست جمع کرانے کے لیے تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے۔

دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دونوں وزرائے خارجہ نے زیر التوا معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔

دونوں رہنماؤں نے اسلام آباد میں کروشیا کے ویزا پروسیسنگ مرکز کے قیام پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس وقت پاکستانی درخواست گزاروں کو کروشیا کا ویزا حاصل کرنے کے لیے ایران کے شہر تہران جانا پڑتا ہے۔ کروشیا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ پاکستان میں جلد ویزا پروسیسنگ مرکز قائم کرنے کے خواہاں ہیں تاکہ پاکستانی شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ سطح پر اور پاکستان-یورپی یونین تعلقات کے تناظر میں افرادی قوت کی نقل و حرکت پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔

پاکستان اور کروشیا نے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، عوامی روابط، ویزا سہولیات، تعلیم، دفاع، موسمیاتی تبدیلی، سیاحت، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، آئی ٹی تعاون اور بندرگاہوں کے شعبے سمیت باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ دونوں ممالک کی وزارت خارجہ کے درمیان سیاسی مشاورت سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جائیں گے اور باقاعدگی سے سیاسی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو فعال بنانے اور کاروباری اداروں کے درمیان براہِ راست تعاون کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

نائب وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے کروشیا کے وزیر خارجہ کو کراچی پورٹ کی استعداد، صلاحیت اور علاقائی رابطہ کاری سے متعلق آگاہ کیا، جبکہ دونوں ممالک کی بندرگاہوں کے درمیان تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

کروشیا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک عوامی روابط کو بہت اہمیت دیتا ہے اور وہ پاکستانی شہریوں کو پاکستان کے اندر ہی کروشیا کے ویزے کے لیے درخواست دینے کی سہولت فراہم کرنے پر خوش ہوگا۔

انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی تکمیل میں پاکستان کے سفارتی کردار کو بھی سراہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کروشیا اقوام متحدہ کے امن مشنز میں خواتین کی شمولیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور پاکستانی خواتین پولیس افسران کو اقوام متحدہ سے منظور شدہ پری ڈیپلائمنٹ تربیتی پروگراموں میں خوش آمدید کہے گا۔

اس سے قبل نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے وزارت خارجہ میں کروشیا کے وزیر برائے خارجہ و یورپی امور ڈاکٹر گورڈن گرلچ راڈمین اور ان کے وفد کا استقبال کیا۔

دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ علاقائی روابط پائیدار ترقی، علاقائی استحکام اور عالمی اقتصادی انضمام کے لیے انتہائی اہم ہیں، اور اسی تناظر میں پاکستان اور کروشیا کی بندرگاہوں کے درمیان تعاون کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف