BR100 Decreased By (-0.85%)
BR30 Decreased By (-3.01%)
KSE100 Decreased By (-2.48%)
KSE30 Decreased By (-2.5%)
BAFL 59.26 Decreased By ▼ -2.47 (-4%)
BIPL 28.16 Decreased By ▼ -1.06 (-3.63%)
BOP 35.93 Decreased By ▼ -1.44 (-3.85%)
CNERGY 8.72 Increased By ▲ 0.23 (2.71%)
DFML 19.51 Decreased By ▼ -0.59 (-2.94%)
DGKC 224.29 Decreased By ▼ -8.97 (-3.85%)
FABL 101.05 Decreased By ▼ -2.80 (-2.7%)
FCCL 56.18 Decreased By ▼ -1.57 (-2.72%)
FFL 17.53 Decreased By ▼ -0.36 (-2.01%)
GGL 24.55 Decreased By ▼ -1.67 (-6.37%)
HBL 309.21 Decreased By ▼ -9.38 (-2.94%)
HUBC 227.41 Decreased By ▼ -6.03 (-2.58%)
HUMNL 11.02 Decreased By ▼ -0.18 (-1.61%)
KEL 7.86 Decreased By ▼ -0.25 (-3.08%)
LOTCHEM 29.52 Decreased By ▼ -1.02 (-3.34%)
MLCF 102.17 Decreased By ▼ -4.89 (-4.57%)
OGDC 335.45 Decreased By ▼ -7.87 (-2.29%)
PAEL 44.65 Decreased By ▼ -2.37 (-5.04%)
PIBTL 17.83 Decreased By ▼ -0.79 (-4.24%)
PIOC 272.69 Decreased By ▼ -7.86 (-2.8%)
PPL 238.78 Decreased By ▼ -8.04 (-3.26%)
PRL 38.43 Increased By ▲ 1.18 (3.17%)
SNGP 113.86 Decreased By ▼ -4.48 (-3.79%)
SSGC 30.30 Decreased By ▼ -1.64 (-5.13%)
TELE 9.00 Decreased By ▼ -0.18 (-1.96%)
TPLP 12.65 Decreased By ▼ -0.67 (-5.03%)
TRG 64.50 Decreased By ▼ -3.00 (-4.44%)
UNITY 10.35 Decreased By ▼ -0.26 (-2.45%)
WTL 1.33 Increased By ▲ 0.06 (4.72%)
دنیا

چین میں طوفانی بارشوں کے بعد زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری، سپر طوفان کی آمد قریب

  • چینی حکام نے متاثرہ علاقوں میں خوراک، برساتی لباس، ربڑ کی کشتیاں اور اضافی امدادی سامان روانہ کر دیا
شائع اپ ڈیٹ

چین میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے تباہی کے بعد بدھ کو امدادی کارکن زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف رہے، جبکہ متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے اپنے تباہ شدہ گھروں کی صفائی شروع کر دی۔ ان طوفانوں کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک ہوئے، درجنوں دریا بپھر گئے اور ایک آبی ذخیرے کا بند ٹوٹ گیا۔

رواں ہفتے جنوبی اور وسطی چین شدید موسمی تباہ کاریوں کی لپیٹ میں رہا، جبکہ ایک سپر طوفان ہفتے کے اختتام پر ملک کے مشرقی صوبوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔

حکام کے مطابق جنوبی علاقے گوانگ شی میں مے ساک طوفان کے باعث ہونے والی موسلادھار بارشوں اور شدید سیلاب سے 6 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ کم از کم ایک لاکھ 30 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

سرکاری میڈیا کے مطابق تیز رفتار گدلے پانی نے علاقے کے 40 دریاؤں اور آبی گزرگاہوں کے کنارے توڑ دیے، جس سے تقریباً 13 ہزار ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی۔

لیولان گاؤں میں، جہاں آبی ذخیرے کا بند ٹوٹ گیا تھا، بدھ کو خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نمائندوں کی آمد تک سیلابی پانی اتر چکا تھا، تاہم گلیاں اور مکانات اب بھی موٹی کیچڑ میں ڈوبے ہوئے تھے۔

رپورٹرز نے کئی گاڑیاں قریبی کھیتوں میں دیکھی جو سیلابی ریلے میں بہہ کر مٹی میں دھنس چکی تھیں۔

مقامی رہائشی وو یوہاؤ نے کہا، ”قدرتی آفات کے سامنے ہم خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں، لیکن اب معاشرے کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور فوج ہماری مدد کر رہے ہیں، جس سے ہمیں اتحاد اور اجتماعی قوت کا حقیقی احساس ہو رہا ہے۔“

آبی ذخیرے کا پانی اب بھی تیز رفتاری سے دریا میں بہہ رہا تھا، جبکہ امدادی ٹیم نے دریا کے دوسری جانب پھنسے افراد تک خوراک اور ضروری سامان پہنچانے کے لیے بڑے ڈرون روانہ کیے۔

سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق چینی حکام نے متاثرہ علاقوں میں خوراک، برساتی لباس، ربڑ کی کشتیاں اور دیگر امدادی سامان بھی روانہ کر دیا ہے۔

اس سے قبل سرکاری ٹی وی سی سی ٹی وی کی جاری کردہ ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ آبی ذخیرے کے ٹوٹے ہوئے کنکریٹ کے بند کے ساتھ سیلابی ریلہ زور سے بہہ رہا ہے، جبکہ لائف جیکٹس پہنے امدادی کارکن پھلانے والی کشتیوں کے ذریعے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

قریبی قصبوں اور دیہات کے رضاکار بھی سرکاری امدادی ٹیموں کے شانہ بشانہ امدادی سرگرمیوں میں شریک ہو گئے۔

رضاکار چِن چیو یو نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا، ”متاثرہ علاقوں میں آ کر دل بہت بوجھل ہو جاتا ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ مقامات پر لوگ مسلسل مدد کے لیے پکار رہے ہیں اور انہیں ہماری فوری مدد درکار ہے۔“

قریبی شہر ہینگ ژو کے ایک ریسٹورنٹ ملازم ہوانگ نے بتایا کہ ”کئی مکانات منہدم ہو گئے اور سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔“

شدید آزمائش

لیولان میں اے ایف پی کے نمائندوں نے دیکھا کہ متاثرین اپنے تباہ شدہ گھروں کی صفائی کے طویل عمل کا آغاز کر چکے ہیں، جبکہ بعض افراد کھدائی کرنے والی مشینوں کے ذریعے خراب شدہ گھریلو سامان ایک ہی بار میں باہر نکال رہے تھے۔

سی سی ٹی وی کے مطابق گوانگ شی میں تقریباً تین لاکھ 75 ہزار افراد اس قدرتی آفت سے متاثر ہوئے ہیں۔

ریاستی سیلاب اور خشک سالی سے نمٹنے کے ہیڈکوارٹر کے مطابق گوانگ شی کے حکام نے سیلاب سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کی دوسری بلند ترین سطح برقرار رکھی ہے۔

وزیرِ آبی وسائل لی گوئویِنگ نے کہا کہ گوانگ شی کے ووجو ہائیڈرولوجیکل اسٹیشن پر جمعرات کی صبح پانی کی سطح خطرے کے نشان سے چھ میٹر سے زیادہ بلند ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا، ”مسلسل موسلادھار بارشوں اور طویل عرصے تک بلند سطح کے سیلابی پانی کے باعث متاثرہ علاقوں میں آبی ذخائر اور حفاظتی پشتوں کی سلامتی کو شدید آزمائش کا سامنا ہے۔“

دوسری جانب وسطی صوبے ہوبے میں گرج چمک، شدید آندھیوں اور تیز ہواؤں کے باعث 11 افراد ہلاک اور 331 زخمی ہوئے، جبکہ پیر کی شب دیگر علاقوں میں گردباد بھی رپورٹ ہوئے۔

شِنہوا کے مطابق ہوبے میں ایک شخص لاپتا ہے، 4 ہزار 800 مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ مزید 22 مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔

سپر طوفان کی آمد

ادھر مشرقی صوبے سپر طوفان باوی کی آمد کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جس کے ہفتہ اور اتوار کے درمیان ژی جیانگ اور فوجیان کی سرحد کے قریب ساحل سے ٹکرانے کا امکان ہے۔

سی سی ٹی وی نے قومی محکمہ موسمیات کے حوالے سے بتایا کہ طوفان تائیوان کے مشرقی سمندری علاقوں سے شمال کی جانب بڑھ کر براہِ راست ژی جیانگ کے ساحل سے بھی ٹکرا سکتا ہے۔

باوی اس ہفتے کے آغاز میں امریکا کے بحرالکاہل میں واقع علاقوں سے گزرا، جہاں گوام اور شمالی ماریانا میں دسیوں ہزار افراد بجلی سے محروم ہو گئے۔

چین میں قدرتی آفات، خصوصاً گرمیوں کے موسم میں، معمول کی بات ہیں، جب بعض علاقوں میں شدید بارشیں ہوتی ہیں جبکہ دیگر حصے شدید گرمی کی لپیٹ میں رہتے ہیں۔

تاہم سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ فوسل ایندھن کے استعمال سے کرۂ ارض کے مسلسل گرم ہونے کے باعث دنیا بھر میں شدید موسمی واقعات کی شدت اور تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔

دریں اثنا، شمال مغربی صوبے گانسو میں منگل کو ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 21 ہو گئی ہے، جبکہ تلاش اور امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

حکام نے ہوبے میں بے گھر ہونے والے افراد کی آبادکاری کے لیے 7 کروڑ یوان (ایک کروڑ ڈالر) اور گانسو میں تعمیرِ نو کے لیے مزید 6 کروڑ یوان مختص کیے ہیں۔

Comments

200 حروف