لاگت میں کمی کے بغیر ٹیرف اصلاحات سے مسابقت ممکن نہیں
- صنعتوں کو بتدریج مقابلے کے لیے تیار کیا جائے، ٹیرف دیواریں گرانے سے پہلے کاروباری بنیادیں مضبوط کرنا ذہانت پر مبنی معاشی فیصلہ ہوگا
اس دلیل میں وزن ہے کہ پاکستان کی صنعت کو مستقل تحفظ فراہم کر کے مسابقتی نہیں بنایا جا سکتا۔ کوئی بھی معیشت محض ٹیرف (کسٹم ڈیوٹی) کی اونچی دیواریں کھڑی کرکے اور مقامی مینوفیکچررز کو عالمی مقابلے سے ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھ کر صنعتی ترقی نہیں کر سکتی۔
صنعتوں کو بالآخر پیداواری صلاحیت، معیار، جدت پسندی، بڑے پیمانے پر پیداوار اور برآمدی کارکردگی کی بنیاد پر مقابلہ کرنا سیکھنا ہوگا۔ اس تناظر میں ٹیرف کو معقول اور متوازن بنانے پر ایک سنجیدہ بحث نہ صرف ضروری ہے بلکہ اس میں پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے۔تاہم اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان نے وہ بنیادی حالات پیدا کیے ہیں جن کے تحت اس کی صنعت مقابلہ کر سکے؟ ٹیرف کے تحفظ پر کاروبار کی لاگت کو نظر انداز کرکے تنہا بحث نہیں کی جا سکتی۔پاکستان کا ایک کارخانہ دار اس ماحول میں کام نہیں کر رہا جو بنگلہ دیش، بھارت، ویتنام، ترکیہ یا دیگر مسابقتی معیشتوں کے مینوفیکچرر کو میسر ہے۔پاکستانی پروڈیوسر پر توانائی کی اونچی قیمتوں، بلند شرح سود، ٹیکسوں کی کثیر تہوں، ریفنڈز میں تاخیر، ریگولیٹری رکاوٹوں، کمزور لاجسٹکس، پالیسیوں کی بار بار تبدیلی اور قوانین کے نفاذ میں غیر یقینی صورتحال کی شکل میں کہیں زیادہ بھاری بوجھ عائد ہے۔اگر ان ساختی خامیوں اور نقصانات کو دور نہ کیا گیا تو ٹیرف میں کمی سے خود بخود کارکردگی پیدا نہیں ہوگی۔ اس کے برعکس یہ مقامی صنعت کو ایک ایسے مقابلے کے سامنے لا کھڑا کرے گی جس کے لیے اسے منصفانہ طور پر تیار ہی نہیں کیا گیا۔ ایسی صورتحال میں اس کا نتیجہ درآمدات میں اضافے، مقامی پیداوار میں کمی، ملازمتوں کے خاتمے، زرِ مبادلہ پر دباؤ اور صنعتی بنیادوں کی مزید کمزوری کی شکل میں نکل سکتا ہے۔
پاکستان کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اس کی صنعت کو تحفظ حاصل ہے، بلکہ اصل اور گہرا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں صنعت چلانا بہت مہنگا ہے۔ گردشی قرضے، کراس سبسڈیز، بجلی اور گیس کے شعبوں کی نااہلی اور مالیاتی دباؤ کے باعث صنعت کے لیے بجلی اور گیس کے نرخوں میں بار بار اضافہ کیا گیا ہے۔بینکوں سے قرضے مہنگے ہیں، جس کی وجہ سے مشینری، ٹیکنالوجی اور ورکنگ کیپیٹل (روزمرہ کے اخراجات کے لیے سرمایہ) میں سرمایہ کاری مشکل ہو گئی ہے۔ ٹیکسیشن کا نظام نہ صرف بھاری ہے بلکہ پیچیدہ اور غیر یقینی بھی ہے۔ ریفنڈز اکثر تاخیر کا شکار ہوتے ہیں، جس سے کاروبار چلانے کے لیے نقد رقم کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ان سب کے علاوہ کاروباری اداروں کو اچانک پالیسی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے: ایک سال درآمدات پر پابندیاں ہوتی ہیں تو اگلے سال آزادی دے دی جاتی ہے، ایک بجٹ میں خصوصی ٹیکس لگائے جاتے ہیں تو دوسرے میں مراعات واپس لے لی جاتی ہیں، کسٹمز ڈیوٹیز، ریگولیٹری ڈیوٹیز، سیلز ٹیکس کے طریقہ کار اور دستاویزات کی شرائط میں اچانک تبدیلیاں کر دی جاتی ہیں۔ایسے ماحول میں کوئی بھی سرمایہ کار اعتماد کے ساتھ منصوبہ بندی نہیں کر سکتا۔ صنعتی سرمایہ کاری کوئی قلیل مدتی تجارت نہیں ہے۔ اس کے لیے زمین، مشینری، لیبر، ٹیکنالوجی، کوالٹی کنٹرول، سپلائی چین اور برآمدی منڈیوں کی ترقی میں طویل مدتی وابستگی درکار ہوتی ہے۔
اس مقصد کے لیے کاروباری اداروں کو پالیسی کے استحکام کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں کھیل کے قوانین کا پہلے سے علم ہونا چاہیے۔ اگر قوانین مسلسل بدلتے رہیں تو سرمایہ کار یا تو توسیع کے منصوبے ملتوی کر دیتے ہیں یا پھر اپنا سرمایہ تجارت، رئیل اسٹیٹ، مالیاتی اثاثوں یا درآمدی سرگرمیوں میں منتقل کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایک وسیع اور مسابقتی مینوفیکچرنگ بیس بنانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔یہ تسلیم کرنا بھی اہم ہے کہ ہر طرح کا تحفظ برا نہیں ہوتا اور ہر طرح کی لبرلائزیشن (مارکیٹ کو ہر قسم کی درآمدات کے لیے کھول دینا) اچھی نہیں ہوتی۔ وہ ممالک جو آج کامیاب برآمد کنندگان ہیں، وہ راتوں رات مسابقتی نہیں بنے۔ان میں سے بہت سے ممالک نے مقامی صلاحیتوں کی تعمیر کے لیے سرکاری سرپرستی، انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری، برآمدی مراعات، سستے قرضوں، مہارتوں کی ترقی، ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن اور ایک مقررہ مدت کے لیے تحفظ کا سہارا لیا۔فرق صرف یہ تھا کہ وہاں تحفظ کو کارکردگی سے جوڑا گیا تھا۔ صنعتوں سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ پیداواری صلاحیت کو بہتر بنائیں، برآمدات میں اضافہ کریں، ٹیکنالوجی کو جدید بنائیں اور روزگار کے مواقع پیدا کریں۔ وہاں تحفظ کو مستقل حق نہیں سمجھا گیا تھا۔
پاکستان کو بھی اسی طرح کا متوازن طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے۔ ٹیرف اصلاحات بتدریج، قابلِ پیش گوئی اور صنعت کے ٹھوس نتائج سے منسلک ہونی چاہئیں۔خام مال، انٹرمیڈیٹ گڈز (نیم تیار شدہ مال) اور جدید مشینری پر ٹیرف کو معقول بنایا جانا چاہیے، تاکہ پیداواری لاگت کم ہو سکے۔ اس سے مقامی مینوفیکچررز کو زیادہ مسابقتی بننے میں مدد مل سکتی ہے لیکن توانائی کی لاگت، مالیاتی اخراجات اور ٹیکسوں کا بوجھ کم کیے بغیر تیار شدہ اشیاء پر تحفظ میں اچانک کمی مقامی پیداوار کو نقصان پہنچائے گی اور درآمدات پر انحصار کو فروغ دے گی۔مقصد نااہلی کو تحفظ دینا نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی معیشت کو اس انداز میں کھولنا ہونا چاہیے جو پیداوری صلاحیت کو ہی تباہ کر دے۔
مقصد مسابقت پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ اس کے لیے ٹیرف اصلاحات کو ایک وسیع تر صنعتی پالیسی کا حصہ بننا ہوگا۔ اس پالیسی میں برآمدی اور روزگار پیدا کرنے والے شعبوں کے لیے خطے کے لحاظ سے مسابقتی توانائی کے نرخ، آسان اور کم ٹیکس نظام، ریفنڈز کی بروقت ادائیگی، مشینری اور ان پٹس (خام مال) کی آسان درآمد، کسٹمز کے بہتر طریقہ کار، بہتر لاجسٹکس، اسمگلنگ اور انڈر انوائسنگ کے خلاف سخت کارروائی اور پالیسی کے نفاذ میں تسلسل شامل ہونا چاہیے۔اس کے ساتھ ہی مقامی صنعت کو بھی اپنی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔ تحفظ غیر مشروط نہیں ہو سکتا۔ ٹیرف کی مدد حاصل کرنے والے شعبوں کو پیداواری صلاحیت، معیار میں بہتری، ٹیکنالوجی اپنانے، لوکلائزیشن (مقامی سطح پر پرزہ جات کی تیاری)، روزگار کی فراہمی اور برآمدات میں اپنی پیش رفت دکھانی ہوگی۔جہاں صنعتیں کارکردگی کو بہتر بنائے بغیر صرف ٹیرف کی اونچی دیواروں پر انحصار کرتی رہیں، وہاں مزید تحفظ کا جواز کمزور پڑ جاتا ہے لیکن جہاں صنعتیں سرمایہ کاری کر رہی ہیں، برآمدات بڑھا رہی ہیں، ملازمتیں پیدا کر رہی ہیں اور ویلیو ایڈیشن (قیمت میں اضافہ) کر رہی ہیں وہاں ریاست کو ایک شفاف اور وقت کے تعین کے ساتھ ان کی حمایت کرنی چاہیے۔
پاکستان میں پالیسی کی بحث اکثر دو انتہاؤں کے درمیان گھومتی ہے۔ ایک فریق تحفظ کی یوں حمایت کرتا ہے جیسے مقامی صنعت کو ہمیشہ کے لیے محفوظ رہنے کا کوئی خودکار حق حاصل ہو۔ دوسرا فریق لبرلائزیشن کی یوں وکالت کرتا ہے جیسے صرف ٹیرف کم کرنے سے جادوئی طور پر کارکردگی پیدا ہو جائے گی۔ یہ دونوں مؤقف ادھورے ہیں۔ ایک سنجیدہ پالیسی کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مسابقت صرف مارکیٹ کو کھلا چھوڑ دینے سے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ یہ ساختی لاگت کو کم کرنے، پالیسی کے استحکام، گورننس کو بہتر بنانے اور صنعت سے کارکردگی کا تقاضا کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔
ملک کو اصلاحات کے ایک تسلسل کی ضرورت ہے۔ پہلے مرحلے میں کاروبار کرنے کی لاگت کو کم کیا جائے۔ دوسرے مرحلے میں خام مال اور مشینری پر ٹیرف کو معقول بنایا جائے۔ تیسرے مرحلے میں حقیقی صلاحیت رکھنے والے شعبوں کو مقررہ وقت اور کارکردگی سے مشروط سپورٹ فراہم کی جائے۔ چوتھے میں صنعتوں کو ایک پہلے سے طے شدہ روڈ میپ کے مطابق بتدریج مقابلے کے سامنے لایا جائے۔ ایسا تسلسل سرمایہ کاروں کو اعتماد دے گا اور صنعت کو بغیر کسی ناگزیر ڈی انڈسٹریلائزیشن (صنعتوں کی بندش) کے کارکردگی کی طرف راغب کرے گا۔ٹیرف کی دیواریں ہمیشہ نہیں رہ سکتیں لیکن انہیں گرانے سے پہلے گھر کی بنیاد کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ اگر بنیاد کمزور ہو تو دیوار ہٹانے سے مسابقت پیدا نہیں ہوگی بلکہ مکان کی کمزوری کھل کر سامنے آ جائے گی۔ پاکستان کو ایک زیادہ کھلی اور مسابقتی معیشت کی طرف بڑھنا چاہیے، لیکن اسے یہ کام ذہانت اور تدبر سے کرنا ہوگا۔
تجارتی پالیسی کو پیداوار، روزگار، سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دینا چاہیے، نہ کہ اس کا مقصد صرف درآمدات کو آسان بنانا ہو۔ حقیقی اصلاحات تحفظ کو ختم کرکے مارکیٹ کو بے آسرا چھوڑ دینے میں نہیں، بلکہ مہنگے، غیر یقینی اور غیر موثر صنعتی حالات کو ایک مستحکم، مسابقتی اور ترقی کے حامل معاشی ماحول سے بدلنے میں پنہاں ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments