ڈالر دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر آگیا، جاپانی ین 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب
- ابتدائی کاروبار میں یورو 1.1435 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 1.3351 ڈالر پر ٹریڈ ہوا
امریکی ڈالر پیر کے روز تقریباً دو ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب مستحکم رہا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) کی جانب سے رواں سال شرح سود میں اضافے کی توقعات کم کر دی ہیں۔ دوسری جانب جاپانی ین تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب برقرار رہا، جس سے جاپانی حکومت کی ممکنہ مداخلت کے خدشات برقرار ہیں۔
ابتدائی کاروبار میں یورو 1.1435 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 1.3351 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جبکہ ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کو چھ بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں جانچتا ہے، 100.9 پر رہا۔
جاپانی ین 161.57 فی ڈالر کی سطح پر رہا، جو گزشتہ ہفتے ریکارڈ کی گئی 1986 کے بعد کی کم ترین سطح 162.84 سے زیادہ دور نہیں۔ ماہرین کے مطابق سرمایہ کار جاپانی حکام کی ممکنہ مداخلت کے خدشات کے باعث محتاط ہیں۔
گزشتہ ہفتے امریکی روزگار کے کمزور اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد ڈالر میں اپریل کے بعد سب سے بڑی ہفتہ وار کمی دیکھی گئی، کیونکہ جون میں ملازمتوں کی شرح نمو توقعات سے کم رہی، جس سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوئے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بے روزگاری کی شرح میں کمی سے امریکی لیبر مارکیٹ اب بھی مضبوط دکھائی دیتی ہے، تاہم سرمایہ کاروں کی توجہ اس ہفتے فیڈرل ریزرو کے جون کے اجلاس کی کارروائی (منٹس) پر مرکوز رہے گی، جس سے آئندہ شرح سود سے متعلق پالیسی کا بہتر اندازہ ہو سکے گا۔
ادھر جنوبی کوریا کی کرنسی وون میں بھی معمولی بہتری دیکھی گئی، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان کی جانب سے ممکنہ مداخلت اگر ہوئی بھی تو اس کے اثرات عارضی ہوں گے اور بنیادی معاشی عوامل میں تبدیلی کے بغیر ین کو دیرپا سہارا ملنا مشکل ہے۔


Comments