پاکستان میں اصلاحات کا نفاذ : دیوانے کا خواب یا لاحاصل کوشش؟
- دنیا بھر میں کاروباری لائسنس سیکنڈوں میں ملتے مگر پاکستان میں فرسودہ کاغذی نظام اور طویل انتظار نے کاروبار کو شدید نقصان پہنچایا ہے
اپنے وجود کے بیشتر حصے میں پاکستان نوآبادیاتی دور سے وراثت میں ملنے والے قوانین کے تحت چلایا جاتا رہا ہے، ایسے قوانین جو ایک مختلف وقت اور سچ پوچھیں تو ایک بالکل مختلف دنیا کے لیے لکھے گئے تھے۔
جب باقی دنیا آگے بڑھ گئی اور ٹیکنالوجی نے کاروباری لائسنس کے حصول کو سیکنڈوں کا کام بنا دیا ہے، پاکستان طویل قطاروں، ضرورت سے زیادہ کاغذی کارروائی اور کبھی نہ ختم ہونے والے انتظار میں پھنسا رہا۔ اس کا اصل نقصان پاکستان میں کاروبار کرنے والوں کو سب سے زیادہ اٹھانا پڑا۔ بالآخر سال 2024 میں حکومت نے ملک کے فرسودہ ریگولیٹری نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا عزم کیا ہے۔
تب سے اس عمل کی رفتار تیز ہوئی ہے۔ نئی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں، منصوبے تیار کیے گئے ہیں اور اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ عزائم تو حقیقی ہیں لیکن جو وعدہ کیا جا رہا ہے اور جو کچھ حقیقت میں نافذ ہو رہا ہے، اس کے درمیان کا فاصلہ بھی اتنا ہی تلخ اور اسی فاصلے کے پیچھے ایک پوری کہانی چھپی ہوئی ہے۔
بہت سی اصلاحات کے نفاذ کے لیے پہلے قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے نئے قوانین کا مسودہ تیار کرنا، متعلقہ قانونی اداروں سے ان کی منظوری لینا اور پھر آخر کار انہیں کابینہ یا پارلیمنٹ سے پاس کروانا۔ نظریاتی حد تک تو یہ ایک معقول عمل لگتا ہے، لیکن عملی طور پر اصلاحات کے یہ مسودے مہینوں، اور بعض اوقات برسوں سرکاری دفاتر میں پڑے رہتے ہیں اور ایک ایسی قطار میں اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں جو کبھی بھی تیزی سے آگے بڑھتی دکھائی نہیں دیتی۔ پھر اس میں انسانی عنصر بھی شامل ہے۔ سرکاری افسران کا باقاعدگی سے ایک عہدے سے دوسرے عہدے پر تبادلہ ہوتا رہتا ہے اور جب وہ جاتے ہیں تو اکثر اپنے ساتھ اس اصلاحاتی کام کی رفتار بھی لے کرچلے جاتے ہیں جس پر وہ کام کر رہے ہوتے ہیں۔ نیا آنے والا شخص بالکل صفر سے شروعات کرتا ہے، اگر وہ شروعات کرے تو ایسا کوئی نظام موجود ہی نہیں جو کسی ایسی اصلاح کے لیے کسی کو جوابدہ ٹھہرائے جو تبادلے کے بعد خاموشی سے دم توڑ جاتی ہے۔ اس ماحول میں تاخیر کے کوئی حقیقی نقصانات نہیں ہیں اور اسی لیے یہ کلچر پروان چڑھتا ہے۔
اصلاحات کی ایک بڑی تعداد کو نافذ کرنے کے لیے ایک سے زیادہ سرکاری محکموں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کسی ایک ادارے کے پاس ان سب کو متحرک کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ رابطہ کاری کرنے والا ادارہ فالو اپ کر سکتا ہے، یاد دہانیاں بھیج سکتا ہے اور سفارشات پیش کر سکتا ہے، لیکن وہ کسی کو مجبور نہیں کر سکتا۔ اس کا نتیجہ بالکل واضح نکلتا ہے، ہر محکمہ یہ سمجھتا ہے کہ دوسرا پہلے قدم اٹھائے گا اور آخر کار دونوں ہی کچھ نہیں کرتے۔اسی طرح وفاق اور صوبوں کی تقسیم اس میں مزید ایک اور الجھن پیدا کرتی ہے۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل 18ویں ترمیم کے نتیجے میں جب صوبوں کو زیادہ اختیارات منتقل کیے گئے تو وفاق کے بہت سے اصلاحاتی فیصلے اب خود بخود پورے ملک پر لاگو نہیں ہوتے۔ اسلام آباد میں دستخط شدہ معاہدے کی لاہور یا کراچی میں اس وقت تک کوئی حیثیت نہیں ہوتی جب تک کہ متعلقہ صوبہ الگ سے اس پر متفق نہ ہو جائے اور اس معاہدے کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔ یوں اصلاحات ادھوری رہ جاتی ہیں، جو کہ کئی معاملات میں اصل مسئلے سے بھی زیادہ الجھن پیدا کر دیتی ہیں۔
اصلاحات کا ایک بڑا حصہ ٹیکنالوجی پر منحصر ہےجس میں نئے آن لائن سسٹمز، ڈیجیٹل پورٹلز اور یکجا کیے گئے ڈیٹا بیسز شامل ہیں۔ یہ چیزیں سننے میں تو بہت سادہ لگتی ہیں لیکن اب یہ خود تاخیر کی ایک الگ وجہ بن چکی ہیں۔ سرکاری محکمے اپنے ڈیجیٹل سسٹمز بنانے اور انہیں چلانے کے لیے مکمل طور پر ایک ہی ٹیکنالوجی کے ادارے پر انحصار کرتے ہیں اور جب وہ ادارہ سست روی کا شکار ہو یا اس پر کام کا زیادہ بوجھ ہو تو اس کے پیچھے موجود ہر چیز ٹھپ ہو کر رہ جاتی ہے۔ پورٹلز سالہا سال ”زیرِ تعمیر“ رہتے ہیں اور سسٹمز غیر معینہ مدت تک ”بس تیار ہونے والے ہیں“ کی کیفیت میں رہتے ہیں۔
حتیٰ کہ جب فنڈز منظور ہو جاتے ہیں اور کسی منصوبے کو ہری جھنڈی مل جاتی ہے، تب بھی رقم اکثر وقت پر متعلقہ محکمے تک نہیں پہنچ پاتی یا بالکل ہی نہیں پہنچتی۔ کام کے آرڈرز جاری ہونے کے علاوہ معاہدوں پر دستخط بھی ہو جاتے ہیں اور پھر۔۔۔۔کچھ بھی نہیں ہوتا۔ فنڈز منظوریوں کی ایک ایسی سست رفتار زنجیر میں پھنس جاتے ہیں جس کے پاس جلدی کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی۔ انسان کو اس اسپیڈ شیٹ (دستاویز) پر ترس آنے لگتا ہے جو کسی کی میز پر پڑی ہوتی ہے، جو منظور شدہ اور مکمل بجٹ کے ساتھ ہونے کے باوجود کہیں آگے نہیں بڑھ پاتی۔ اس طرح کچھ ایسی اصلاحات بھی ہیں جو ایک بہت ہی معمولی چیز کی وجہ سے رک جاتی ہیں یعنی ایک خالی کرسی۔ کچھ فیصلے صرف ایک بورڈ، کمیٹی یا اتھارٹی ہی لے سکتی ہے اور اتفاق سے اس ادارے کے سربراہ کا عہدہ خالی ہوتا ہے۔ ہم نے اکثر ایسی کہانیاں سنی ہیں کہ مدت ختم ہو گئی، نشست ابھی تک بھری نہیں گئی اور قانونی طور پر کسی دوسرے کے پاس قدم آگے بڑھانے کا اختیار ہی نہیں ہے۔
اصلاحات سیاسی عزم یا بجٹ کی منظوری کے لیے نہیں، بلکہ صرف اس لیے رکی رہتی ہیں کہ کوئی آئے اور اس خالی کرسی پر بیٹھے۔ چنانچہ یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ ” کیا پاکستان میں ریگولیٹری اصلاحات کا نفاذ واقعی ایک لاحاصل کوشش یا سراب کا پیچھا کرنا ہے؟“ مکمل طور پر ایسا نہیں ہے۔ جس عمل کا آغاز ہو چکا ہے، اسے یکسر مسترد کر دینا ناانصافی ہوگی۔ نیت سچی ہے، رفتار میں تیزی آئی ہے اور ایمانداری سے یہ نشاندہی کرنے کا جذبہ کہ چیزیں کہاں غلط ہو رہی ہیں، خود اتنی بڑی بات ہے جو بہت سی حکومتیں نہیں کر پاتیں۔ اس کی اپنی ایک اہمیت ہے۔
تاہم یہ بات جتنی بھی تلخ لگے، سچ یہی ہے کہ اچھی نیت سے لائسنس کا حصول آسان نہیں ہو جاتا۔ بلند و بانگ اہداف سے کوئی پورٹل فعال نہیں ہو جاتا۔ پاکستان کسی سراب کا پیچھا نہیں کر رہا بلکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ منزل کہاں ہے۔ اس نے اس منزل کے بارے میں کئی تفصیلی رپورٹیں بھی لکھ رکھی ہیں۔ جو چیز اس نے اب تک تیار نہیں کی، وہ اس منزل کو حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے کا ایک قابلِ اعتماد طریقہ کار ہے۔ جب تک یہ صورتحال تبدیل نہیں ہوتی، یہ دوڑ جاری رہے گی اور کامیابی، ہمیشہ کی طرح پہنچ سے بس تھوڑی ہی دور رہے گی۔
نوٹ : ضروری نہیں کہ اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتے ہوں۔


Comments