BR100 Increased By (1.08%)
BR30 Increased By (0.93%)
KSE100 Increased By (0.83%)
KSE30 Increased By (0.83%)
BAFL 58.39 Increased By ▲ 1.49 (2.62%)
BIPL 27.00 Increased By ▲ 0.18 (0.67%)
BOP 35.16 Increased By ▲ 0.12 (0.34%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.07 (0.87%)
DFML 19.90 Increased By ▲ 0.48 (2.47%)
DGKC 221.97 Increased By ▲ 1.91 (0.87%)
FABL 99.15 Increased By ▲ 1.18 (1.2%)
FCCL 58.15 Increased By ▲ 1.96 (3.49%)
FFL 17.85 Increased By ▲ 0.17 (0.96%)
GGL 23.48 Decreased By ▼ -0.12 (-0.51%)
HBL 295.96 Increased By ▲ 5.77 (1.99%)
HUBC 231.00 Increased By ▲ 3.55 (1.56%)
HUMNL 11.10 Increased By ▲ 0.17 (1.56%)
KEL 8.59 Increased By ▲ 0.02 (0.23%)
LOTCHEM 28.17 Increased By ▲ 0.63 (2.29%)
MLCF 106.90 Increased By ▲ 0.39 (0.37%)
OGDC 334.80 Decreased By ▼ -0.40 (-0.12%)
PAEL 45.45 Increased By ▲ 0.45 (1%)
PIBTL 18.76 Increased By ▲ 0.49 (2.68%)
PIOC 270.79 Increased By ▲ 0.75 (0.28%)
PPL 245.92 Increased By ▲ 1.43 (0.58%)
PRL 35.35 Increased By ▲ 0.41 (1.17%)
SNGP 120.80 Increased By ▲ 2.20 (1.85%)
SSGC 32.24 Increased By ▲ 1.41 (4.57%)
TELE 8.85 Increased By ▲ 0.15 (1.72%)
TPLP 10.73 Increased By ▲ 0.47 (4.58%)
TRG 63.85 Increased By ▲ 0.49 (0.77%)
UNITY 10.72 Increased By ▲ 0.06 (0.56%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.01 (0.81%)
مارکٹس

ایپل آئی فون 18 پرو کی سپلائر لسٹ، پرزے اور تصاویر ڈارک ویب پر لیک

  • یہ انکشاف ایپل اور ٹاٹا کے باہمی تعلقات کو بھی خراب کرسکتا ہے، ذرائع
شائع June 30, 2026 اپ ڈیٹ June 30, 2026 12:27pm

امریکی کمپنی ایپل کے بھارتی سپلائر ٹاٹا الیکٹرانکس سے ڈیٹا چوری کرنے والے رینسم ویئر گروپ کی جانب سے ڈارک ویب پر جاری کی گئی فائلوں میں پرزہ جات اور سپلائرز کی حساس فہرستیں اور ایپل کے آئندہ آئی فون 18 پرو ماڈلز کی تصاویر بھی شامل ہیں۔

یہ انکشاف آئی فون کی تیاری کے اس پیچیدہ اور انتہائی احتیاط سے ترتیب دیے گئے کاروباری عمل کے لیے خطرہ بن گیا ہے جسے ایپل دنیا بھر میں پھیلے ہوئے سپلائرز کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے مکمل کرتا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ انکشاف ایپل اور ٹاٹا کے باہمی تعلقات کو بھی خراب کرسکتا ہے کیونکہ ایپل اپنے سپلائرز کے معاہدوں کو انتہائی رازداری کے ساتھ محفوظ رکھتا ہے۔ مزید برآں یہ ڈیٹا حریف کمپنیوں، جعلی اشیاء بنانے والوں اور ایپل کے اپنے وینڈرز کو یہ جاننے کا موقع دے سکتا ہے کہ کون سا پرزہ کون تیار کرتا ہے۔

ٹاٹا الیکٹرانکس جو ایک جانب ایپل کو پرزہ جات فراہم کرتی ہے اور دوسری جانب کنٹریکٹ مینوفیکچرر کے طور پر آئی فون اسمبل بھی کرتی ہے، چین سے باہر ایپل کے اہم ترین پیداواری شراکت داروں میں تیزی سے ابھر رہی ہے۔ یہ توسیع بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی بھارت کو الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کا عالمی مرکز بنانے کی حکمتِ عملی کا ایک اہم ستون سمجھی جاتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایپل رواں سال ستمبر میں اپنے آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس ماڈلز متعارف کرانے کی تیاری کررہا ہے۔

یہ ڈیٹا لیک ایپل کے لیے ایک ایسے مشکل وقت میں سامنے آیا ہے جب کمپنی پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ گزشتہ ہفتے ہی ایپل نے میموری اور اسٹوریج چپس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث اپنے آئی پیڈ اور میک بک کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے اور تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ کمپنی آنے والے مہینوں میں آئی فون کی قیمتوں میں بھی اضافہ کرسکتی ہے۔

رائٹرز اس سے قبل رپورٹ کر چکا ہے کہ ورلڈ لیکس نامی گروپ کی جانب سے ڈارک ویب پر جاری کی گئی ٹاٹا الیکٹرانکس کی 2 لاکھ سے زائد فائلوں میں پرانے آئی فونز کے پرزہ جات کے مبینہ ڈیزائن دستاویزات اور ٹیسلا کے بعض پرزوں سے متعلق معلومات بھی شامل تھیں جبکہ ایپل اور ٹیسلا دونوں ہی ٹاٹا کے کلائنٹس ہیں۔

ان فائلوں میں تائیوان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی اور کوالکوم کی دستاویزات بھی شامل تھیں، اور یہ دونوں ہی آئی فون میں استعمال ہونے والے پرزے بناتی ہیں۔ رائٹرز کی جانب سے جائزہ لی گئی نئی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں کم از کم چھ ایسی فائلیں موجود ہیں جن میں آئی فون 18 پرو ماڈلز کے کئی پرزوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ انہیں کون سی مخصوص کمپنی فراہم کرتی ہے۔

ان دستاویزات میں آئی فون کے مین سرکٹ بورڈ پر موجود چپس اور بیٹری و کیمروں کے پرزوں کی تفصیلات شامل ہیں۔ اس معاملے سے باخبر ایک شخص کے مطابق ایپل اس معلومات کو انتہائی حساس سمجھتا ہے اور ڈارک ویب پر ان دستاویزات کے شیئر ہونے پر شدید تشویش میں مبتلا ہے کیونکہ ان کا تعلق ان ماڈلز سے ہے جو ابھی تک مارکیٹ میں جاری نہیں ہوئے ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ ڈیٹا آئی فون کے پرزوں اور ان کے سپلائرز کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتا ہے جسے ایپل اپنے سپلائرز کے عوامی ڈیٹا بیس میں ظاہر نہیں کرتا۔ مجموعی طور پر یہ دستاویزات آنے والے آئی فون 18 پرو ماڈلز کے سینکڑوں پرزوں کی تفصیلات فراہم کرتی ہیں۔

دستاویزات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایپل کن پرزہ جات کے لیے متعدد سپلائرز پر انحصار کرتا ہے اور کن کے لیے صرف چند سپلائرز پر، جس سے کمپنی کی سودے بازی کی قوت اور ممکنہ کمزوریاں دونوں نمایاں ہو جاتی ہیں۔

ایپل اور ٹاٹا کے ترجمانوں نے رائٹرز کی جانب سے بھیجے گئے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔

ورلڈ لیکس اس سے قبل نائیکی کے نظام میں دراندازی کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ بھی کرچکا ہے۔

رائٹرز ان اعدادوشمار اور دستاویزات کی صداقت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا اور فوری طور پر تبصرے کیلئے ورلڈ لیکس سے بھی رابطہ نہیں ہو سکا۔

نیوز ویب سائٹ ایپل انسائیڈر نے گزشتہ ہفتے سب سے پہلے یہ رپورٹ دی تھی کہ آئی فون 18 پرو سے متعلق دستاویزات ٹاٹا ڈیٹا لیک کا حصہ ہیں۔ رائٹرز پہلے ہی رپورٹ کر چکا ہے کہ ایپل اس معاملے کی تحقیقات کررہا ہے اور ٹاٹا کے ساتھ مل کر طویل مدتی حفاظتی اقدامات پر کام کررہا ہے۔

ٹاٹا نے لیک کی تحقیقات کے دوران حساس سسٹمز تک اندرونی رسائی کو محدود کردیا اور فارنزک آڈٹ کرنے کے لیے ایک عالمی کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کی ہیں۔

Comments

200 حروف