امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے، بھارت کا دعویٰ
- نئی دہلی کی کوشش ہے کہ بھارتی برآمدات پر وہ محصولات عائد ہوں جو دیگر ایشیائی ممالک کی مصنوعات پر لگائے گئے محصولات سے کم ہوں
بھارت اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدہ حتمی شکل دینے کے قریب پہنچ چکا ہے، یہ بات بھارت کے وزیر تجارت پیوش گوئل نے جمعرات کو کہی۔ انہوں نے یہ بیان ایک روز قبل امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گرئیر کے ساتھ مذاکرات مکمل ہونے کے بعد دیا ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔
گرئیر نے اس ہفتے نئی دہلی کے دو روزہ دورے کے دوران اس معاہدے پر تازہ مذاکرات کی قیادت کی، جو کئی ماہ سے زیرِ غور ہے اور سفارتی کشیدگی کے تناظر میں تعلقات میں غیر یقینی کیفیت کا باعث بنا ہوا ہے۔
نئی دہلی اس بات پر زور دے رہا ہے کہ اس کی مصنوعات پر عائد ٹیرف دیگر ایشیائی معیشتوں کے مقابلے میں کم رکھا جائے، جبکہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ بھارت زیادہ امریکی مصنوعات درآمد کرے۔
لندن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیوش گوئل نے کہا کہ دونوں فریق اس بات پر بات چیت کر رہے ہیں کہ امریکا کس طرح بھارت کو اس کے حریف ممالک کے مقابلے میں برتری دینے کے لیے “مناسب قانونی طریقہ کار اور آلات” فراہم کرے۔
انہوں نے کہا، ”جس دن یہ ہو گیا، معاہدہ طے پا جائے گا۔“
فروری میں دونوں ممالک کے درمیان ابتدائی مفاہمت میں بھارتی مصنوعات پر 18 فیصد ٹیرف پر اتفاق ہوا تھا، بدلے میں بھارت نے تجارتی رکاوٹیں کم کرنے اور امریکی مصنوعات کی زیادہ خریداری پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
اس وقت یہ شرح بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے حریف ممالک کے مقابلے میں کم تھی، تاہم بعد میں معاہدہ اس وقت تعطل کا شکار ہو گیا جب امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے وسیع عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا۔
مزید برآں مذاکرات اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئے جب امریکی تجارتی نمائندہ دفتر ( یو ایس ٹی آر) نے بھارت اور دیگر ممالک میں مبینہ اوورکیپیسٹی اور جبری مشقت سے متعلق سیکشن 301 کی تحقیقات شروع کیں۔


Comments