BR100 Increased By (0.44%)
BR30 Increased By (1.39%)
KSE100 Increased By (0.62%)
KSE30 Increased By (0.61%)
BAFL 58.79 Decreased By ▼ -0.35 (-0.59%)
BIPL 26.82 Increased By ▲ 0.20 (0.75%)
BOP 35.38 Increased By ▲ 0.26 (0.74%)
CNERGY 8.20 Increased By ▲ 0.05 (0.61%)
DFML 19.77 Increased By ▲ 0.08 (0.41%)
DGKC 221.94 Increased By ▲ 3.32 (1.52%)
FABL 96.91 Decreased By ▼ -0.15 (-0.15%)
FCCL 58.36 Increased By ▲ 1.61 (2.84%)
FFL 17.84 Decreased By ▼ -0.04 (-0.22%)
GGL 23.54 Decreased By ▼ -0.12 (-0.51%)
HBL 294.10 Increased By ▲ 1.11 (0.38%)
HUBC 231.41 Decreased By ▼ -0.40 (-0.17%)
HUMNL 11.07 Decreased By ▼ -0.05 (-0.45%)
KEL 8.75 Increased By ▲ 0.33 (3.92%)
LOTCHEM 28.07 Decreased By ▼ -0.15 (-0.53%)
MLCF 107.15 Increased By ▲ 3.85 (3.73%)
OGDC 339.96 Increased By ▲ 1.79 (0.53%)
PAEL 44.49 Increased By ▲ 1.02 (2.35%)
PIBTL 18.64 Increased By ▲ 0.94 (5.31%)
PIOC 273.85 Increased By ▲ 3.85 (1.43%)
PPL 247.98 Increased By ▲ 3.66 (1.5%)
PRL 35.29 Decreased By ▼ -0.14 (-0.4%)
SNGP 123.17 Decreased By ▼ -2.49 (-1.98%)
SSGC 32.04 Decreased By ▼ -0.90 (-2.73%)
TELE 8.87 Decreased By ▼ -0.04 (-0.45%)
TPLP 10.57 Decreased By ▼ -0.26 (-2.4%)
TRG 64.40 Decreased By ▼ -0.50 (-0.77%)
UNITY 11.12 Increased By ▲ 0.09 (0.82%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.01 (0.8%)
دنیا

وینزویلا میں یکے بعد دیگرے دو زلزلے، 164 سے زائد افراد ہلاک، عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں

  • 7.5 شدت کا یہ زلزلہ 29 اکتوبر 1900 کے بعد وینزویلا میں آنے والا سب سے شدید زلزلہ ثابت ہوا
شائع June 25, 2026 اپ ڈیٹ June 25, 2026 04:37pm

وینزویلا میں ایک صدی سے زائد عرصے کے دوران بدھ کے روز یکے بعد دیگرے آئے زلزلے کے دو طاقتور ترین جھٹکوں کے نتیجے میں کم از کم 164 افراد ہلاک اور 970 سے زائد زخمی ہو گئے، جبکہ دارالحکومت کاراکس کے قریب متعدد عمارتیں منہدم ہو گئیں۔ متاثرہ علاقوں میں جمعرات کو بھی لاپتا افراد کی تلاش جاری رہی۔

1900 کے بعد وینزویلا کے شدید ترین زلزلے نے امدادی کارکنوں اور مقامی شہریوں کو رات کی تاریکی میں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش پر مجبور کر دیا۔ امدادی ٹیمیں تباہ شدہ رہائشی عمارتوں کے کھنڈرات میں زندہ بچ جانے والوں کو ڈھونڈنے اور ملبے تلے پھنسے افراد کو نکالنے میں مصروف رہیں۔

امریکا کے جیولوجیکل سروے (یوایس جی ایس) کے مطابق بدھ کی شام دارالحکومت کے مغرب میں 7.2 اور 7.5 شدت کے دو زلزلے آئے، جس کے بعد فرانس، اسپین اور امریکا نے فوری طور پر امدادی ٹیمیں بھیجنے کی پیشکش کی۔

ہلاکتوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کے مطابق اب تک کم از کم 164 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 970 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراکس کے شمال میں واقع لا گوائیرا ریاست سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔

لا گوائیرا کے ساحلی شہر کاتیا لا مار میں منہدم ہونے والی ایک عمارت کے سامنے کھڑے 49 سالہ لیری روخاس نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ہمارے پاس اب کچھ نہیں بچا، نہ ہمت ہے اور نہ طاقت کہ اندر جا سکیں، ذرا تصور کریں کہ میرا پورا خاندان اندر پھنسا ہوا ہے۔‘‘

ساحلی شہر میں بجلی کی فراہمی معطل رہی جبکہ متعدد رہائشیوں نے رات سڑکوں پر گزاری یا اپنے لاپتا عزیزوں کی تلاش میں سرگرداں رہے۔

7.5 شدت کا زلزلہ 29 اکتوبر 1900 کے بعد وینزویلا کا سب سے طاقتور زلزلہ تھا، جب سمندر میں آنے والے 7.7 شدت کے جھٹکوں نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

’’اندر لوگ زندہ ہیں مگر کوئی انہیں بچانے نہیں آ رہا‘‘

عینی شاہدین کے مطابق زلزلے کے بعد متعدد رہائشی عمارتوں میں گہری دراڑیں پڑ گئیں اور کئی عمارتوں کی دیواریں گر گئیں، جبکہ درجنوں عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔

ایک خاتون، جو اپنی بیٹی کی خبر کی منتظر تھیں اور جس کی بیٹی 12 منزلہ منہدم عمارت کے ملبے تلے دبی ہوئی تھی، نے کہا: ’’اندر لوگ زندہ ہیں لیکن انہیں بچانے کوئی نہیں آ رہا۔‘‘

فرانس نے 85 امدادی کارکن بھیجنے کا اعلان کیا جبکہ اسپین نے 54 فوجی ریسکیو اہلکار روانہ کرنے کا وعدہ کیا۔ چین، بھارت، برازیل اور امریکا سمیت متعدد ممالک نے بھی امداد کی پیشکش کی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن فوری طور پر تلاش و بچاؤ کی ٹیمیں، طبی وسائل اور انسانی امداد وینزویلا روانہ کر رہا ہے۔

یو ایس جی ایس کے مطابق پہلا زلزلہ 22:04 گرین وچ وقت پر ساحلی قصبے مورون کے مغرب میں 21 کلومیٹر دور آیا۔ ایک منٹ سے بھی کم وقت بعد تقریباً 45 کلومیٹر فاصلے پر 7.5 شدت کا دوسرا زلزلہ آیا۔

ادارے نے وضاحت کی کہ یہ دراصل ’’ڈبلٹ‘‘ نوعیت کا زلزلہ تھا، جس میں 7.5 شدت کے مرکزی زلزلے سے 39 سیکنڈ قبل 7.2 شدت کا ابتدائی جھٹکا محسوس کیا گیا۔

وزیر داخلہ دیوسدادو کابیو نے شہریوں سے گھروں سے نکل جانے کی اپیل کرتے ہوئے بتایا کہ احتیاطی تدابیر کے طور پر کئی عمارتوں کی گیس سپلائی منقطع کر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’کئی ڈھانچوں کو نقصان پہنچا ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ گیس کے باعث کوئی مزید حادثہ پیش آئے۔‘‘

کراکس کے قریب واقع مائیکیتیا بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بھی بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے شدید نقصان کے باعث بند کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں ہوائی اڈے کی تباہ حال عمارتیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

زلزلوں نے دارالحکومت میں خوف و ہراس پھیلا دیا اور ہزاروں افراد گھروں اور دفاتر سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے۔

54 سالہ بینک ملازم اوڈالس ایسکالونا نے بتایا، ’’سیڑھیاں اپنی جگہ سے ہٹ گئیں، پوری دیوار میں دراڑ پڑ گئی، چھت سے چیزیں گرنے لگیں، منظر انتہائی خوفناک تھا۔‘‘

اے ایف پی کے ایک صحافی نے دارالحکومت کے علاقے التامیرا میں 22 منزلہ عمارت کو مکمل طور پر تباہ شدہ دیکھا، جہاں لوگ اپنے عزیزوں کے نام پکار رہے تھے جبکہ رضاکار ملبے پر چڑھ کر تلاش میں مصروف تھے۔

ایک رضاکار نے آواز لگائی، ’’ہمیں ٹارچوں کی ضرورت ہے۔‘‘

’’ہم باہر نہیں نکل سکے‘‘

زلزلے بالترتیب 22 اور 10 کلومیٹر کی گہرائی میں آئے۔

کاراکس کے ایک شاپنگ سینٹر میں بھی شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ دکاندار ہائیدی رومیریو نے بتایا، ’’یہ ناقابل یقین تھا، مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ جھٹکے کتنی دیر جاری رہے۔‘‘

42 سالہ رومیریو نے کہا، ’’ہمیں ہنگامی سیڑھیوں کے ذریعے باہر نکالا گیا۔‘‘

69 سالہ کارمین گویدیز اپنی بیمار بہن کے ساتھ گھر میں موجود تھیں جب جھٹکے محسوس ہوئے۔

انہوں نے بتایا، ’’زلزلے کی شدت بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ میں نے کھڑکیوں کو ہلتے دیکھا اور پھر پورا گھر لرزنے لگا۔‘‘

ان کے مطابق وہ اپنی بہن اور ایک پڑوسی کے ساتھ ایک کونے میں دبک گئیں۔ ’’ہم باہر نہیں نکل سکے، ہمارے پڑوسی اب بھی سڑکوں پر موجود ہیں۔‘‘

وزیر داخلہ کے مطابق تروخیو، کارابوبو، میرانڈا اور لا گوائیرا ریاستیں سب سے زیادہ متاثر ہوئیں۔

زلزلے کے جھٹکے پڑوسی ملک کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا تک محسوس کیے گئے، جہاں خطرے کے پیش نظر کئی عمارتیں خالی کرا لی گئیں۔

کولمبیا کے قومی زلزلہ پیما نیٹ ورک کے رابطہ کار فریڈی تووار نے بتایا کہ ملک بھر سے 200 سے زائد رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کے زلزلے کے بعد مزید آفٹر شاکس (بعد از زلزلہ جھٹکے) آ سکتے ہیں جو کولمبیا کے مختلف حصوں میں بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

وینزویلا کی حالیہ تاریخ کے مہلک ترین زلزلوں میں 1997 میں شمال مشرقی علاقے میں آنے والا زلزلہ شامل ہے جس میں 73 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ 1967 میں کاراکس میں آنے والے زلزلے میں 236 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

قبل ازیں حکام نے بتایا کہ سب سے زیادہ متاثرہ لا گوایرا صوبے سے تاحال مکمل معلومات حاصل نہیں ہو سکیں، جہاں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

نائب عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے کہا کہ یہ ایک بڑی انسانی تباہی ہے اور حکومت بین الاقوامی امداد کے ساتھ ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔

زلزلے کے بعد عوام خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے جبکہ کئی علاقوں میں آفٹر شاکس کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ ایک ویب سائٹ کے مطابق 6,600 سے زائد افراد لاپتہ ہیں، تاہم سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے وینزویلا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے امداد کی پیشکش کی ہے۔

حکام کے مطابق ملک کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو فوری طور پر کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا، تاہم بجلی کی طویل بندش کی صورت میں پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ مزید امدادی ٹیمیں مختلف ممالک سے روانہ کی جا رہی ہیں۔

Comments

200 حروف