BR100 Increased By (0.44%)
BR30 Increased By (1.39%)
KSE100 Increased By (0.62%)
KSE30 Increased By (0.61%)
BAFL 59.20 Increased By ▲ 0.06 (0.1%)
BIPL 26.85 Increased By ▲ 0.23 (0.86%)
BOP 35.41 Increased By ▲ 0.29 (0.83%)
CNERGY 8.20 Increased By ▲ 0.05 (0.61%)
DFML 19.75 Increased By ▲ 0.06 (0.3%)
DGKC 220.33 Increased By ▲ 1.71 (0.78%)
FABL 97.07 Increased By ▲ 0.01 (0.01%)
FCCL 58.15 Increased By ▲ 1.40 (2.47%)
FFL 17.90 Increased By ▲ 0.02 (0.11%)
GGL 23.60 Decreased By ▼ -0.06 (-0.25%)
HBL 295.60 Increased By ▲ 2.61 (0.89%)
HUBC 230.95 Decreased By ▼ -0.86 (-0.37%)
HUMNL 11.10 Decreased By ▼ -0.02 (-0.18%)
KEL 8.56 Increased By ▲ 0.14 (1.66%)
LOTCHEM 28.20 Decreased By ▼ -0.02 (-0.07%)
MLCF 105.65 Increased By ▲ 2.35 (2.27%)
OGDC 339.90 Increased By ▲ 1.73 (0.51%)
PAEL 44.42 Increased By ▲ 0.95 (2.19%)
PIBTL 18.75 Increased By ▲ 1.05 (5.93%)
PIOC 270.25 Increased By ▲ 0.25 (0.09%)
PPL 248.10 Increased By ▲ 3.78 (1.55%)
PRL 35.35 Decreased By ▼ -0.08 (-0.23%)
SNGP 123.05 Decreased By ▼ -2.61 (-2.08%)
SSGC 32.04 Decreased By ▼ -0.90 (-2.73%)
TELE 8.93 Increased By ▲ 0.02 (0.22%)
TPLP 10.76 Decreased By ▼ -0.07 (-0.65%)
TRG 64.21 Decreased By ▼ -0.69 (-1.06%)
UNITY 11.21 Increased By ▲ 0.18 (1.63%)
WTL 1.27 Increased By ▲ 0.02 (1.6%)
Perspectives

سرسبز پناہ گاہ سے کنکریٹ کے جنگل تک: شکرپڑیاں کی آہستہ آہستہ مٹتی شناخت

  • حالیہ برسوں میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی نے اس صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس کے باعث شکرپڑیاں کی باقی ماندہ قدرتی خوبصورتی اور سبزہ بھی تیزی سے معدوم ہوتا جا رہا ہے۔
شائع June 24, 2026 اپ ڈیٹ June 24, 2026 11:08pm

اسلام آباد کا شکرپڑیاں، جو کبھی سرسبز و شاداب قدرتی مناظر سے مزین ایک وسیع و عریض خطہ تھا، شہری توسیع کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث بتدریج سکڑتا جا رہا ہے۔ مارگلہ ہلز نیشنل پارک کا حصہ سمجھے جانے والے اس جنگلاتی اور قدرتی علاقے کو وقت کے ساتھ مختلف اہم تنصیبات اور عمارتوں کے مرکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

آج اس علاقے میں پریڈ گراؤنڈ، پاک چین فرینڈشپ سینٹر، اسلام آباد کلب، گن اینڈ کنٹری کلب، لوک ورثہ، اوپن ایئر تھیٹر اور متعدد اعلیٰ معیار کے ہوٹل قائم ہیں۔

حالیہ برسوں میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی نے اس صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس کے باعث شکرپڑیاں کی باقی ماندہ قدرتی خوبصورتی اور سبزہ بھی تیزی سے معدوم ہوتا جا رہا ہے۔

 This photograph taken on January 7, 2026 shows an aerial view of a cleared patch of the Shakarparian forest in Islamabad. (Photo by Aamir QURESHI / AFP)
This photograph taken on January 7, 2026 shows an aerial view of a cleared patch of the Shakarparian forest in Islamabad. (Photo by Aamir QURESHI / AFP)

اس اقدام کے خلاف مہم چلانے والے حسن خان کے مطابق، ایچ-8 میں ایکسپریس وے کے ساتھ واقع گرین بیلٹ کے ایک حصے میں یادگاری مقام کی تعمیر کے لیے مکمل نشوونما پانے والے درخت کاٹ دیے گئے۔ انہوں نے کہا، ’’چونکہ یہ مقام شکرپڑیاں کے اس پارک ایریا کے بالمقابل واقع ہے، اس لیے ان درختوں کی کٹائی نے شکرپڑیاں کی سرسبزی کو مزید متاثر کیا ہے۔‘‘

اس سرگرمی کے اثرات مقامی رہائشیوں کو بھی واضح طور پر محسوس ہو رہے ہیں۔

طبی علوم کی طالبہ صغریٰ سلیم، جو اکثر شام کے وقت اس علاقے میں چہل قدمی کرتی ہیں، کہتی ہیں، ’’اب اس علاقے سے گزرتے ہوئے نہ وہ ٹھنڈی ہوا محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی پرندوں کی چہچہاہٹ سنائی دیتی ہے۔ اس کی جگہ اب شور، گردوغبار اور گرمی نے لے لی ہے۔‘‘

کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) مختلف منصوبوں کے لیے ہزاروں درختوں کی کٹائی کے احکامات جاری کر چکی ہے، جہاں اکثر دفاعی اور رہائشی ترجیحات کو ماحولیاتی تحفظ پر فوقیت دی جاتی ہے۔

اسلام آباد، جو کبھی جنوبی ایشیا کے سب سے سرسبز دارالحکومتوں میں شمار ہوتا تھا، آج وہاں پرندوں کی آوازوں کی جگہ چین سا کی گونج سنائی دینے لگی ہے۔ ماہرِ ماحولیات یوسف خان نے کہا، ’’شہر کے اہم علاقوں، خصوصاً شکرپڑیاں، چک شہزاد اور انفراسٹرکچر منصوبوں سے منسلک سیکٹرز میں حالیہ بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی نے عوامی غم و غصے کو جنم دیا ہے اور اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی شروع ہو چکی ہے۔‘‘

گزشتہ ایک سال کے دوران ہزاروں بالغ درخت کاٹے جا چکے ہیں، جن میں سے بعض کی کٹائی براہِ راست سڑکوں کی تعمیر اور ہاؤسنگ منصوبوں سے منسلک ترقیاتی سرگرمیوں کے باعث کی گئی۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان سمیت ماحولیاتی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ معاملہ محض الرجی پیدا کرنے والی اقسام کے درخت ہٹانے تک محدود نہیں، بلکہ یہ شہری توسیع کے لیے زمین صاف کرنے کے ایک وسیع تر رجحان کا حصہ ہے۔

اس کے نتائج اب نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ سائنس دانوں اور ماہرینِ موسمیات کے مطابق اسلام آباد اپنی سبز چادر کا ایک بڑا حصہ کھو چکا ہے، جس کے نتیجے میں درجہ حرارت میں اضافہ، فضائی آلودگی میں بگاڑ اور شہری علاقوں میں حدت کے بڑھتے ہوئے اثرات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران شہر کا درجہ حرارت تقریباً 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ چکا ہے، جس میں جنگلات کی کٹائی اور بے ہنگم تعمیرات نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

شہری درخت، جو موسم کے توازن، مٹی کے استحکام اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں، جس رفتار سے ختم ہو رہے ہیں، اسی رفتار سے ان کی جگہ نئے درخت نہیں لگائے جا رہے۔ کبھی نہایت منصوبہ بندی کے ساتھ ایک ’’گارڈن سٹی‘‘ کے طور پر تصور کیا جانے والا اسلام آباد اب تیزی سے کنکریٹ کے غلبے والے شہر میں تبدیل ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے باسی آلودگی، شدید موسمی حالات اور بڑھتے ہوئے ماحولیاتی عدم توازن کے خطرات سے زیادہ دوچار ہوتے جا رہے ہیں۔

 This photograph taken on January 13, 2026 shows ongoing construction work after felling trees near the Shakarparian forest in Islamabad. (Photo by Aamir QURESHI / AFP)
This photograph taken on January 13, 2026 shows ongoing construction work after felling trees near the Shakarparian forest in Islamabad. (Photo by Aamir QURESHI / AFP)

ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان کے مشاہدات کے مطابق اگرچہ بعض درختوں کی کٹائی عوامی صحت کے پیشِ نظر پیپر ملبری کے درختوں کے انتظام سے متعلق ہے، تاہم سبزے کے نمایاں نقصان کی بڑی وجہ غیر منصوبہ بند انفراسٹرکچر کی تعمیر ہے۔ ایچ-8 اسلام آباد ایکسپریس وے اور مارگلہ انکلیو لنک روڈ کے اطراف زمین کی صفائی کے نتیجے میں بالترتیب تقریباً پانچ ہیکٹر اور 10 سے 15 ہیکٹر رقبے پر شہری درختوں اور نباتاتی ڈھانچے کا خاتمہ ہو چکا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق ایچ-8 اسلام آباد ایکسپریس وے کے مقام پر بڑے پیمانے پر زمین ہموار کرنے اور کھدائی کا عمل دیکھا گیا، جبکہ موقع پر دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں ایک یادگار کی تعمیر کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔

گوگل ارتھ کی مختلف ادوار کی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مقام پر زمین صاف کرنے کا عمل مسلسل بڑھتا رہا ہے۔ 2023 میں یہ رقبہ تقریباً ڈیڑھ ہیکٹر تھا جو 2025 تک بڑھ کر ساڑھے چھ ہیکٹر تک پہنچ گیا۔ اس توسیع نے پہلے سے غیر متاثرہ زمین کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں تقریباً پانچ ہیکٹر ماحولیاتی نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ تجزیے کے وقت کسی قسم کی شجرکاری یا سبزہ بحالی کے اقدامات دکھائی نہیں دیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین صاف کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے اور ماحول دوست منصوبہ بندی کے فقدان پر خدشات مزید گہرے ہو رہے ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان کے ڈائریکٹر فاریسٹ محمد ابراہیم خان نے کہا، ’’انفراسٹرکچر سے متعلق کسی بھی منصوبے کے لیے درختوں کی کٹائی سے قبل قانون کے مطابق ماحولیاتی اثرات کا جائزہ (ای آئی اے) لیا جانا چاہیے، اس کی تفصیلات شفاف انداز میں سامنے لائی جائیں اور ایسی منصوبہ بندی کو ترجیح دی جائے جس میں ماحولیاتی نقصان سے حتیٰ الامکان گریز کیا جائے تاکہ طویل المدتی ماحولیاتی توازن برقرار رہ سکے۔‘‘

سی ڈی اے کے ترجمان شاہد کیانی نے کہا کہ شہر کی سبز چادر کی بحالی کے لیے اتھارٹی نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی سے 45 ہزار پودے فراہم کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ اسلام آباد میں تقریباً 30 ہزار بالغ درختوں کی کٹائی کے ازالے کے لیے شجرکاری کی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’درخواست کیے گئے پودوں میں مقامی اقسام، مثلاً ارجن، کچنار، املتاس، جاکارانڈا، ٹیکوما، سریس اور پھلائی شامل ہیں تاکہ آئندہ شجرکاری مہم کے ذریعے شہر کی سبز رونق بحال کی جا سکے۔‘‘

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان کے مطابق مسئلہ صرف شجرکاری کا نہیں، بلکہ اصل تشویش شفافیت کے فقدان سے متعلق ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ شہری انتظامیہ کی جانب سے مشاورت اور کھلے پن کا فقدان پایا جاتا ہے۔ ان کے بقول، ڈبلیو ڈبلیو ایف خطوط اور رپورٹس کے ذریعے اپنی سفارشات متعلقہ حکام تک پہنچا چکی ہے، جن میں وفاقی دارالحکومت کی سبزہ زار شناخت کو محفوظ رکھنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

نوٹ: اس مضمون میں اظہار کیے گئے خیالات ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہوں۔

Comments

200 حروف