امریکی ڈالر 13 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
- یورو تقریباً ایک سال کی کم ترین سطح 1.1375 ڈالر پر ٹریڈ ہوا
امریکی ڈالر بدھ کے روز عالمی مالیاتی منڈیوں میں مزید مضبوط ہو گیا اور بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں 13 ماہ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ سرمایہ کاروں نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں شدید فروخت کے رجحان اور امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ اضافے کے پیش نظر محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ڈالر کا رخ کیا۔
ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص میں وسیع پیمانے پر فروخت کے باعث عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں دباؤ دیکھا گیا، جس سے سرمایہ کاروں نے منافع سمیٹتے ہوئے ڈالر اور امریکی بانڈز میں سرمایہ کاری بڑھا دی۔
دوسری جانب امریکی معیشت کی مضبوط کارکردگی کے باعث فیڈرل ریزرو کے حکام کے سخت مؤقف نے شرح سود میں اضافے کی توقعات کو تقویت دی ہے۔ سی ایم ای فیڈ واچ کے مطابق مارکیٹیں جولائی میں شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس اضافے کے 37 فیصد امکانات اور ستمبر میں اضافے کے 70 فیصد امکانات ظاہر کر رہی ہیں۔
ڈالر انڈیکس، جو ڈالر کی قدر کو بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، بڑھ کر 101.44 کی سطح پر پہنچ گیا، جو مئی 2025 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
یورو تقریباً ایک سال کی کم ترین سطح 1.1375 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ بھی کمزور ہو کر 1.3199 ڈالر تک آ گیا۔ آسٹریلوی ڈالر نسبتاً مستحکم رہا، جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر سات ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔
ادھر امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے بعض اہم نکات، خصوصاً جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے انتظامی معاملات پر اختلافات بھی برقرار ہیں، جس سے عالمی سرمایہ کاروں میں محتاط رویہ دیکھنے میں آیا۔
جاپانی ین بھی دباؤ کا شکار رہا اور ڈالر کے مقابلے میں تقریباً دو سال کی کم ترین سطح کے قریب ٹریڈ کرتا رہا، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فیڈ شرح سود بڑھاتا ہے تو ین مزید کمزور ہو سکتا ہے۔


Comments