BR100 Decreased By (-0.95%)
BR30 Decreased By (-0.97%)
KSE100 Decreased By (-0.76%)
KSE30 Decreased By (-0.84%)
BAFL 60.40 Decreased By ▼ -0.70 (-1.15%)
BIPL 26.94 Increased By ▲ 0.09 (0.34%)
BOP 35.24 Increased By ▲ 0.04 (0.11%)
CNERGY 8.21 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
DFML 19.93 Decreased By ▼ -0.11 (-0.55%)
DGKC 216.49 Increased By ▲ 1.20 (0.56%)
FABL 96.80 Decreased By ▼ -0.28 (-0.29%)
FCCL 56.73 Decreased By ▼ -0.17 (-0.3%)
FFL 18.08 Decreased By ▼ -0.05 (-0.28%)
GGL 23.74 Increased By ▲ 1.05 (4.63%)
HBL 295.99 Decreased By ▼ -2.41 (-0.81%)
HUBC 231.79 Increased By ▲ 0.49 (0.21%)
HUMNL 11.20 Increased By ▲ 0.02 (0.18%)
KEL 8.20 Increased By ▲ 0.05 (0.61%)
LOTCHEM 28.58 Increased By ▲ 0.12 (0.42%)
MLCF 100.75 Increased By ▲ 0.23 (0.23%)
OGDC 334.34 Increased By ▲ 3.06 (0.92%)
PAEL 43.09 Increased By ▲ 0.34 (0.8%)
PIBTL 17.88 Decreased By ▼ -0.06 (-0.33%)
PIOC 274.30 Decreased By ▼ -3.55 (-1.28%)
PPL 243.15 Increased By ▲ 1.21 (0.5%)
PRL 35.90 Decreased By ▼ -0.07 (-0.19%)
SNGP 121.50 Increased By ▲ 4.66 (3.99%)
SSGC 32.19 Increased By ▲ 0.87 (2.78%)
TELE 9.10 Increased By ▲ 0.03 (0.33%)
TPLP 11.17 Increased By ▲ 0.93 (9.08%)
TRG 65.60 Decreased By ▼ -1.08 (-1.62%)
UNITY 11.30 Increased By ▲ 0.01 (0.09%)
WTL 1.27 Decreased By ▼ -0.02 (-1.55%)
دنیا

امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں اعلیٰ سطح مذاکرات کا پہلا دور مکمل

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکی دہرا دی
شائع June 22, 2026 اپ ڈیٹ June 22, 2026 09:24am

امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اعلیٰ سطح مذاکرات کا پہلا دور پیر کو اختتام پذیر ہوگیا، جبکہ مذاکرات کے آغاز پر کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکی دہرائی۔

مذاکرات کی ثالثی کرنے والے ممالک قطر اور پاکستان کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق امریکا اور ایران نے 60 دن کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ تکنیکی سطح کے مذاکرات ہفتے بھر سوئٹزرلینڈ کے شہر بورگن اسٹاک میں جاری رہیں گے۔

فریقین نے لبنان میں جاری لڑائی کے خاتمے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کرنے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے رابطے کا ایک مستقل نظام قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اتوار کو ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا تھا، جو گزشتہ ہفتے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ہوئے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران کو تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات کے لیے امریکی چھوٹ، منجمد اثاثوں کے جزوی اجرا اور ایران کی تعمیر نو و ترقی کے منصوبے کے آغاز کی یقین دہانی حاصل ہوئی ہے۔

تاہم مذاکرات کے دوران اختلافات بھی سامنے آئے۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق دھمکیوں کے بعد ایرانی وفد نے مذاکراتی کمرے میں واپس جانے سے انکار کردیا، اگرچہ قطر اور پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری رہا۔ ایرانی ذرائع کا کہنا تھا کہ جوہری پروگرام پر بامعنی مذاکرات سے قبل امریکا کو ایم او یو کے دیگر نکات پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔

دوسری جانب ایک امریکی سفارتکار نے دعویٰ کیا کہ ایرانی وفد مذاکرات سے نہیں اٹھا اور رات گئے تک مختلف امور پر بات چیت جاری رہی، جن میں آبنائے ہرمز، لبنان، جوہری پروگرام اور ایم او یو کے نفاذ کے معاملات شامل تھے۔

ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی پر عمل نہ ہونے کے باعث اس نے دوبارہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت روک دی ہے۔ اگرچہ امریکی حکام اس دعوے سے اختلاف کرتے ہیں، لیکن شپنگ ڈیٹا کے مطابق اتوار کو صرف پانچ جہاز آبنائے سے گزرے، جو ایک روز قبل 26 جہازوں کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔

ادھر صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے اتحادی، خصوصاً حزب اللہ نے لبنان میں کارروائیاں بند نہ کریں تو امریکا ایران پر مزید سخت حملے کرسکتا ہے۔ ان دھمکیوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور عالمی برادری کو امید ہے کہ یہ عمل خطے میں کشیدگی کم کرنے اور توانائی کی عالمی منڈیوں کو استحکام دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔

Comments

200 حروف