علامتی پابندیوں سے آگے
- دہائیوں سے اسرائیل کو مغربی دارالحکومتوں سے تقریباً غیر مشروط سفارتی، سیاسی اور اقتصادی حمایت حاصل رہی ہے
فرانس کا اسرائیلی وزیر خزانہ بزالل سموترچ کو ملک میں داخلے سے روکنے کا فیصلہ، جو برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ناروے کے ساتھ مل کر کیا گیا، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے طرزِ عمل پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔
سموترچ اسرائیلی کابینہ کے دوسرے رکن ہیں جن پر فرانس کی جانب سے ایسی کارروائی کی گئی ہے؛ اس سے قبل مئی میں قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
اگرچہ یہ اقدام اہم ہے، لیکن یہ ایک غیر آرام دہ سوال بھی اٹھاتا ہے: اسرائیل کے قریبی مغربی اتحادیوں کو ان پالیسیوں اور اقدامات پر ردِعمل دینے میں اتنا وقت کیوں لگا جن کے بارے میں وہ طویل عرصے سے جانتے تھے کہ وہ جاری ہیں؟
دہائیوں سے اسرائیل کو مغربی دارالحکومتوں سے تقریباً غیر مشروط سفارتی، سیاسی اور اقتصادی حمایت حاصل رہی ہے۔ حتیٰ کہ جب مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی آبادکاریاں پھیل رہی تھیں، فلسطینی زمین بتدریج چھینی جا رہی تھی اور بار بار ہونے والے فوجی آپریشنز نے انسانی مصائب شدید ہوتے جارہے تھے، تب بھی تنقید شاذ و نادر ہی حقیقی نتائج میں تبدیل ہوئی۔ حالیہ پابندیاں ایک دیر سے ہونے والے اس اعتراف کے مترادف ہیں جسے دنیا کا بڑا حصہ برسوں سے تسلیم کر چکا ہے۔ فرانس کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے سموترچ کی جانب سے مغربی کنارے کے الحاق، آبادکاریوں کی توسیع، فلسطینی اتھارٹی کو کمزور کرنے اور یہاں تک کہ غزہ کی دوبارہ نوآبادیاتی حیثیت کی بحالی کی حمایت کی طرف اشارہ کیا۔ یہ اب حاشیائی خیالات نہیں رہے؛ بلکہ یہ اسرائیلی حکومتی اتحاد کے اندر سیاسی مرکزی دھارے کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔
اتنی ہی تشویشناک بات مقبوضہ علاقوں میں انتہا پسند آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف جاری تشدد ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی مبصرین بارہا فلسطینی کمیونٹیز پر حملوں، املاک کی تباہی اور جبری بے دخلی کو تقریباً مکمل استثنیٰ کے ساتھ دستاویزی شکل دے چکے ہیں۔ کئی مغربی حکومتوں کا نہ صرف پرتشدد آبادکاروں بلکہ ان کی حمایت کرنے والی تنظیموں اور مالی نیٹ ورکس کو بھی نشانہ بنانے کا فیصلہ اس بات کا بالواسطہ اعتراف ہے کہ آبادکاروں کا تشدد نہ تو الگ تھلگ ہے اور نہ ہی خود بخود ہونے والا۔ بلکہ یہ ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد مقبوضہ زمین پر اسرائیلی کنٹرول کو مضبوط بنانا اور ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے امکان کو ختم کرنا ہے۔
تاہم چند افراد پر عائد پابندیاں، اگرچہ خوش آئند ہیں، لیکن زیادہ تر علامتی ہیں۔ مسئلہ صرف بزالل سموترچ یا اتمار بن گویر نہیں بلکہ قبضے اور آبادکاری کے اس نظام کا ہے جو دہائیوں سے مسلسل بین الاقوامی مذمت کے باوجود قائم ہے۔ سفری پابندیاں بظاہر ناپسندیدگی کا اظہار ہیں، لیکن یہ زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کرتیں، جہاں فلسطینی بدستور بے دخلی، فوجی قبضے اور بڑھتے ہوئے تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر فرانس اور برطانیہ جیسے ممالک واقعی دو ریاستی حل کے لیے سنجیدہ ہیں جس کا وہ اکثر ذکر کرتے ہیں، تو انہیں علامتی اقدامات سے آگے بڑھنا ہوگا۔ مسلسل تجارت، سیاسی روابط اور سفارتی تحفظ کو ان پالیسیوں سے الگ نہیں رکھا جا سکتا جو فلسطینی ریاستی حیثیت کو منظم طور پر کمزور کرتی ہیں۔
تاہم یہ پابندیاں ایک اہم پیغام ضرور دیتی ہیں: یہاں تک کہ اسرائیل کے روایتی حامی بھی اب اس کی کارروائیوں کے نتائج کو نظر انداز کرنا مشکل محسوس کر رہے ہیں۔ لیکن اگر یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر اسرائیل کو جوابدہ بنانے اور مزید آبادکاریوں کی توسیع کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کے ساتھ نہ ہو، تو یہ محض ایک اور اظہارِ تشویش ہی ثابت ہوگا۔ مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے فلسطینیوں کے لیے اہم یہ نہیں کہ مغربی دارالحکومت کیا کہتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ان کی طویل مصیبت کو ختم کرنے اور اس استثنیٰ کو چیلنج کرنے کے لیے واقعی کوئی مؤثر اقدام کیا جاتا ہے جس نے اسے ممکن بنایا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments