مالی سال 2026-27 کا بجٹ مجموعی طور پر پاکستان کے آئی ٹی برآمد کنندگان کے لیے مثبت ہے، تاہم اسے مکمل طور پر ٹیکنالوجی بجٹ قرار دینا مبالغہ آرائی ہوگی۔ اس کی سب سے بڑی خوبی کوئی نیا اور جرات مندانہ ڈیجیٹل ترقیاتی پروگرام نہیں بلکہ موجودہ ٹیکس رعایت کا تسلسل ہے جس نے برآمدات پر توجہ دینے والی کمپنیوں کو درکار پالیسی استحکام اور یقین دہانی فراہم کی ہے۔
اس بجٹ کا سب سے اہم اقدام رجسٹرڈ آئی ٹی اور آئی ٹی سے منسلک خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کی برآمدی آمدن پر 0.25 فیصد فائنل ٹیکس رجیم کی مدت کو جون 2029 تک توسیع دینا ہے۔ یہ رعایت جون 2026 میں ختم ہونے والی تھی۔ اس توسیع سے غیر یقینی صورتحال کا ایک فوری سبب ختم ہو گیا ہے اور کمپنیوں کو مزید تین سال کے لیے یہ سہولت حاصل ہو گئی ہے کہ وہ اپنے معاہدوں کی منصوبہ بندی، قیمتوں کے تعین اور بیرونِ ملک کاروباری توسیع کے فیصلے ٹیکس بوجھ میں اچانک اضافے کے خدشے کے بغیر کرسکیں۔
عالمی منڈی میں کئی سالہ غیر ملکی کرنسی پر مبنی معاہدوں کے لیے مقابلہ کرنے والی پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ٹیکس پالیسی میں استحکام انتہائی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ ان کے منافع کے مارجن، قیمتوں کے تعین اور مسابقتی صلاحیت کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے اس ٹیکس رعایت میں توسیع کو ایک قلیل مدتی سبسڈی کے مقابلے میں کہیں زیادہ قیمتی اور مؤثر اقدام سمجھا جا رہا ہے۔
بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو سپر ٹیکس میں کمی سے بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ حکومت نے 500 ملین روپے تک آمدن رکھنے والی کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس ختم کردیا ہے جبکہ اس حد سے زیادہ آمدن والی کمپنیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کردی گئی ہے۔اگرچہ بینکوں، تیل و گیس کی تلاش و پیداوار کمپنیوں اور کھاد ساز اداروں کو اس رعایت سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، تاہم ٹیکنالوجی کمپنیاں اس استثنا میں شامل نہیں ہیں جس کے باعث وہ اس ٹیکس ریلیف سے مستفید ہو سکیں گی۔
برآمد کنندگان کے لیے دیا گیا مجموعی پیکج بھی معاون ہے۔ حکومت نے برآمدی آمدنی پر 1 فیصد ایڈوانس ٹیکس کو ختم کردیا ہے جبکہ ودہولڈنگ ٹیکس کو 1 فیصد سے بڑھا کر 1.25 فیصد کردیا ہے۔ چونکہ ایڈوانس ٹیکس ایڈجسٹ ایبل (قابلِ تلافی) ہوتا تھا، اس لیے برآمد کنندگان کو اکثر سیٹلمنٹ یا ریفنڈز کے لیے انتظار کرنا پڑتا تھا جس سے ان کا سرمایہ پھنس جاتا تھا۔ اس کے خاتمے سے کمپنیوں کے کیش فلو (نقد بہاؤ) میں بہتری آنی چاہیے۔
آئی ٹی برآمد کنندگان پر اس کا حتمی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ اس اقدام کا اطلاق ان کے علیحدہ 0.25 فیصد فائنل ٹیکس ریجیم کے ساتھ کیسے کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود، مجموعی پیغام حوصلہ افزا ہے۔ البتہ جب بات مستحکم سافٹ ویئر برآمد کنندگان سے آگے بڑھتی ہے تو صورتحال کچھ غیر واضح ہو جاتی ہے۔
200 ملین روپے سے زائد سالانہ آمدنی والے بڑے ای-کامرس سیلرز کے لیے، آن لائن مارکیٹ پلیس ٹرانزیکشنز پر کٹنے والا ٹیکس اب ایڈجسٹ ایبل ہوگا۔ اس اقدام سے اس خطرے میں کمی آنی چاہیے کہ کٹوتی ایک اضافی لاگت بن جائے، تاہم چھوٹے آن لائن کاروبار کو اس کا فائدہ کم ہی ہوگا کیونکہ انہیں اب بھی رجسٹریشن، بک کیپنگ اور مالیات تک رسائی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
بینک اب یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز سے ڈیجیٹل تخلیق کاروں اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی حاصل کردہ آمدنی پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس بھی لاگو کریں گے۔ آن لائن آمدن کو ٹیکس نیٹ میں لانا تو ایک معقول قدم ہے لیکن اگر ٹیکس کی واپسی (ریفنڈ) یا ایڈجسٹمنٹ کا کوئی آسان عمل موجود نہ ہوا تو یہ کٹوتی چھوٹے تخلیق کاروں اور فری لانسرز کے کیش فلو کو متاثر کر سکتی ہے جن کی آمدنی بے قاعدہ ہوتی ہے۔
موبائل فون ڈسٹری بیوٹرز پر ایڈوانس ٹیکس کو بھی 0.25 فیصد سے بڑھا کر 0.5 فیصد کردیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ ٹیکس ایڈجسٹ ایبل (قابلِ تلافی) ہے اور بڑے ڈسٹری بیوٹرز پر اس کا طویل مدتی اثر شاید کم ہو لیکن یہ ان چھوٹے کاروبار کے لیے ورکنگ کیپیٹل کی لاگت میں اضافہ کرسکتا ہے جو پہلے ہی بہت کم مارجن پر کام کررہے ہیں۔
وفاقی ترقیاتی پروگرام میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام ڈویژن کے لیے 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں (اگرچہ یہ ایک ٹریلین روپے کے مجموعی وفاقی پی ایس ڈی پی کے مقابلے میں ایک معمولی رقم ہے)۔ یہ مختص رقم سرکاری شعبے کے ٹیکنالوجی، کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹلائزیشن کے منصوبوں کے لیے کچھ گنجائش فراہم کرتی ہے۔
بجٹ میں آئی ٹی سیکٹر کی دیگر رکاوٹوں کے لیے کوئی براہ راست اقدامات نظر نہیں آتے، جیسے کہ براڈبینڈ کی توسیع، اسپیکٹرم میں سرمایہ کاری، ڈیٹا سینٹرز، کلاؤڈ انفرااسٹرکچر اور سائبر سیکیورٹی وغیرہ کے لیے کوئی ریلیف شامل نہیں ہے۔ ٹیکس کی رعایت میں توسیع یقیناً رفتار کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے لیکن یہ خود اس صنعت کو آؤٹ سورسنگ اور فری لانسنگ سے نکال کر اعلیٰ ویلیو والے سافٹ ویئر پروڈکٹس، انٹلیکچوئل پراپرٹی، مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ سروسز اور علاقائی ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز کی طرف لے جانے کے لیے کافی نہیں ہے۔
حکومت کو توقع ہے کہ خدمات کی کل برآمدات مالی سال 2026 میں 10.9 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2027 میں 11.3 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی جس کی بنیادی وجہ آئی ٹی سیکٹر کی مسلسل ترقی ہے۔ یہ ایک پیشرفت تو ہے لیکن اسے ایک بڑی چھلانگ قرار دینا مشکل ہے۔ یہ معمولی اضافہ (3.7 فیصد) اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بجٹ کو ایک نئے توسیعی مرحلے کے آغاز کے بجائے موجودہ رجحان کے تحفظ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
مجموعی طور پر مالی سال 2027 کا بجٹ لسٹڈ اور برآمدی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے مثبت، ای کامرس اور ڈیجیٹل تخلیق کاروں کے لیے ملا جلا اور ٹیلی کام و مواصلات کے شعبے کے لیے بڑی حد تک غیر جانبدار ہے۔ سیکٹر کو ٹیکس کے حوالے سے یقین دہانی اور کچھ مہلت ضرور ملی ہے لیکن اسے وہ قابلِ اعتماد روڈ میپ نہیں ملا جو پاکستان کو ایک کم لاگت والی ٹیکنالوجی سروسز فراہم کرنے والی معیشت سے نکال کر سرمایہ کاری پر مبنی اور پروڈکٹ-اورینٹڈ ڈیجیٹل اکانومی میں تبدیل کر سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments