کیون وارش کی سربراہی میں پہلے فیڈرل ریزرو اجلاس سے قبل ڈالر دباؤ کا شکار
- جاپانی ین کو کمزور امریکی ڈالر کے مقابلے میں کوئی خاص سہارا نہ مل سکا
امریکی ڈالر بدھ کو چیئرمین کیون وارش کے ماتحت فیڈرل ریزرو کے پہلے پالیسی فیصلے سے قبل دباؤ کا شکار رہا جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدے کے بارے میں پائی جانے والی امیدوں نے سرمایہ کاروں کی رسک لینے کی صلاحیت کو بڑھایا جس سے امریکی کرنسی کی مانگ میں کمی واقع ہوئی۔
جاپانی ین کو کمزور امریکی ڈالر کے مقابلے میں کوئی خاص سہارا نہ مل سکا اور یہ مزید انٹروینشن کے خطرناک زون میں چلا گیا کیونکہ جاپان بینک کی جانب سے پہلے سے اشارہ کردہ شرحِ سود میں اضافے نے مارکیٹ کو زیادہ حیران نہیں کیا اور اس کے اثرات محدود رہے۔
ایشیائی سیشن کے ابتدائی اوقات میں کرنسی کی نقل و حرکت کافی محدود رہی کیونکہ سرمایہ کار دن کے آخر میں فیڈرل ریزرو کے پالیسی فیصلے سے قبل بڑی پوزیشنز لینے سے گریزاں رہے۔
یورو 1.1611 ڈالر پر مستحکم رہا جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3430 ڈالر پر تقریباً غیر تبدیل شدہ رہا۔
نیوزی لینڈ ڈالر معمولی اضافے کے ساتھ 0.5833 ڈالر تک پہنچ گیا۔
متوقع ہے کہ وارش کے پہلے اجلاس میں فیڈرل ریزرو شرح سود کو موجودہ سطح پر ہی برقرار رکھے گا۔ تاہم کمیٹی کے جاری کردہ بیان معاشی پیش گوئیوں اور پریس کانفرنس کا بغور جائزہ لیا جائے گا تاکہ ان اشاروں کو سمجھا جا سکے کہ آیا فیڈ اپنے نرم پالیسی رجحان کو ترک کررہا ہے کیونکہ حکام افراط زر کے خطرات پر پہلے سے زیادہ سخت موقف اپناتے جا رہے ہیں۔
ایم ایف ایس انویسٹمنٹ مینجمنٹ کے چیف اکانومسٹ اور پورٹ فولیو منیجر ایرک ویسمین نے کہا کہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے مستقبل میں مانیٹری پالیسی کے حوالے سے غیر جانبدارانہ موقف کا اشارہ دینے کا امکان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کیون وارش کو اس بارے میں سوالات کی بوچھاڑ کا سامنا کرنا پڑے گا کہ وہ فیڈرل ریزرو کو اس سمت میں کیسے لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کا اشارہ وہ برسوں سے دیتے آئے ہیں۔ ابھی تو یہ ابتدا ہے۔ نئے فیڈ چیئرمین شاید ابھی بھی اس کمیٹی کے مزاج کو بھانپ رہے ہوں گے جسے ساتھ لے کر انہیں کامیاب پالیسی تشکیل دینی ہے۔
ہو سکتا ہے کہ وہ فیڈ کے اندر اتفاق رائے پیدا کیے بغیر کوئی بھی بیان دینے سے گریز کریں۔
مختلف کرنسیوں کے مقابلے میں (ڈالر انڈیکس) ڈالر معمولی کمی کے بعد 99.53 پر آ گیا، جس نے ان محفوظ سرمایہ کاری کے فوائد کو کچھ کم کر دیا ہے جو مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد حاصل ہوئے تھے۔


Comments