BR100 Decreased By (-0.83%)
BR30 Decreased By (-1.2%)
KSE100 Decreased By (-0.63%)
KSE30 Decreased By (-0.71%)
BAFL 58.69 Increased By ▲ 0.02 (0.03%)
BIPL 27.00 Decreased By ▼ -0.08 (-0.3%)
BOP 33.70 Decreased By ▼ -0.22 (-0.65%)
CNERGY 11.01 Decreased By ▼ -0.09 (-0.81%)
DFML 18.06 No Change ▼ 0.00 (0%)
DGKC 212.03 Decreased By ▼ -3.80 (-1.76%)
FABL 100.14 Decreased By ▼ -0.55 (-0.55%)
FCCL 55.14 Decreased By ▼ -0.76 (-1.36%)
FFL 16.10 Increased By ▲ 0.02 (0.12%)
GGL 23.75 Decreased By ▼ -0.15 (-0.63%)
HBL 306.99 Decreased By ▼ -2.25 (-0.73%)
HUBC 218.48 Decreased By ▼ -1.41 (-0.64%)
HUMNL 10.70 Decreased By ▼ -0.03 (-0.28%)
KEL 7.26 Decreased By ▼ -0.04 (-0.55%)
LOTCHEM 26.91 Decreased By ▼ -0.38 (-1.39%)
MLCF 95.93 Decreased By ▼ -1.52 (-1.56%)
OGDC 314.11 Decreased By ▼ -4.98 (-1.56%)
PAEL 41.92 Decreased By ▼ -0.60 (-1.41%)
PIBTL 16.74 Decreased By ▼ -0.34 (-1.99%)
PIOC 267.17 Decreased By ▼ -5.81 (-2.13%)
PPL 217.72 Decreased By ▼ -3.60 (-1.63%)
PRL 62.70 Decreased By ▼ -0.72 (-1.14%)
SNGP 106.80 Increased By ▲ 0.92 (0.87%)
SSGC 26.74 Increased By ▲ 0.81 (3.12%)
TELE 8.48 Increased By ▲ 0.02 (0.24%)
TPLP 14.94 Increased By ▲ 0.23 (1.56%)
TRG 60.67 Decreased By ▼ -0.14 (-0.23%)
UNITY 10.13 Increased By ▲ 0.12 (1.2%)
WTL 1.21 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

مئی میں کرنٹ اکاؤنٹ 459 ملین ڈالر سرپلس ریکارڈ

  • یہ سرپلس اپریل 2026 میں ریکارڈ کیے گئے 276 ملین ڈالرخسارے، مئی 2025 میں ریکارڈ کیے گئے 44 ملین ڈالر کے خسارے کے بعد سامنے آیا
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ گزشتہ ماہ مئی میں ریکارڈ سرپلس رہا۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملکی کرنٹ اکاؤنٹ مئی 2026 کے دوران 459 ملین ڈالر کے بڑے سرپلس میں رہا۔

یہ سرپلس اپریل 2026 میں ریکارڈ کیے گئے 276 ملین ڈالر کے خسارے اور مئی 2025 میں ریکارڈ کیے گئے 44 ملین ڈالر کے خسارے کے بعد سامنے آیا۔

یہ سرپلس مئی کے دوران ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافے اور برآمدات میں معمولی بہتری کے باعث حاصل ہوا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مئی 2026 کے دوران ملکی مجموعی برآمدات (اشیا اور خدمات) کا حجم 3.21 بلین ڈالر رہا جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے 3.17 بلین ڈالر کے مقابلے میں 1 فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔

دریں اثنا مئی 2026 میں مجموعی درآمدات 6.49 بلین ڈالر رہیں جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے 6.39 بلین ڈالر کے مقابلے میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 2 فیصد زیادہ ہیں۔

مئی 2026 کے دوران ترسیلاتِ زر 4.25 ارب ڈالر رہیں جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ رقم 3.69 ارب ڈالر تھی، یوں سالانہ بنیاد پر ترسیلاتِ زر میں 15.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ 255 ملین ڈالر کے مجموعی سرپلس میں رہا جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں ریکارڈ کیے گئے 1.62 ارب ڈالر کے سرپلس کے مقابلے میں 84 فیصد کم ہے۔

وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ یہ سرپلس پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن میں مسلسل بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ”پانچ میں سے چار مہینوں میں سرپلس! مضبوط بیرونی کھاتہ پائیدار بلند اقتصادی ترقی کی بنیاد ہے۔“

پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر (سی آر آر/ایس سی آر آر کو چھوڑ کر) بڑھ کر 17.27 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جو گزشتہ سال کے 11.62 ارب ڈالر کے مقابلے میں 49 فیصد کا نمایاں سالانہ اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ پر جاری ساختی دباؤ کے باوجود ملک کے بیرونی بفرز مضبوط ہوئے ہیں۔

ریئر انڈیکس

پاکستان کا رئیل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (ریئر) اپریل 2026 میں 105.84 کے مقابلے میں مئی 2026 میں بڑھ کر 106.15 ہو گیا۔

100 سے زیادہ ریئر کا مطلب ہے کہ ملکی برآمدات غیر مسابقتی ہیں جب کہ درآمدات سستی ہیں۔ جب ریئر انڈیکس پر 100 سے نیچے ہوتا ہے تو صورتحال الٹ جاتی ہے۔

دریں اثنا نومنل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (نیئر) انڈیکس میں مئی 2026 کے دوران ماہانہ 0.03 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد یہ اپریل 2026 کے 37.89 سے بڑھ کر 37.9 پر پہنچ گیا۔

Comments

200 حروف