سروس لانگ مارچ ٹائرز لمیٹڈ (ایس ایل ایم) نے پاکستان کے کیپٹل مارکیٹس میں تاریخ رقم کرتے ہوئے ملک کی نجی شعبے کی سب سے بڑی ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) مکمل کر لی ہے، جس کے ذریعے 7.78 ارب روپے اکٹھے کیے گئے ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ کے دوران مجموعی طور پر 85 ارب روپے (تقریباً 30 کروڑ امریکی ڈالر) کی سرمایہ کار دلچسپی سامنے آئی، جو تقریباً 35,565 ادارہ جاتی اور ریٹیل درخواستوں پر مشتمل تھی۔ بک بلڈنگ کے ادارہ جاتی مرحلے میں زبردست طلب دیکھی گئی، جو صرف 5 سیکنڈز میں مکمل طور پر سبسکرائب ہو گئی اور 16.7 گنا اوور سبسکرائب رہی، جبکہ ریٹیل سرمایہ کاروں کی طلب 7.6 گنا زیادہ رہی۔
اس غیر معمولی دلچسپی کے باعث حتمی حصص کی قیمت 14.25 روپے کی بنیادی قیمت سے بڑھ کر 19.95 روپے فی شیئر مقرر ہوئی، جس کے نتیجے میں کمپنی کی لسٹنگ کے بعد مارکیٹ کیپٹلائزیشن 155 ارب روپے (تقریباً 55 کروڑ 60 لاکھ ڈالر) تک پہنچ گئی اور یہ پاکستان کی تاریخ کی نجی شعبے کی سب سے بڑی لسٹنگ بن گئی۔
مالی کامیابیوں کے علاوہ، یہ لسٹنگ ایک اہم سنگ میل بھی ہے کیونکہ یہ پاکستان-چین مشترکہ منصوبے کی پہلی کمپنی ہے جو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹ ہوئی ہے، اور یہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے صنعتی مرحلے کے لیے ایک ماڈل کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منعقدہ گونگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ کمپنی کووڈ-19 کی وبا کے دوران چینی مہارت اور سرمایہ کاری سے قائم ہوئی اور آئندہ سال 10 کروڑ ڈالر کی برآمدات حاصل کرنے کی سمت میں گامزن ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایس ایل ایم کی لسٹنگ ایک قابل فخر سنگ میل ہے اور یہ کمپنی عالمی سطح پر ٹائر انڈسٹری کی منافع بخش کمپنیوں میں شامل ہو چکی ہے۔
چائنا فنانشل فیوچرز ایکسچینج کے ایگزیکٹو نائب صدر یو ہانگ نے کہا کہ یہ بڑی لسٹنگ پاکستان اور چین کے درمیان تعاون پر اعتماد کی عکاسی کرتی ہے اور مستقبل میں چینی کمپنیوں کے لیے پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ میں داخلے کا ماڈل ثابت ہوگی۔
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی سرمایہ کار بنیاد کو پانچ گنا بڑھانے کی کوششوں کے تحت کمپنی کی انتظامیہ نے بتایا کہ جمع شدہ سرمایہ کو ہر سال نئی عالمی منڈیوں میں داخلے اور پیداوار بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے گا، جس میں ٹرک اور بس ٹائرز سے آگے بڑھ کر مسافر گاڑیوں کے ٹائرز بھی شامل ہوں گے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ایم ڈی اور سی ای او فرخ ایچ سبزواری کے مطابق مارکیٹ کی مجموعی مالیت 21 کھرب روپے تک پہنچ گئی ہے اور 2000 کی دہائی کے وسط کے بعد پہلی بار ڈبل ڈیجٹ آئی پی او لسٹنگز دیکھی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس مالی سال میں 5 لاکھ 63 ہزار سے زائد منفرد سرمایہ کار رجسٹر ہوئے ہیں، جن میں نوجوان (ملینیئلز اور جنریشن زی) نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔


Comments