بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری : حکومت نے وزیراعظم اپنا گھر پروگرام تک رسائی کی اجازت دیدی
- حکومت کا نان ریزیڈنٹ پاکستانیوں کو وزیراعظم اپنا گھر پروگرام میں شامل کرنے کا فیصلہ
حکومت نے ملک میں گھروں کی ملکیت کے عمل کو تیز کرنے اور تعمیراتی شعبے میں سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے وزیراعظم اپنا گھر پروگرام (اے جی پی) کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے، جس کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی رعایتی ہاؤسنگ فنانس تک رسائی کی اجازت دیدی گئی ہے اور فنانسنگ کے نئے ذرائع متعارف کرائے گئے ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پیر کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی حکومت نے وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے لیے کثیر جہتی حکمتِ عملی کی منظوری دی ہے اور اسکیم میں درج ذیل اضافے متعارف کرائے ہیں:
- نائیکوپ (این آئی سی او پی) یا پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی) کے حامل اوورسیز/ غیر مقیم پاکستانی (این آر پیز) بھی اب وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت فنانسنگ حاصل کر سکتے ہیں۔
- اسکیم میں شامل مالیاتی ادارے (پی ایف آئیز) محکمہ جاتی سطح پر بلک پروسیسنگ کے ذریعے سرکاری ملازمین کے لیے ادارہ جاتی فنانسنگ کے انتظامات کر سکتے ہیں۔
- اسکیم میں شامل مالیاتی ادارے نجی ڈویلپرز کے ہاؤسنگ پروجیکٹس کے لیے بھی فنانسنگ فراہم کر سکتے ہیں۔
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شروع کی گئی ایک رعایتی ہاؤسنگ فنانس اسکیم ہے۔ یہ اسکیم پہلی بار گھر بنانے والوں کو رہائشی جائیداد خریدنے، تعمیر کرنے یا اس کی تزئین و آرائش کرنے کی اجازت دیتی ہے۔
چند روز قبل وزیراعظم شہباز شریف نے حکام اور بینکوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ حکومت کی اپنا گھر اسکیم کے تحت درخواستوں کی پروسیسنگ کو تیز کریں، کیونکہ اس پروگرام کے تحت قرضوں کی کل تقسیم 11 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔
اسکیم کی پیشرفت پر جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہاؤسنگ اقدام میں شہریوں کی بڑھتی ہوئی شرکت حوصلہ افزا ہے اور یہ پروگرام پر عوامی اعتماد کی عکاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم اسی رفتار سے آگے بڑھتے رہے تو مستحق شہریوں کی ایک بڑی تعداد کے لیے اپنا گھر ہونے کا خواب حقیقت بن جائے گا۔
شہباز شریف نے اصرار کیا کہ اس اسکیم کی کامیابی سے تعمیراتی شعبے میں ترقی کو تحریک ملے گی، متعلقہ صنعتوں کو فروغ ملے گا اور مجموعی معاشی ترقی میں مدد ملے گی۔
وزیراعظم نے وزارتِ ہاؤسنگ کو ہدایت کی کہ وہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ مل کر قرض کی درخواست کا فارم سادہ بنائے، تاکہ درخواست گزاروں کے لیے یہ عمل آسان ہو سکے۔ انہوں نے بینکوں کو اہل درخواستوں کی منظوریوں میں تیزی لانے کی بھی ہدایت کی۔


Comments