اسٹیٹ بینک کا ڈیجیٹل ادائیگیوں سے متعلق ملک گیر سروے کا آغاز
- ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو مزید مؤثر اور صارف دوست بنانے کیلئے صارفین سے براہِ راست آرا اور تجاویز حاصل کی جائیگی
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک بھر میں ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات پر صارف کے تجربے کے موضوع پر ایک جامع سروے شروع کردیا ہے جس کا مقصد صارفین سے براہِ راست آرا اور تجاویز حاصل کرنا ہے تاکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو مزید مؤثر اور صارف دوست بنایا جا سکے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران محفوظ، قابلِ اعتماد اور جامع ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے متعدد پالیسی اور ریگولیٹری اقدامات کیے گئے جن کے نتیجے میں موبائل بینکاری ایپس، ڈیجیٹل والٹس، کارڈز، راست اور انٹر بینک فنڈ ٹرانسفر کے ذریعے ادائیگیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے استعمال کے پیشِ نظر صارفین کے تجربات، توقعات اور مسائل کو سمجھنا ضروری ہے۔
سروے کے ذریعے خدمات کے معیار، استعمال میں آسانی، ٹرانزیکشنز پر اعتماد، شکایات کے ازالے کے نظام، دھوکہ دہی سے متعلق خدشات اور مجموعی صارف تجربے سے متعلق معلومات جمع کی جائیں گی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق سروے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد تیار کیا گیا اور اس کے نتائج ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں تحفظ، سہولت، رسائی اور اعتماد کو مزید بہتر بنانے کے لیے پالیسی سازی میں معاون ثابت ہوں گے۔
بینک نے ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات استعمال کرنے والے تمام صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ سروے میں حصہ لے کر اپنی قیمتی آرا اور تجاویز فراہم کریں تاکہ پاکستان میں ایک زیادہ مؤثر، صارف دوست اور ڈیجیٹل طور پر با اختیار مالی نظام کی تشکیل میں مدد مل سکے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ سروے 10 جولائی 2026 تک جاری رہے گا۔
سروے میں شرکت کیلئے صارفین اسٹیٹ بینک کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب لنک کے ذریعے رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ سروے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد تیار کیا گیا اور پاکستان کے ڈجیٹل مالی نظام کو مزید مضبوط بنانے کیلئے اسٹیٹ بینک کے مشاہدات پر مبنی وسیع تر نقطۂ نظر کا حصہ ہے۔
سروے کے نتائج اسٹیٹ بینک کو ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات کے تحفظ، سہولت، رسائی اور ان کے قابلِ اعتماد ہونے کے حوالے سے مزید بہتری کے مواقع کی نشاندہی کرنے میں مدد فراہم کریں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments