ڈی پی سی نے اہل ڈپازٹرز کیلئے تحفظ کی حد دگنی کردی
- 30 جون 2025 تک تمام شیڈول بینکوں میں 91.78 ملین ڈپازٹرز موجود
ڈپازٹ پروٹیکشن کارپوریشن (ڈی پی سی) نے اپنے ممبر بینکوں کے تمام اہل ڈپازٹرز کے لیے فی ڈپازٹر فی بینک ڈپازٹ تحفظ کی حد کو بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دیا ہے۔
ڈی پی سی نے مالی سال 25-2024 کے لیے اپنی پانچویں سالانہ رپورٹ جاری کردی۔ یہ رپورٹ کارپوریشن کی مالی کارکردگی، آپریشنل سرگرمیوں اور حاصل کردہ کامیابیوں کی تفصیلات فراہم کرنے کے مقصد سے جاری کی گئی ہے۔
ڈی پی سی کو ڈپازٹ پروٹیکشن کارپوریشن ایکٹ 2016 کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ یہ ادارہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا ذیلی ادارہ ہے، اس کا بنیادی مقصد اسٹیٹ بینک کی جانب سے مطلع کیے جانے کی صورت میں کسی بھی ممبر بینک کے دیوالیہ یا ناکام ہونے پر ڈپازٹرز کو معاوضہ ادا کرنا اور مالی مشکلات کا شکار ممبر بینکوں کے بحران کے حل کے لیے مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈی پی سی نے اپنے ممبر بینکوں کے تمام اہل ڈپازٹرز کیلئے فی ڈپازٹر فی بینک تحفظ کی حد بڑھا کر 10 لاکھ روپے کردی ہے۔ یہ اس کے قیام کے چھ سال کے اندر حفاظتی حد میں دوسرا اضافہ ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق 30 جون 2025 تک تمام شیڈول بینکوں میں 9 کروڑ 17 لاکھ 80 ہزار (91.78 ملین) ڈپازٹرز موجود ہیں جن میں سے 9 کروڑ 8 لاکھ 30 ہزار (90.83 ملین) اہل ڈپازٹرز ہیں۔ ان کے ڈپازٹس کو اس وقت کارپوریشن کی جانب سے مقرر کردہ فی ڈپازٹر فی بینک 10 لاکھ روپے کی حد تک تحفظ حاصل ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپازٹ پروٹیکشن فنڈ 200 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جو ڈی پی سی کی اپنے مینڈیٹ کو مؤثر طریقے سے پورا کرنے کی مضبوط مالی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
مزید برآں رپورٹ میں ڈی پی سی ایکٹ 2016 میں کی جانے والی ترامیم پر بھی روشنی ڈالی گئی جس میں مالی مشکلات کا شکار ممبر بینکوں کے بحران کے حل (ریزولوشن) کے لیے کارپوریشن کے سپورٹ فنکشن کی توسیع پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں ایک جامع مالیاتی جائزہ بھی شامل ہے جس میں پانچ سالہ تقابلی تجزیہ، خود مختار آڈیٹر کی رپورٹ اور مالیاتی سال 25-2024 کے آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے پیش کیے گئے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments