دعوے بہت، مگر میدان میں کون اترے گا؟
- ہماری قومی بیماریوں سے ہر شخص واقف ہے، گو کہ سب گہرا ادراک نہیں رکھتے مگر مسائل کا سطحی فہم ہر ایک کو ہے
ہم میں سے ہر شخص یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ شاید ہی ہمارا کوئی ایسا ہم وطن ہو جو اس حقیقت سے بے خبر ہو کہ بطور معاشرہ یا وسیع تر تناظر میں بطور قوم ہم کن موذی امراض کا شکار ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ ہر فرد ان پیچیدہ عوامل اور پہلوؤں کا گہرا ادراک نہ رکھتا ہو جو ہماری روزمرہ کی زندگی کو مفلوج کر رہے ہیں لیکن یہ بالکل طے ہے کہ اکثریت ہمارے مسائل کا گہرا نہیں تو سطحی فہم ضرور رکھتی ہے۔
آپ سڑک پر چلتے کسی بھی عام آدمی سے بات کرکے دیکھیں وہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ، بریک ڈاؤن، پانی اور گیس کی قلت اور دیگر شہری سہولتوں کے فقدان جیسے مسائل پر اپنی رائے کے معیار سے آپ کو حیران کر دے گا۔ کچھ لوگ تو ہماری خارجہ پالیسی پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کریں گے اور علاقائی و بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں پاکستان کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں اس پر تجاویز دینے کی جسارت بھی کر لیں گے۔
ہر صبح اور شام ٹی وی چینلز کی بڑھتی ہوئی تعداد پر ہمیں ان دانشوروں کے خیالات سے ٹارچر کیا جاتا ہے، جنہیں دنیا کے ہر موضوع پر بولنے کا خود ساختہ لائسنس ملا ہوا ہے بلکہ ان میں سے بیشتر تو ملک کو آگے لے جانے کے لیے مفت مشورے بھی دیتے ہیں۔ چنانچہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہم اپنے مسائل سے اچھی طرح واقف ہیں۔
گزشتہ رات میں نے ایک معروف ٹی وی اینکر کا ایک مختصر کلپ دیکھا جس میں وہ موجودہ وزیر دفاع سے پوچھ رہے تھے کہ انہوں نے پہلی بار کون سی وزارتیں سنبھالیں؟ جس کے جواب میں وزیر موصوف نے نصف درجن سے زائد ایسی وزارتیں گنوائیں جن کی انہوں نے بطور وفاقی وزیر قیادت کی تھی جیسے ہی انہوں نے یہ لمبی فہرست مکمل کی اینکر نے برجستہ جملہ کسا لیکن کوئی ایک مسئلہ یا بحران کبھی حل نہیں ہوا!۔ وزیر صاحب ہکا بکا رہ گئے، وہ الفاظ کے لیے جدوجہد کرتے نظر آئے اور یوں لگا جیسے ان کی آواز گلے میں ہی پھنس کر رہ گئی ہو۔ مجھے پورا یقین ہے کہ وزیر موصوف ان تمام وزارتوں کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں جن کے وہ سربراہ رہے، لیکن کسی نہ کسی طرح یا تو وہ کوئی ٹھوس اور قابلِ عمل حل پیش نہ کر سکے یا پھر یہ جی وزیرِ اعظم (یس منسٹر) والا وہ سنڈروم ہو سکتا ہے جہاں بیوروکریسی کا روایتی جمود اور طریقہ کار و ضوابط کی ناقابلِ تسخیر سرخ فیتہ شاہی راستے کی رکاوٹ بن گئی ہو۔ ہم نوآبادیاتی بیوروکریسی کی فرسودہ من مانیوں کے سخت گیر پیروکار ہیں۔قوانین کے ڈھانچے کو فائلوں کی نذر کرکے ہر نئی سوچ اور انقلابی اقدام کا گلا گھونٹنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے، شاذ و نادر ہی کبھی اس قانون کو ترقی اور خوشحالی کی راہ ہموار کرنے کے لیے کام میں لایا گیا ہو۔
ہر پاکستانی اس حقیقت سے واقف ہے کہ آن لائن برآمدات پر مبنی معاشی حکمتِ عملی ہی ملک کو لامتناہی قرضوں کی اس دلدل سے نکال سکتی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر کے بڑھتے ہوئے اعداد و شمار جو اس وقت ہمارے لیے لائف لائن کی حیثیت رکھتے ہیں، برآمدات اور درآمدات کے درمیان غیر ملکی کرنسی کے اس وسیع خلیج کو پاٹنے کے لیے کوئی قابلِ اعتماد، مستحکم اور پائیدار ذریعہ نہیں ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ ہنگامہ خیزی اور بدلتے حالات پالیسی سازوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونے چاہئیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وہاں مقیم پاکستانی کارکنوں کو اپنی ملازمتیں برقرار رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، اب صرف یہی امید کی جا سکتی ہے کہ یہ خبریں سچی نہ ہوں۔
جی ڈی پی کے مقابلے میں ٹیکس کی شرمناک حد تک کم شرح سے اب ہر پاکستانی واقف ہے اور اس پر لامتناہی بحث کی جا سکتی ہے۔ تاہم تنخواہ دار طبقے کو چھوڑ کرباقی تمام بااثر طبقات یا تو صریح ٹیکس چوری میں ملوث ہیں یا پھر مہذب اور لچھے دار الفاظ کا سہارا لے کر ٹیکس ریلیف کی آڑ ڈھونڈتے ہیں، جس کا واحد مقصد قومی خزانے کو چونا لگانا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ریٹیلرز اور جاگیردار طبقے پر یا تو سرے سے ٹیکس عائد ہی نہیں یا پھر ان کا حصہ آٹے میں نمک کے برابر ہے تو پھر ہمیں ٹیکسوں کی منصفانہ وصولی سے کون روک رہا ہے؟ کیا یہ ہماری قومی ذہنیت کا نقص ہے یا بیوروکریسی کا روایتی جمود؟ یا پھر یہ ان دونوں کا ایک مہلک ترین امتزاج ہے؟ آخر ٹیکس جمع کرنے کے لیے کون سی راکٹ سائنس درکار ہے؟
عوام کی اکثریت اس تلخ حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ ہم نجی بجلی گھروں (آئی پی پیز) کو ایک واٹ بجلی پیدا کیے بغیر بھی کیپیسٹی چارجز کی مد میں اربوں روپے لٹا رہے ہیں۔ یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ فرسودہ ٹرانسمیشن لائنیں ہماری ناقص ترین سپلائی کی بڑی وجہ ہیں، ہر کوئی جانتا ہے کہ بااثر اور مقتدر اشرافیہ بجلی کے بل ادا کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتی ہے، جبکہ معاشرے کا پسا ہوا طبقہ اس کا توڑ کنڈی کنکشن کی شکل میں نکالتا ہے۔ یعنی امیر ہو یا غریب دونوں ہی ریاست کو دھوکہ دینے میں برابر کے شریک ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس دیدہ دلیری پر اب تک کیا کارروائی کی گئی؟ جواب ہے کچھ بھی نہیں! کارروائی کا یہ فریضہ کون انجام دے گا؟ نامعلوم۔ کوئی، ہر کوئی، یا کوئی بھی نہیں، ان تین گمنام کرداروں کی فکری بحث میں الجھ کر واجبات کی وصولی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو پائے گا۔
یہی ’مصلحت آمیز بے عملی‘ سب سے زیادہ متوسط طبقے کے لیے سوہانِ روح بنتی ہے۔ یہ وہ پسا ہوا طبقہ ہے جو یا تو دیانتداری کی مضبوط موروثی اقدار کے باعث سب سے زیادہ نقصان اٹھاتا ہے یا پھر چوری اور دھوکہ دہی کے مواقع سے محرومی کی وجہ سے چکی کے دو پاٹوں میں پس کر رہ جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ دونوں متضاد رویے اس حد تک جڑ پکڑ چکے ہیں کہ اب یہاں کچھ بھی بدلتا نظر نہیں آتا۔
ہر بالغ شخص جانتا ہے کہ ڈھائی کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، یہ بات بار بار کہی اور رپورٹ کی جاتی ہے تو اس بنیادی مسئلے کو کون حل کر رہا ہے، جو کہ مستقبل کے رہنماؤں کے لیے ایک سماجی بم بن رہا ہے جس سے انہیں نمٹنا ہوگا؟
اگر ہر شخص سیاست، معیشت اور سماجی برائیوں کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے تو یہ تسلیم کرنا بہت مشکل ہے کہ پالیسی ساز اس اہم ترین علم سے معصوم یا بے خبر ہیں۔ یہ تب ہوتا ہے جب حکام خود ان بیماریوں کے تدارک کے لیے اقدامات کی کمی کا رونا رونا شروع کر دیتے ہیں تو عام آدمی کو اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی نااہلی یا حل تلاش کرنے میں ان کی عدم دلچپی کا پتہ چلتا ہے۔
بدعنوانی کئی سروں کی بلاؤں کی طرح حکومت اور انتظامیہ کی ہر شاخ سے لپٹ چکی ہیں۔ کرپشن ترقی کا راستہ روکتی ہے۔ سیاست دانوں کو کم قصوروار ٹھہرایا جا سکتا ہے لیکن حکومت یا پارلیمنٹ کی بنائی گئی پالیسیوں پر عمل درآمد نہ کرنے کا الزام یقیناً انتظامیہ کو ہی لینا چاہیے۔
سیاست اور معیشت ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں جیسے جڑواں بچے۔ ڈاکٹر ہنری کسنجر نے لکھا تھا کہ عالمی نظام اپنے شرکاء کو معاشی معیار کے مطابق انعام اور سزا دیتا ہے لیکن عوام کے لیے یہ معیارات وفاداریوں اور وابستگیوں کو بیدار کرنے کے لیے بہت زیادہ پیچیدہ اور مبہم ہیں۔ کسی بھی بحران میں عوام معاشی سزاؤں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اپنے سیاسی رہنماؤں کی طرف دیکھیں گے۔ یہ بات اس وقت اور بھی سچ ثابت ہوتی ہے جب معاشی پھیلاؤ کا دور بھی آبادی کے ایک حصے پر اپنا اثر چھوڑ جاتا ہے، جس کی وجہ سے زیادہ تر ممالک میں خصوصاً ترقی پذیر دنیا میں ایک مستقل نیا اقلیتی طبقہ ہمیشہ پسِ پردہ اپنی ناراضگیوں اور غصے کا اظہار کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ ہمارے تناظر میں ڈر یہ ہے کہ یہ اقلیت کہیں بڑھ کر اکثریت میں تبدیل نہ ہو جائے۔
فضول خرچی کا مکمل خاتمہ اور غیر پیداواری اخراجات میں کمی ہونی چاہیے۔ تاہم یہ سب کی طرف سے قربانی کا تقاضا کرتا ہے۔ کیا کوئی اس کے لیے تیار ہے؟ سڑکوں پر غصے اور احتجاج کے ڈیرے ڈالنے کا خوف کوئی صحت مند علامت نہیں ہے۔
حکمت و دانائی خاموشی کی کوکھ سے جنم لیتی ہے۔ یہ معاشرے کے روزمرہ کے ان معمولات میں جھلکتی ہے جو ہمیں آپس میں جوڑتے ہیں، ایک دوسرے کا احساس دلاتے ہیں اور ہماری زندگیوں کو معنی خیز بناتے ہیں۔ عمل کرنا۔ جو کچھ کرنے کی ضرورت ہے وہ یقیناً کسی ایک آدمی کا کام نہیں، نتائج حاصل کرنے کے لیے اجتماعی عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔
میں اپنی بات کا اختتام دو جاپانی محاوروں یا اقوالِ زریں پر کروں گا۔ پہلا ’’چیری مو تسوموریبا یاما تو نارو ’’ جس کا مطلب ہے کہ چھوٹے چھوٹے مکرر اقدامات تبدیلی کا ایک با معنی اثر پیدا کر سکتے ہیں اور دوسرا ہے ’’ کومو نو اوے وا اتسومو ہارے ’’ جس کا مطلب ہے کہ بادلوں کے اوپر ہمیشہ دھوپ ہوتی ہے۔ دونوں محاوروں کی بہترین وضاحت جاپان کی معروف ویلنس کوچ ساؤری اوکاڈا نے کی ہے۔
پہلے محاورے کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ جیسے دھول جمع ہو کر پہاڑ بن جاتی ہے، یہ کہاوت ایک یاد دہانی ہے کہ چھوٹی سی کوشش بھی کچھ غیر معمولی تعمیر کر سکتی ہے۔ مستقل مزاجی کی طاقت کو بڑے بڑے دعووں یا اقدامات کی ضرورت کے مقابلے میں کم تر سمجھا جاتا ہے۔ہمارے مسائل کو حل کرنے کا جواب مستقل اور با مقصد اقدامات میں ہی چھپا ہے۔
دوسرا محاورہ کہتا ہے کہ امید اور مثبت سوچ ہمیشہ قائم رہتی ہے، چاہے وہ زندگی کے چیلنجوں کے پیچھے ہی کیوں نہ چھپ جائے۔ کسی بھی بادل سے ہمیں افسردہ یا مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ دھوپ کے روشن لمحات بادلوں کے پیچھے ہی ہوتے ہیں اور ہمیں سخت محنت کرنی چاہیے اور ان کے چھٹ جانے کا انتظار کرنا چاہیے۔
ہم اپنے مسائل جانتے ہیں۔ ہم ان میں سے بیشتر کے حل بھی جانتے ہیں۔ آئیے اب مزید وقت ضائع نہ کریں اور مثبت جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں، چھوٹے چھوٹے اقدامات اکٹھے ہو کر ترقی اور خوشحالی کی ایک بڑی مہم میں تبدیل ہو جائیں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر2026


Comments