BR100 Decreased By (-0.98%)
BR30 Decreased By (-1.61%)
KSE100 Decreased By (-0.79%)
KSE30 Decreased By (-0.78%)
BAFL 56.50 Decreased By ▼ -0.37 (-0.65%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.05 Decreased By ▼ -0.30 (-0.99%)
CNERGY 12.90 Decreased By ▼ -0.22 (-1.68%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.99 Decreased By ▼ -4.46 (-2.32%)
FABL 93.85 Decreased By ▼ -0.29 (-0.31%)
FCCL 52.00 Decreased By ▼ -0.79 (-1.5%)
FFL 14.48 Decreased By ▼ -0.24 (-1.63%)
GGL 19.06 Decreased By ▼ -0.50 (-2.56%)
HBL 304.00 Decreased By ▼ -2.10 (-0.69%)
HUBC 199.25 Decreased By ▼ -2.17 (-1.08%)
HUMNL 9.99 Decreased By ▼ -0.17 (-1.67%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.27 Decreased By ▼ -0.19 (-0.72%)
MLCF 90.98 Decreased By ▼ -2.18 (-2.34%)
OGDC 313.38 Decreased By ▼ -3.35 (-1.06%)
PAEL 35.08 Decreased By ▼ -0.55 (-1.54%)
PIBTL 14.68 No Change ▼ 0.00 (0%)
PIOC 238.50 Decreased By ▼ -4.71 (-1.94%)
PPL 221.02 Decreased By ▼ -5.89 (-2.6%)
PRL 90.95 Decreased By ▼ -2.07 (-2.23%)
SNGP 90.55 Decreased By ▼ -1.29 (-1.4%)
SSGC 23.25 Decreased By ▼ -0.56 (-2.35%)
TELE 7.53 Decreased By ▼ -0.27 (-3.46%)
TPLP 12.55 Decreased By ▼ -0.42 (-3.24%)
TRG 56.15 Decreased By ▼ -0.41 (-0.72%)
UNITY 8.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

اسٹاک مارکیٹ میں خریداری کی واپسی، 100 انڈیکس 1400 پوائنٹس بڑھ گیا

  • بینچ مارک انڈیکس 170,330.56 پوائنٹس کی سطح پر بند
شائع اپ ڈیٹ

ایران اور اسرائیل کی جانب سے ایک دوسرے پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں خریداری کا رجحان واپس لوٹ آیا جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس میں ٹریڈنگ کے دوران تقریبا 1400 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا۔

کے ایس ای 100 انڈیکس کا آغاز مضبوط رہا اور یہ تیزی سے مثبت زون میں داخل ہو گیا، جہاں ٹریڈنگ کے دوران ایک وقت میں انڈیکس 171,022.94 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو چھو گیا۔

تاہم یہ تیزی پورے سیشن کے دوران برقرار نہ رہ سکی اور مارکیٹ اتار چڑھاؤ کے فیز میں داخل ہو گئی، جہاں خریداری اور فروخت کا ملا جلا دباؤ بار بار سامنے آیا۔ سیشن کے وسط میں مارکیٹ مستحکم ہوتی دکھائی دی کیونکہ سرمایہ کاروں نے منافع وصولی (پرافٹ ٹیکنگ) کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں انڈیکس دن کی بلند ترین سطح سے آہستہ آہستہ نیچے آنے لگا۔

سیشن کے دوسرے ہاف میں بھی بینچ مارک انڈیکس میں گراوٹ کا رجحان جاری رہا لیکن اس کے باوجود یہ گزشتہ روز کی بندش کے مقابلے میں واضح طور پر اوپر رہا۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,376.86 پوائنٹس یا 0.81 فیصد اضافے کے ساتھ 170,330.56 کی سطح پر بند ہوا۔

بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز نے مارکیٹ کے اختتام پر جاری کردہ اپنی رپورٹ میں کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کی بدولت مارکیٹ کے جذبات مثبت رہے۔ خطے کے بہتر ہوتے ہوئے حالات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کرنے میں مدد دی اور بڑے پیمانے پر خریداری کے رجحان کو فروغ دیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ مارکیٹ کا آغاز تیزی کے ساتھ ہوا لیکن سیشن کے دوران سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع وصولی (پرافٹ ٹیکنگ) کے باعث کچھ اضافہ کم ہو گیا۔ اس کے باوجود مسلسل برقرار رہنے والی خریداری کی دلچسپی نے فروخت کے دباؤ کو کامیابی سے جذب کر لیا، جس کی بدولت انڈیکس پورے دن مضبوطی سے مثبت زون میں رہا۔

ٹاپ لائن سیکورٹیز کے مطابق انڈیکس میں حصہ ڈالنے کے لحاظ سے مارکیٹ کے بھاری مالیت والے شیئرز بشمول یو بی ایل، ایچ بی ایل، حبکو، لکی اور میزان بینک نے مجموعی طور پر بینچ مارک انڈیکس کے اضافے میں 526 پوائنٹس کا حصہ ڈالا۔

پیر کو ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کے نئے تبادلوں اور قریبی مدت میں سفارتی پیشرفت کی امیدیں معدوم ہونے کے باعث سرمایہ کار دفاعی حکمتِ عملی اپنانے پر مجبور رہے جس کے نتیجے میں جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال نے بہتر کاروباری سرگرمیوں کو بھی پس منظر میں دھکیل دیا اور اسٹاک ایکسچینج میں مزید ایک سیشن کے دوران مندی دیکھی گئی۔

گزشتہ روز بینچ مارک 100 انڈیکس 22 مئی 2026 کے بعد پہلی بار 170,000 پوائنٹس کی اہم نفسیاتی حد سے نیچے گرا اور 168,953.71 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بین الاقوامی سطح پر اسرائیل اور ایران کی جانب سے فی الحال ایک دوسرے پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد منگل کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی دیکھی گئی اور تیل کی قیمتیں بھی بلند ترین سطح سے نیچے آئیں جبکہ ہمیشہ پرامید رہنے والے سرمایہ کاروں نے سیمی کنڈکٹر کے حصص میں حالیہ مندی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑے پیمانے پر خریداری کی۔

تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ مارکیٹ میں یہ تیزی محدود نوعیت کی تھی کیونکہ گزشتہ رات مجموعی انڈیکس میں معمولی اضافے کے باوجود ایس اینڈ پی 500 کی 60 فیصد کمپنیاں مندی پر بند ہوئیں۔ ابتدائی تجارت کے دوران وال اسٹریٹ اور یورپ کے فیوچرز شیئرز میں بھی گراوٹ دیکھی گئی۔

دوسری جانب بانڈ کی بڑھتی ہوئی پیداوار حصص کی بڑھی ہوئی قدروں کے لیے بدستور ایک چیلنج بنی ہوئی ہے جبکہ آبنائے ہرمز کے راستے شپنگ اب بھی متاثر ہے۔

جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ میں 3.4 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو پیر کے روز 8 فیصد سے زیادہ گرگئی تھی کیونکہ مسلسل شاندار اضافے کے بعد حصص کی قدریں بہت زیادہ بڑھ گئی تھیں اور ریٹیل سرمایہ کاروں کے مارجن پوزیشنز حد سے تجاوز کر گئے تھے۔

جاپان کا نکی انڈیکس گزشتہ سیشن میں 3.9 فیصد گرنے کے بعد 0.9 فیصد مستحکم ہوا، جبکہ جاپان سے باہر ایشیا پیسیفک حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 1.5 فیصد بڑھا۔

چینی بلیو چِپ کمپنیوں کے شیئرز میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا کیونکہ تجارتی اعدادوشمار سے معلوم ہوا کہ مئی میں برآمدات میں 19.4 فیصد اور درآمدات میں 27.4 فیصد اضافہ ہوا اور یہ دونوں ہی اوسط پیش گوئیوں سے بہتر رہے۔ یہ مضبوطی ظاہر کرتی ہے کہ چین امریکی ٹیرف اور دیگر تجارتی رکاوٹوں کے باوجود نئی منڈیاں تلاش کرنے میں کامیاب رہا ہے، اگرچہ اس کی مقامی طلب اب بھی مشکلات کا شکار ہے۔

علاوہ ازیں انٹر بینک مارکیٹ میں منگل کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.01 فیصد کا معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 3 پیسے کے اضافے کے ساتھ 278.37 روپے پر بند ہوئی۔

آل شیئرز انڈیکس میں کاروباری حجم (والیم) گزشتہ سیشن کے 65 کروڑ 79 لاکھ 70 ہزار (657.97 ملین) شیئرز سے بڑھ کر 76 کروڑ 74 لاکھ 50 ہزار (767.45 ملین) شیئرز رہا۔

تاہم شیئرز کی مجموعی مالیت گزشتہ سیشن کے 22.59 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 27.18 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔

ٹی پی ایل پراپرٹیز 5 کروڑ 65 لاکھ 30 ہزار (56.53 ملین) شیئرز کے ساتھ کاروباری حجم میں پہلے نمبر پر رہی، جبکہ ٹی پی ایل کارپ لمیٹڈ 5 کروڑ 8 لاکھ (50.80 ملین) شیئرز کے ساتھ دوسرے اور پیس پاکستان لمیٹڈ 4 کروڑ 32 لاکھ 30 ہزار (43.23 ملین) شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔

منگل کو مجموعی طور پر 492 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 351 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 104 میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 37 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

Comments

200 حروف