نجکاری سے قبل مکمل قانونی و مالی جانچ پڑتال ضروری ، اسٹیٹ لائف نے حکومت کو آگاہ کردیا
- قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے لائف انشورنس نیشنلائزیشن (ترمیمی) بل 2026 سے متعلق ذیلی کمیٹی کی رپورٹ منظور کر لی ہے
اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن (ایس ایل آئی سی) نے وفاقی حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ ادارے کی کارپوریٹائزیشن یا نجکاری سے متعلق کوئی بھی فیصلہ تفصیلی قانونی، مالیاتی اور اسٹریٹجک جانچ پڑتال کے بعد اور مقررہ قانون سازی کے عمل کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔
یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت عالمی رجحانات کے مطابق نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے کے لیے ملکی انشورنس سیکٹر کے ایک بڑے حصے کی نجکاری پر غور کر رہی ہے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے لائف انشورنس نیشنلائزیشن (ترمیمی) بل 2026 سے متعلق ذیلی کمیٹی کی رپورٹ منظور کر لی ہے، جس کے بعد بل کو شق وار جانچ کے بعد بعض ترامیم کے ساتھ ایوان سے منظور کرنے کی سفارش کی گئی۔
حکومت نے انشورنس آرڈیننس 2000 کی جگہ ایک جدید اور جامع قانونی فریم ورک متعارف کرانے کے لیے انشورنس بل 2026 پیش کیا ہے، جس کا مقصد عالمی معیار کے مطابق انشورنس شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا، پالیسی ہولڈرز کے تحفظ کو مضبوط بنانا، مسابقت اور جدت کو فروغ دینا اور ڈیجیٹل تبدیلی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
بل کے تحت سرکاری املاک کی انشورنس صرف سرکاری اداروں سے کرانے کی شرط ختم کر دی جائے گی، جس سے نجی اور غیر ملکی انشورنس کمپنیوں کے لیے مارکیٹ کھل جائے گی۔ مجوزہ قانون میں پہلی بار ڈیجیٹل انشورنس، ڈیجیٹل انشورنس کمپنیوں اور آن لائن انشورنس پلیٹ فارمز کا تصور شامل کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ مائیکرو انشورنس، زرعی اور قدرتی آفات کے لیے انڈیکس بیسڈ انشورنس، تکافل اور ری تکافل کے فروغ، جدید انشورنس ایجنٹس کے نظام، پالیسی ہولڈرز کے تحفظ اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے اختیارات میں اضافے کی تجاویز بھی بل کا حصہ ہیں۔
ادھر اسٹیٹ لائف کے ملازمین کی یونین نے ادارے کی کارپوریٹائزیشن اور نجکاری کی مخالفت کی ہے، تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یونین کی رائے قانونی طور پر پابند نہیں اور اس حوالے سے حتمی فیصلہ آئینی اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments