پاکستان اور تاجکستان کا دوطرفہ تجارت 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے کے لیے 3 سالہ روڈ میپ پر اتفاق
- تین سالہ روڈ میپ کے تحت توانائی، تعلیم اور دیگر مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا
پاکستان اور تاجکستان نے دوطرفہ تجارت کا حجم 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے کے لیے تین سالہ روڈ میپ تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق دوشنبے میں تجارت، اقتصادی اور سائنسی و تکنیکی تعاون سے متعلق مشترکہ کمیشن کے آٹھویں اجلاس کے اختتام پر کیا گیا ہے۔
جمعرات کو وزارتِ اقتصادی امور کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے وفاقی وزیر توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری اور تاجکستان کے وزیر توانائی و آبی وسائل جمعہ دلیر شفقیر نے کی۔
دونوں فریقوں نے توانائی، تجارت، صنعت، صحت، ٹرانسپورٹ، زراعت، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، میڈیا، سیاحت، کھیلوں اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا۔
پاکستان نے تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ دونوں ممالک نے تجارتی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے تجارتی وفود کے تبادلے، کاروباری شخصیات کے درمیان براہِ راست ملاقاتوں (بی ٹو بی) اور آن لائن کاروباری روابط کے فروغ پر اتفاق کیا۔
دونوں فریقوں نے ٹیرف، ضوابط اور تعاون کے ترجیحی شعبوں سے متعلق معلومات کے تبادلے پر بھی اتفاق کیا۔
اجلاس میں تاجکستان کی ایکسپورٹ ایجنسی اور پاکستان کے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کے درمیان مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دیے جانے کا خیرمقدم کیا گیا۔ ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) پر بھی تبادلہ خیال ہوا اور دونوں ممالک نے اس کی جلد تکمیل کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
دونوں حکومتوں نے سرکاری سطح پر خریداری کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ اس سلسلے میں تاجکستان کی ایجنسی برائے ریاستی مادی ذخائر اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے درمیان مجوزہ معاہدے پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
توانائی کے شعبے میں دونوں فریقوں نے کاسا-1000 منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کو سراہا اور اس منصوبے کو فعال بنانے کے لیے باقی ماندہ کام بروقت مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان اور تاجکستان نے جون 2026 میں استنبول میں ہونے والے کاسا-1000 مشترکہ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں شرکت کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ منصوبے سے متعلق تجارتی اور آپریشنل نوعیت کے باقی ماندہ مسائل حل کیے جا سکیں۔
تاجکستان نے اپنے تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کے شعبے میں پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کی سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار بھی کیا۔
دونوں ممالک نے پاکستان کے آئل اینڈ گیس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے ذریعے تاجک ماہرین کو تکنیکی تعاون اور تربیتی مواقع فراہم کرنے کی بھی توثیق کی۔
زراعت کے شعبے میں دونوں فریقوں نے زرعی تجارت کے فروغ اور زیادہ پیداواری صلاحیت رکھنے والی اور موسمی زرعی مصنوعات سے متعلق معلومات کے تبادلے پر اتفاق کیا۔
اس کے علاوہ کپاس، گندم، آلو اور سبزیوں سمیت زیادہ پیداوار دینے والی فصلوں کی اقسام پر تعاون بڑھانے، زرعی تعاون کے لیے روڈ میپ کو حتمی شکل دینے اور نباتاتی و حیوانی صحت (فائٹو سینیٹری اور ویٹرنری) کے شعبوں میں اشتراک کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
اجلاس میں تعلیمی اور سائنسی تعاون پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ تاجکستان نے تاجکستان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے درمیان انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور فنِ تعمیر کے شعبوں میں تعاون کی تجویز پیش کی۔
دونوں ممالک نے آبی وسائل، پن بجلی، ماحولیات اور زراعت کے شعبوں میں مشترکہ تحقیقی منصوبوں کی حوصلہ افزائی پر بھی اتفاق کیا۔
مشترکہ اجلاس کے شریک سربراہان نے ثقافت، سیاحت، نوجوانوں کے امور اور کھیلوں میں تعاون بڑھانے کی تجاویز کی بھی توثیق کی، جبکہ پائیدار سیاحت کے فروغ پر خاص زور دیا گیا۔
دورے کے دوران سردار اویس احمد خان لغاری نے تاجک وزیراعظم قاہر رسول زادہ سے ملاقات کی اور پاکستانی قیادت کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔
ملاقات میں کاسا-1000 منصوبے کی بروقت تکمیل، تجارتی اور رابطہ کاری راہداریوں کی ترقی، براہِ راست پروازوں کے آغاز اور ویزا سہولتوں سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تاجک وزیراعظم نے مشترکہ کمیشن کے اجلاس کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے زیادہ تواتر سے ملاقاتوں کی اہمیت پر زور دیا۔
دونوں ممالک نے تجارت، زراعت، توانائی، سیاحت اور علاقائی روابط کے شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ اپنی تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئے طریقہ کار تلاش کرنے پر بھی اتفاق کیا۔


Comments