BR100 Increased By (1.42%)
BR30 Increased By (1.24%)
KSE100 Increased By (1.02%)
KSE30 Increased By (1.18%)
BAFL 57.18 Increased By ▲ 0.79 (1.4%)
BIPL 26.75 Increased By ▲ 0.19 (0.72%)
BOP 33.78 Increased By ▲ 0.73 (2.21%)
CNERGY 9.60 Decreased By ▼ -0.08 (-0.83%)
DFML 18.48 Increased By ▲ 0.32 (1.76%)
DGKC 207.00 Increased By ▲ 2.99 (1.47%)
FABL 99.00 Increased By ▲ 2.03 (2.09%)
FCCL 51.84 Increased By ▲ 0.93 (1.83%)
FFL 16.66 Increased By ▲ 0.10 (0.6%)
GGL 23.31 Increased By ▲ 0.54 (2.37%)
HBL 303.20 Increased By ▲ 5.16 (1.73%)
HUBC 216.90 Increased By ▲ 0.47 (0.22%)
HUMNL 10.93 Increased By ▲ 0.23 (2.15%)
KEL 7.44 Decreased By ▼ -0.08 (-1.06%)
LOTCHEM 30.58 Increased By ▲ 0.24 (0.79%)
MLCF 95.78 Increased By ▲ 2.46 (2.64%)
OGDC 320.70 Increased By ▲ 1.20 (0.38%)
PAEL 41.40 Increased By ▲ 0.34 (0.83%)
PIBTL 16.70 Increased By ▲ 0.25 (1.52%)
PIOC 262.50 Increased By ▲ 5.49 (2.14%)
PPL 223.49 Increased By ▲ 0.91 (0.41%)
PRL 41.55 Decreased By ▼ -0.50 (-1.19%)
SNGP 104.40 Decreased By ▼ -0.10 (-0.1%)
SSGC 28.50 Increased By ▲ 0.12 (0.42%)
TELE 8.71 Increased By ▲ 0.08 (0.93%)
TPLP 12.13 Increased By ▲ 1.10 (9.97%)
TRG 57.70 Decreased By ▼ -1.11 (-1.89%)
UNITY 9.68 Increased By ▲ 0.08 (0.83%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.02 (1.63%)
کاروبار اور معیشت

آئی ایس پی 2025-35: مشکلات کا شکار صنعتوں پر مزید بوجھ اور ٹیرف میں اضافے کا خدشہ ہے،ایف پی سی سی آئی

  • اس پورے عمل میں یہ سوال نظر انداز کیا گیا ہے کہ آیا 49 روپے فی یونٹ کی قیمت پاکستانی صارفین کے لیے قابل برداشت ہے یا نہیں، فیڈریشن
شائع اپ ڈیٹ

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے انٹیگریٹڈ سسٹم پلان (آئی ایس پی) 2025-35 کو مسترد کر دیا ہے، جسے انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (آئی ایم ایس او) اور پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم پی) نے مشترکہ طور پر تیار کیا تھا۔ بزنس کمیونٹی کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ بجلی کے ٹیرف میں اضافے اور پہلے ہی مشکلات کا شکار صنعتوں پر مزید بوجھ کا باعث بنے گا۔

ایف پی سی سی آئی نے اپنے انرجی ایڈوائزری کمیٹی کے ذریعے نیپرا کی 20 مئی 2026 کو ہونے والی عوامی سماعت پر تحریری تحفظات جمع کرائے۔ اس سماعت میں پی پی ایم سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نوید قیصر نے اتھارٹی سے درخواست کی تھی کہ آئی ایس پی 2025-35 کو اسی شکل میں منظور کیا جائے تاکہ اس پر جلد عملدرآمد شروع کیا جا سکے۔

تاہم ایف پی سی سی آئی نے سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ منصوبہ کئی بنیادی خامیوں کا شکار ہے۔ تنظیم کے مطابق آئی جی سی ای پی 2025-35 میں استعمال ہونے والا پلکسوس ماڈل غلط مفروضات، پہلے سے طے شدہ منصوبوں کے تعصب اور ناقص لاگت تخمینوں پر مبنی ہے، جبکہ ٹرانسمیشن کے 10.6 ارب ڈالر کے اخراجات بھی مکمل طور پر شامل نہیں کیے گئے۔

ایف پی سی سی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ کم از کم لاگت ہمیشہ قابلِ برداشت قیمت نہیں ہوتی، اور اس پورے عمل میں یہ سوال نظر انداز کیا گیا ہے کہ آیا 49 روپے فی یونٹ کی قیمت پاکستانی صارفین کے لیے قابل برداشت ہے یا نہیں۔

تنظیم نے مزید کہا کہ 57 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کے باوجود یہ منصوبہ اس بات کی ضمانت نہیں دیتا کہ صارفین کا ٹیرف موجودہ سطح 12 سینٹ (تقریباً 33.38 روپے فی کلو واٹ آور) سے کم یا برابر رہے گا۔

ایف پی سی سی واپڈا کے منصوبوں کو 100 فیصد پاس تھرو ماڈل پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی لاگت کے اضافے کا بوجھ براہ راست صارفین پر پڑتا ہے، جو ناقابلِ برداشت ہے۔

مزید کہا گیا کہ دیامر بھاشا، داسو، مہمند، تربیلا توسیع فیز-5، کاسا-1000 اور سی-5 نیوکلیئر جیسے منصوبوں کو اسٹریٹجک قرار دے کر پی ایس ڈی پی یا وفاقی بجٹ سے فنڈ کیا جانا چاہیے، نہ کہ بجلی کے بلوں کے ذریعے۔

ایف پی سی سی آئی نے نیپرا سے مطالبہ کیا کہ آئی یس پی 2025-35 کو مکمل طور پر مسترد کر کے دوبارہ تیاری کے لیے واپس بھیجا جائے، اور ایسا منصوبہ بنایا جائے جس میں درست طلب کی پیش گوئی، سالانہ ٹیرف پروجیکشن، اور صارفین پر لاگت کی حد شامل ہو۔

دوسری جانب سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے واپڈا اور وزارت آبی وسائل کی قیادت کو ہائیڈرو پاور منصوبوں میں لاگت میں اضافے پر سخت سوالات کا سامنا کرایا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف