نیو دہلی دہشت گردی کا پشت پناہ، بھارتی نیٹ ورک عالمی سطح پر پھیل چکا، پاکستان
- پڑوسی ملک دہشت گردی برآمد کرتا، کشمیر پر قابض، اقلیتوں پر ظلم ڈھاتا ہے اور بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتا ہے، جس سے اس کا حقیقی عالمی چہرہ بے نقاب ہو گیا، اقوام متحدہ میں پاکستانی سفارت کار صائمہ سلیم کا مؤقف
پاکستانی سفارت کار صائمہ سلیم نے بھارت کو دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والی ریاست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا دہشت گردی کا نیٹ ورک اب عالمی سطح پر پھیل چکا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے ان خیالات کا اظہار کونسلر صائمہ سلیم کے اس جواب پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا، جو انہوں نے تحفظِ شہریوں کے موضوع پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے سالانہ مباحثے کے دوران بھارتی نمائندے کے بیانات کے جواب میں دیا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے مزید کہا کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے بھارت کی مالی و لاجسٹک معاونت کوئی فرضی تصور نہیں ہے، بلکہ اس کی وجہ سے ہمیں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ جیسے بھارتی سرپرستی میں چلنے والے دہشت گرد گروپس ہمارے شہروں، مساجد، بازاروں، اسکولوں اور سڑکوں پر خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں معصوم شہریوں کے قتل عام میں ملوث رہے ہیں۔ یہ نیٹ ورکس افغان سر زمین سے فنڈنگ، سہولت کاری اور آپریٹ کیے جاتے رہے ہیں اور اس حقیقت کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس نے بھی پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔
کونسلر صائمہ سلیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت ایک ایسا ملک ہے جو سرحد پار دہشت گردی برآمد کرتا، طاقت کے بل بوتے پر لوگوں پر قابض، اپنے ملک کے اندر اقلیتوں پر ظلم ڈھاتا ہے، پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے، خطے میں جارحیت پھیلاتا ہے اور پھر دوسروں کو شہریوں کے تحفظ پر لیکچر دینے کی کوشش کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جہاں پاکستان امن، مذاکرات، تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے لیے کھڑا ہے وہیں بھارت دہشت گردی، غاصبانہ قبضے، جارحیت، جبر اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں کی وجہ سے دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے معتبر انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں، تربیتی کیمپوں، اسلحے کے ذخائر اور ان کے معاون نیٹ ورکس کے خلاف انتہائی درست، سوچا سمجھا اور پیشہ ورانہ انسدادِ دہشت گردی آپریشن کیا۔ یہ وہ نیٹ ورکس تھے جو پاکستانی شہریوں، سیکیورٹی فورسز اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی منصوبہ بندی اور انہیں لانچ کرنے کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان آپریشنز کا ہدف صرف اور صرف دہشت گرد اور ان کا نیٹ ورک تھا، نہ کہ افغانستان کے برادر عوام یا وہاں کی سویلین تنصیبات۔ افغان طالبان حکومت کی طرف سے لگائے گئے الزامات اور ان کے بھارتی سرپرستوں کی طرف سے ان کی تائید، پاکستان میں معصوم شہریوں کے خلاف اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے چلائی جانے والی ایک جانی پہچانی ڈس انفارمیشن (جھوٹے پروپیگنڈے) مہم کا حصہ ہے۔ ہم بھارت کی مایوسی کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں، کیونکہ پاکستان کے خلاف افغان دہشت گرد نیٹ ورک کے استعمال میں اس کی کی گئی سرمایہ کاری ہمارے مؤثر انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کی وجہ سے خاک میں مل رہی ہے۔
کونسلر صائمہ سلیم نے زور دے کر کہا کہ بھارت جموں و کشمیر پر اپنے غاصبانہ قبضے کو نہ تو چھپا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے انکار کر سکتا ہے، یہ ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے جو اب بھی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ انہوں نے مقبوضہ افواج کے ہاتھوں مقامی کشمیریوں پر ہونے والے ہولناک مظالم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں شہریوں کو شہید، نظر بند، بے دخل اور خاموش کرایا جا رہا ہے، ان کے گھر مسمار، آزادیاں چھینی اور ایک پوری قوم کو ان کے حقِ خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے، جس کی تصدیق بین الاقوامی برادری بشمول اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے پیش کردہ حقائق سے بھی ہوتی ہے۔
پاکستانی سفارت کار نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کی نسل کشی عالمی ضمیر کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہونی چاہیے۔ ریاستی سرپرستی میں چلنے والی ’ہندوتوا انتہا پسندی‘ کے تحت اسلامو فوبیا کو باقاعدہ سرکاری پالیسی کے طور پر اپنا لیا گیا ہے، سیاست میں نفرت انگیز تقاریرکو نوازا جاتا ہے، ہجوم کے تشدد کو کھلی چھوٹ حاصل ہے اور مسلمانوں سمیت سکھوں، دلتوں اور عیسائیوں جیسی دیگر اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک ایک روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔
انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ بین الاقوامی قانون کے لیے بھارت کی ہٹ دھرمی ’سندھ طاس معاہدے‘ کو معطل رکھنے کے اقدامات سے بھی بالکل واضح ہے۔ ایک ایسی ریاست جو کروڑوں پاکستانیوں کے پانی، غذائی تحفظ اور روزگار کو خطرے میں ڈالتی ہے وہ کسی صورت شہریوں کے تحفظ کی بات کرنے کا حق نہیں رکھتی۔
انہوں نے اپنی گفتگو کا اختتام اس بات پر کیا کہ پاکستان ہمیشہ امن، مذاکرات، تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا علمبردار رہا ہے، جبکہ بھارت دہشت گردی، غاصبانہ قبضے، جارحیت، جبر اور عالمی قوانین کی دھجیاں اڑانے کے باعث دنیا کے سامنے پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔

Comments