اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان برقرار، 100 انڈیکس میں 2.2 فیصد سے زائد اضافہ
- کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک 100 انڈیکس 168,514 پوائنٹس پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو زبردست خریداری دیکھی گئی جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس 2.2 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا، ابتدائی چند منٹوں کے دوران کچھ اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملی جہاں انڈیکس 166,639 پوائنٹس کی کاروباری دن کی کم ترین سطح کو چھونے کے بعد معمولی وقت کے لیے نیچے آیا۔
تاہم سرمایہ کاروں کا اعتماد تیزی سے بحال ہوا جس کے بعد کاروبار کے بقیہ وقت میں مارکیٹ مسلسل تیزی کی راہ پر گامزن رہی۔
دوپہر تک انڈیکس نے 167,500 کی سطح سے اوپر مضبوطی کے ساتھ کاروبار کیا جو اداروں اور عام سرمایہ کاروں کی طرف سے نئی خریداری اور بھرپور شرکت کی عکاسی کرتا ہے۔
کاروبار کے دوسرے حصے میں تیزی کے اس رجحان میں مزید تیزی آئی اور کے ایس ای 100 انڈیکس کاروباری دن کی بلند ترین سطح 168,869 پوائنٹس کی طرف مستقل مزاجی سے بڑھتا رہا،بعدازاں سرمایہ کاروں کی جانب سے پرافٹ ٹیکنگ کے لیے کی جانے والی معمولی فروخت سامنے آئی۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک 100 انڈیکس 3,683 پوائنٹس یا 2.23 فیصد کے نمایاں اضافے سے 168,514 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بہتری کیپٹل کے مطابق وہ سرمایہ کار جو محض 48 گھنٹے قبل خوف وہراس میں حصص فروخت کررہے تھے، اب مارکیٹ میں تیزی سے واپس لوٹ رہے ہیں کیونکہ عالمی صورتحال اب کسی فوری تنازع کے بجائے ممکنہ سفارتی کامیابی کی طرف منتقل ہورہی ہے۔
ایک اہم پیشرفت میں اسٹاف لیول کے دورے کے اختتام کے بعد پاکستان اور آئی ایم ایف مالی سال 2027 کے وفاقی بجٹ پر بات چیت جاری رکھیں گے۔
یاد رہے کہ بدھ کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا تسلسل برقرار رہا جہاں سرمایہ کاروں کے بہتر ہوتے اعتماد نے اہم شعبوں میں جارحانہ خریداری کی اور بینچ مارک انڈیکس کو مضبوطی کے ساتھ مثبت زون میں برقرار رکھا۔ گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,934.74 پوائنٹس یا 1.19 فیصد اضافے سے 164,831.42 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر جمعرات کو ایشیائی اسٹاکس میں تیزی کا رجحان دیکھا گیا کیونکہ کچھ بحری جہازوں نے آبنائے ہرمزسے گزرنے کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا ہے جبکہ این ویڈیا کے توقعات سے بہتر نتائج اور سام سنگ الیکٹرانکس میں ملازمین کی ہڑتال معطل ہونے سے چِپ بنانے والی کمپنیوں کے شیئرز کو سہارا ملا۔
جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک شیئرز کے ایم ایس سی آئی کے وسیع ترین انڈیکس میں 2.6 فیصد کا اضافہ ہوا جس سے مسلسل چار دنوں سے جاری مندی کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ اس کے علاوہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 7 فیصد سے زائد اوپر گیا، تائیوان کے شیئرز میں 3.5 فیصد کا اضافہ ہوا اور چینی بلیو چپ اسٹاکس 1.1 فیصد بڑھ گئے۔
ایشیائی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ فیوچرز 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ 105.68 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے جس سے بدھ کو تین سپر ٹینکرز کے آبنائے ہرمز سے گزرنے اور ایران کی جانب سے اس آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول مستحکم کرنے کے بعد ہونے والی گراوٹ کا کچھ ازالہ ہوا۔ تاہم امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں کمی کے بعد سپلائی کے حوالے سے خدشات بدستور موجود ہیں۔
وال اسٹریٹ پر بدھ کو ایس اینڈ پی 500 میں 1.1 فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ مسلسل 3 دن کی مندی کے بعد نیسڈیک کمپوزٹ 1.5 فیصد سنبھل گیا۔ یہ تیزی اس وقت آئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر تہران امن معاہدے پر راضی نہ ہوا تو امریکہ ایران پر مزید حملوں کے لیے تیار ہے تاہم انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ واشنگٹن درست جوابات حاصل کرنے کے لیے چند دن انتظار کرسکتا ہے۔
دریں اثنا جمعرات کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 1 پیسے (0.01 روپے) کے اضافے کے ساتھ 278.550 پر بند ہوئی۔
مارکیٹ کے آل شیئرز انڈیکس پر کاروبار کا حجم (والیم) پچھلے سیشن کے 386.39 ملین شیئرز سے بڑھ کر 729.40 ملین شیئرز تک پہنچ گیا۔ اس کے ساتھ ہی شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 20.12 ارب روپے سے بڑھ کر 34.99 ارب روپے ہو گئی۔
ہیسکول پٹرول 57.00 ملین شیئرز کے کاروبار کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، جس کے بعد ستارہ پٹرولیم 56.52 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور عائشہ اسٹیل مل 31.04 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔
جمعرات کو مارکیٹ میں مجموعی طور پر 490 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 330 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ اور 120 کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 40 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم (برقرار) رہیں۔



Comments