BR100 Decreased By (-0.16%)
BR30 Decreased By (-0.42%)
KSE100 Decreased By (-0.08%)
KSE30 Decreased By (-0.03%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.76 Increased By ▲ 0.13 (0.53%)
BOP 29.95 Decreased By ▼ -0.17 (-0.56%)
CNERGY 12.72 Decreased By ▼ -0.26 (-2%)
DFML 18.43 Increased By ▲ 0.94 (5.37%)
DGKC 187.91 Increased By ▲ 0.69 (0.37%)
FABL 93.30 Decreased By ▼ -0.41 (-0.44%)
FCCL 51.65 No Change ▼ 0.00 (0%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.90 Decreased By ▼ -0.14 (-0.74%)
HBL 303.00 Decreased By ▼ -0.78 (-0.26%)
HUBC 199.50 Increased By ▲ 0.54 (0.27%)
HUMNL 9.73 Decreased By ▼ -0.12 (-1.22%)
KEL 6.04 Decreased By ▼ -0.02 (-0.33%)
LOTCHEM 26.28 Increased By ▲ 0.11 (0.42%)
MLCF 91.17 Decreased By ▼ -0.06 (-0.07%)
OGDC 314.60 Increased By ▲ 1.21 (0.39%)
PAEL 34.99 Decreased By ▼ -0.25 (-0.71%)
PIBTL 14.28 Decreased By ▼ -0.43 (-2.92%)
PIOC 235.00 Decreased By ▼ -4.62 (-1.93%)
PPL 220.45 Decreased By ▼ -0.91 (-0.41%)
PRL 89.71 Decreased By ▼ -1.51 (-1.66%)
SNGP 91.00 Increased By ▲ 0.13 (0.14%)
SSGC 23.30 No Change ▼ 0.00 (0%)
TELE 7.42 Decreased By ▼ -0.19 (-2.5%)
TPLP 12.12 Decreased By ▼ -0.44 (-3.5%)
TRG 54.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.04%)
UNITY 7.97 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.01 Increased By ▲ 0.01 (1%)
کاروبار اور معیشت

کاروباری طبقہ پٹرول مہنگا ہونے پر پریشان، حکومت سے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ

  • تاجر برادری ریلیف کی منتظر تھی، حکومت نے کمرتوڑ دی، ثاقب مگوں، محمد تحسین
شائع اپ ڈیٹ

کاروباری برادری نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے صنعتی شعبے اور ملکی معیشت کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ تاجر برادری ریلیف کی منتظر تھی، لیکن قیمتوں میں اضافے نے پیداواری لاگت کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے، جس سے برآمدات اور صنعتوں کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کی پالیسی پر فوری نظرثانی کی جائے۔

دوسری جانب ایف بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (فباٹی) کے صدر شیخ محمد تحسین نے کہا کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کر کے صنعتوں کی کمر توڑ دی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں قیمتیں کہیں زیادہ ہیں۔ آئی ایم ایف معاہدے کے تحت لگائے گئے بھاری لیوی نے مقامی صنعتوں کو تباہ کر دیا ہے، جس سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 40 فیصد تک اضافہ ہوا اور مہنگائی 22 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے آئی ایم ایف سے اس معاملے پر دوبارہ بات نہ کی تو فیکٹریاں بند اور برآمدات مزید کم ہو جائیں گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر2026

Comments

200 حروف