گوادر فری زون سے گدھے کے گوشت کی برآمد کی اجازت
- گدھے کے گوشت کی برآمد صرف اسی صورت میں اجازت دی جائے گی جب یہ متعلقہ درآمدی ملک کی پالیسی کے مطابق ہو
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ گوادر نارتھ فری زون سے گدھے کے گوشت کی برآمد صرف اسی صورت میں اجازت دی جائے گی جب یہ متعلقہ درآمدی ملک کی پالیسی کے مطابق ہو۔ یہ بات وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے قریبی ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتائی۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے حالیہ اجلاس میں بتایا گیا کہ امپورٹس اینڈ ایکسپورٹس (کنٹرول) ایکٹ 1950 کے تحت وفاقی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پاکستان سے اشیا کی درآمد و برآمد کو روک سکتی ہے، محدود کر سکتی ہے یا ان پر کنٹرول عائد کر سکتی ہے۔ اسی طرح ایکسپورٹ پالیسی آرڈر 2022 کے تحت بعض اشیا پر پابندیاں یا مخصوص شرائط لاگو ہیں۔
وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ وزیراعظم آفس کی جانب سے ہدایت موصول ہوئی تھی کہ وزیر برائے منصوبہ بندی و خصوصی اقدامات کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی سفارشات، جو کہ گوادر ڈونکی سلاٹر ہاؤس سے گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمد سے متعلق مسائل حل کرنے کیلئے تھیں، انہیں ای سی سی کے سامنے پیش کیا جائے۔
کمیٹی نے اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لے کر سفارشات تیار کیں، جن میں فوری طور پر گدھے کے گوشت کی برآمد شروع کرنا، ٹریس ایبلٹی سسٹم قائم کرنا، ریگولیٹری فریم ورک تیار کرنا، ادارہ جاتی نظام بنانا اور صرف گوادر نارتھ فری زون میں گدھے کے ذبح اور پراسیسنگ منصوبوں کی اجازت شامل تھی۔
اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ وزارت نے یہ سفارش کی کہ کمیٹی کی تمام تجاویز ای سی سی کی منظوری کیلئے پیش کی جائیں۔ اس پر بحث کے دوران بعض ارکان نے کہا کہ ای سی سی کا اختیار صرف برآمد کی اجازت دینے تک محدود ہونا چاہیے، جبکہ وزارت نے مؤقف اختیار کیا کہ پورے پیکیج کی منظوری دی جائے۔
مزید یہ بھی بتایا گیا کہ چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (جی اے سی سی) نے 16 جنوری 2026 سے پہلے تیار شدہ گدھے کے گوشت کی درآمد کی اجازت نہیں دی۔ شرکا کی اکثریت نے کہا کہ چونکہ پاکستان کی ہر برآمد متعلقہ ملک کی درآمدی پالیسی سے مشروط ہوتی ہے، اس لیے ای سی سی سے اس مخصوص پہلو پر اضافی منظوری لینے کی ضرورت نہیں۔
تفصیلی بحث کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ گوادر نارتھ فری زون سے گدھے کے گوشت کی برآمد صرف ان ممالک کی درآمدی پالیسی کے مطابق مشروط طور پر کی جا سکے گی۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے بھی بعد ازاں ای سی سی کے اس فیصلے کی منظوری دے دی، جو بعض غیر رسمی پیش رفت کے بعد سامنے آیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments