سنگاپور میں کروز شپ وبا کے بعد دو افراد کے ہینٹا وائرس ٹیسٹ
- دنیا بھر کے ممالک اس وائرس سے متاثرہ جہاز کے مسافروں کا سراغ لگا رہے ہیں
سنگاپور نے ہینٹا وائرس کے مہلک پھیلاؤ سے منسلک ایک کروز شپ پر سفر کرنے والے دو رہائشیوں کو الگ تھلگ کر کے ان کے ٹیسٹ شروع کر دیے ہیں۔ یہ بات سنگاپور کی کمیونیکیبل ڈیزیز ایجنسی (سی ڈی اے) نے جمعرات کو بتائی۔
دنیا بھر کے ممالک اس وائرس سے متاثرہ جہاز کے مسافروں کا سراغ لگا رہے ہیں تاکہ ہینٹا وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ ایم وی ہونڈیئس نامی جہاز پر پھیلنے والی وبا میں ایک ڈچ جوڑا اور ایک جرمن شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ آٹھ افراد کے وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ہینٹا وائرس عام طور پر چوہوں سے پھیلتا ہے، تاہم بعض نایاب صورتوں میں یہ انسان سے انسان میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔
سنگاپور کے دونوں متاثرہ افراد کی عمریں 67 اور 65 سال ہیں اور انہیں نیشنل سینٹر فار انفیکشس ڈیزیزز میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ یہ افراد یکم اپریل کو ارجنٹینا کی بندرگاہ اوشوایا سے روانہ ہونے والے ایم وی ہونڈیئس پر سوار تھے۔
ایجنسی کے مطابق ایک شخص کو نزلہ ہے مگر اس کی حالت بہتر ہے جبکہ دوسرا کسی علامت کے بغیر ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت سنگاپور میں عوام کے لیے خطرہ کم ہے۔
اگر دونوں افراد کے ٹیسٹ منفی آئے تو انہیں آخری ممکنہ ایکسپوژر کے بعد 30 روز کے لیے قرنطینہ میں رکھا جائے گا، جبکہ مثبت آنے کی صورت میں اسپتال میں نگرانی اور علاج جاری رکھا جائے گا۔


Comments