پاکستانی نمک برآمد کنندہ کا ڈیزل پر انحصار کم کرنے کیلئے سولر اسٹوریج سسٹم لگانے کا فیصلہ
- منصوبے میں 1.44 میگا واٹ کے سولر فوٹو وولٹک (پی وی) سسٹم کی تنصیب شامل ہے
صنعتی توانائی میں خود کفالت کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے نمک کی مصنوعات تیار اور برآمد کرنے والے پاکستانی ادارے حب سالٹ نے اپنی تنصیبات پر ہائبرڈ سولر اور بیٹری اسٹوریج سسٹم لگانے کیلئے چین کی کمپنی لی وولٹیک کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
منصوبے میں 1.44 میگا واٹ کے سولر فوٹو وولٹک (پی وی) سسٹم کی تنصیب شامل ہے جسے 2.35 میگا واٹ آور کے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔
ایک بیان کے مطابق اس منصوبے کیلئے انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اور کنسٹرکشن (ای پی سی) کا معاہدہ آپٹیمائزین پرائیویٹ لمیٹڈ کو دیا گیا جو اپنے چینی ٹیکنالوجی پارٹنر لی وولٹیک کے تعاون سے اس پروجیکٹ کی سربراہی کررہا ہے۔
توقع ہے کہ اس اقدام سے کراچی میں قائم اس کمپنی کا درآمدی ڈیزل پر انحصار نمایاں طور پر کم ہوجائے گا۔
حب سالٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اسماعیل ستار نے اس منصوبے کو کمپنی کے لیے ایک انقلابی قدم اور وسیع تر صنعتی شعبے کے لیے ایک مثال قرار دیا ہے۔
اسماعیل ستار نے کہا کہ جدید ترین قابلِ تجدید ٹیکنالوجی کو اپنا کر ہم نہ صرف اپنی آپریشنل لچک کو بہتر بنا رہے ہیں، بلکہ پاکستان کے صنعتی شعبے میں ماحول دوست توانائی کو اپنانے کے حوالے سے ایک مثال بھی قائم کر رہے ہیں۔
لی وولٹیک کے ایشیا پیسیفک ڈائریکٹر میکس ما اور آپٹیمائزین کے سی ای او نے بھی ماحول دوست توانائی کے اس منصوبے کی اہمیت پر زور دیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس منصوبے کی مقررہ وقت سے پہلے تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔
پاکستان میں توانائی کے متبادل ذرائع، بالخصوص سولر کی جانب رجحان میں تیزی سے اضافہ دیکھا جارہا ہے جو کہ رہائشی اور تجارتی شعبوں میں تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔
حب سالٹ جو روزانہ 500 ٹن ہمالیائی پنک سالٹ (گلابی نمک) تیار کرتی ہے پہلے مکمل طور پر آف گرڈ تھی اور ڈیزل جنریٹرز پر چلتی تھی، تاہم اب یہ کمپنی ہائبرڈ انرجی ماڈل پر منتقل ہو جائے گی۔ کمپنی کا تخمینہ ہے کہ اس منصوبے سے سالانہ تقریباً 3 لاکھ 60 ہزار لیٹر ڈیزل کی بچت ہوگی۔
ماحولیاتی لحاظ سے بھی یہ منصوبہ خاصی اہمیت کا حامل ہے جس سے سالانہ 2,000 ٹن سے زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی متوقع ہے۔


Comments