بھارت میں مودی کی سیاسی گرفت مزید مضبوط، اپوزیشن کے مضبوط قلعے بھی زیرِ اثر
- بی جے پی نے 10 کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل اہم مشرقی ریاست مغربی بنگال میں 294 میں سے 206 نشستیں جیت لیں
بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی کئی برسوں سے قومی سیاست پر حاوی رہے ہیں، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے ریاست مغربی بنگال میں اپوزیشن کے زیرِ اثر علاقے میں حاصل کی گئی انتخابی کامیابی ان کی جماعت کے ہندو قوم پرستانہ ایجنڈے کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔
مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 10 کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل اس اہم مشرقی ریاست میں انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی اور 294 میں سے 206 نشستیں جیت لیں۔ انتخابی نتائج کا اعلان پیر کے روز کیا گیا، جس کے مطابق یہ مغربی بنگال میں پارٹی کی پہلی تاریخی کامیابی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق 2014 میں مودی کے پہلی بار وزیرِاعظم منتخب ہونے کے بعد یہ بی جے پی کی سب سے اہم کامیابیوں میں سے ایک ہے، جس کے ذریعے اس نے بھارت کے شمالی اور وسطی حصوں کے ہندی بولنے والے خطے سے باہر بھی اپنی سیاسی برتری کو وسعت دی ہے۔
اگرچہ کئی ووٹرز نے روزگار اور ترقی پر مرکوز مہم کے باعث بی جے پی کو حمایت دی، تاہم یہ انتخاب اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ پارٹی نے ان بھارتی ووٹرز کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی ہے جو مودی کے قوم پرستانہ ایجنڈے کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سے اقلیتی برادریوں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
ایک سیاسی تجزیہ کار سشیلا راماسوامی نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
”یہ بھارت کے مشرقی حصے میں بی جے پی کی مضبوطی کا تسلسل ہے۔“
انہوں نے مزید کہا: ”یہ واضح طور پر بی جے پی کو ایک غالب جماعت کے طور پر قائم کرتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔“
پیر کے روز اعلان کردہ دیگر انتخابی نتائج میں بی جے پی نے شمال مشرقی ریاست آسام میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور چھوٹے ساحلی علاقے پڈوچیری میں بھی اقتدار برقرار رکھا، جسے ماہرین کے مطابق 2024 کے عام انتخابات میں اکثریت حاصل نہ کر سکنے کے بعد ”شاندار واپسی“ قرار دیا جا رہا ہے۔
رشید قدوائی، جو اوبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے وزٹنگ فیلو ہیں، نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا: ”اس کے بعد سے انہوں نے اپنے اتحاد درست کیے اور مسائل کو بہتر انداز میں سمجھا ہے۔“
ان کے مطابق یہ نتائج وزیرِاعظم مودی کے لیے اس وقت ایک مضبوط بنیاد فراہم کریں گے جب وہ 2029 کے عام انتخابات سے قبل معاشی اور خارجہ پالیسی کے متعدد چیلنجز، بشمول امریکہ کے ساتھ زیرِ التوا تجارتی معاہدے، سے نمٹ رہے ہیں۔
’بڑا تقویت کا ذریعہ‘
مغربی بنگال، جو زیادہ تر بنگالی بولنے والی ریاست ہے، 2011 سے مودی کے سخت ناقد اور سیاسی حریف ممتا بنرجی کی زیرِ قیادت تھی۔
ممتا بنرجی، جو علاقائی جماعت آل انڈیا ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی سربراہ ہیں، پیر کے انتخابات میں اپنی نشست بھی ہار گئیں، جو ان کے سیاسی کیریئر میں بڑی گراوٹ تصور کی جا رہی ہے۔
وہ تین بار وزیراعلیٰ رہ چکی ہیں اور خواتین، مسلمانوں اور شہری ہندو آبادی کی مضبوط حمایت پر انحصار کرتی رہی ہیں۔
2021 کے ریاستی انتخابات میں بی جے پی نے ٹی ایم سی کی اکثریت میں واضح دراڑ ڈالی تھی، تاہم اسے اقتدار سے ہٹانے میں ناکام رہی تھی۔
75 سالہ مودی نے مغربی بنگال میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے متعدد مرتبہ دورے کیے اور انتخابی مہم کے دوران سخت تقاریر میں بنرجی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے غریبوں کے لیے نقد امداد، فلاحی سہولیات میں توسیع، اور نوجوانوں کے لیے روزگار و ترقی کے وعدے کیے۔
ماہرین کے مطابق یہ کامیابی مودی کو اپنی ہندو قوم پرستانہ پالیسیوں کو مزید وسعت دینے کا حوصلہ دے سکتی ہے، جن میں یکساں سول کوڈ کا منصوبہ بھی شامل ہے، جس پر مسلمانوں سمیت مختلف طبقات میں تشویش پائی جاتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار نیلانجن مکھوپادھائے نے کہا ہے کہ مغربی بنگال پر کنٹرول حاصل کرنا بی جے پی کے ”ہندوتوا“ نظریے کو تقویت دیتا ہے، جس کے مطابق ہندو محض ایک مذہبی گروہ نہیں بلکہ بھارت کی قومی شناخت کی نمائندگی کرتے ہیں۔
انہوں نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا: ”یہ مودی اور بی جے پی کے لیے بہت بڑا حوصلہ افزا موقع ہے۔“
’آخری کڑی‘
ان کے مطابق بی جے پی نے ایک ایسے صوبے میں کامیابی حاصل کی ہے جہاں تقریباً 30 فیصد مسلم آبادی موجود ہے اور جہاں عوامی سطح پر حکومت مخالف رجحان کو مؤثر طور پر استعمال کیا گیا۔
کولکتہ کے رہائشی پارتھا تریپاٹھی نے کہا کہ ٹی ایم سی کی شکست کی وجہ ”بے روزگاری، کرپشن اور امن و امان کی خراب صورتحال“ ہے۔
انہوں نے کہا: ”تعلیم یافتہ نوجوان بہتر روزگار اور معاشی مواقع کے لیے تبدیلی چاہتے تھے، اس لیے انہوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا۔“
ایک اور اہم معاملہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی تھا، جس کا مقصد جعلی یا غیر اہل ووٹروں کو نکالنا بتایا گیا، تاہم ممتا بنرجی نے اسے ”اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں اور سرحدی اضلاع کے مزدوروں کے ووٹ کا حق چھیننے کی کوشش“ قرار دیا۔
بی جے پی نے اس کامیابی کو ٹی ایم سی کی ناکامیوں کا نتیجہ قرار دیا، نہ کہ انتخابی فہرستوں میں تبدیلی کا۔
سیاسی ماہر نیلانجن سرکار نے دی ہندوستان ٹائمز میں لکھا کہ اس فتح کے ثقافتی اور سیاسی اثرات نہایت گہرے ہوں گے۔
انہوں نے کہا: ”بنگال مشرق میں ہندو قوم پرستانہ منصوبے کی آخری اور سب سے اہم کڑی تھا۔“
ان کے مطابق ایک دہائی پہلے یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ مشرقی اور شمال مشرقی بھارت کی بڑی ریاستیں، آسام، بہار، اوڑیسہ اور مغربی بنگال، بی جے پی کے زیرِ اثر آ جائیں گی۔


Comments