امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کے بعد جرمنی کا مضبوط یورپی دفاع پر زور
- پینٹاگون نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ امریکہ جرمنی سے 5000 فوجیوں کو واپس بلا لے گا
جرمنی کے وزیرِ دفاع بورس پسٹوریئس نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ جرمنی سے امریکی فوجیوں کے انخلاء سے یورپی ممالک کو اپنے دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ترغیب ملنی چاہیے۔
پینٹاگون نے جمعہ کے روز اعلان کیا تھا کہ امریکہ اپنے سب سے بڑے یورپی فوجی اڈے جرمنی سے 5 ہزار فوجی واپس بلائے گا۔ یہ فیصلہ ایران جنگ سے متعلق اختلافات اور ٹیرف کے تنازعات کے باعث امریکہ اور یورپ کے تعلقات میں بڑھتے تناؤ کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
پسٹوریئس نے کہا کہ یہ اقدام پہلے ہی متوقع تھا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے کے آغاز میں جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے ساتھ تلخ کلامی کے بعد افواج میں کمی کی دھمکی دی تھی، جنہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں واشنگٹن کی حکمتِ عملی پر سوالات اٹھائے تھے۔
جرمنی فوج اور فوجی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنا رہا ہے
پسٹوریئس نے کہا کہ جزوی انخلا سے جرمنی میں موجود تقریباً 40 ہزار امریکی فوجیوں کی موجودہ موجودگی متاثر ہوگی، تاہم بعض اندازوں کے مطابق فعال فوجیوں کی تعداد 35 ہزار کے قریب ہے۔
انہوں نے کہا: ”ہم یورپیوں کو اپنی سلامتی کی زیادہ ذمہ داری خود اٹھانی ہوگی۔“ ان کے مطابق جرمنی درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، کیونکہ وہ اپنی مسلح افواج میں توسیع کر رہا ہے، فوجی خریداری کے عمل کو تیز کر رہا ہے اور دفاعی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنا رہا ہے۔
جرمنی کا منصوبہ ہے کہ فعال ڈیوٹی پر موجود ”بُنڈس ویہر“ فوجیوں کی تعداد موجودہ ایک لاکھ 85 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ 60 ہزار کی جائے، تاہم وزیرِ دفاع کے ناقدین نے روس سے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر اس سے بھی زیادہ اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔
نیٹو کے رکن ممالک نے اپنے دفاع کی زیادہ ذمہ داری خود لینے کا عہد کیا ہے، لیکن محدود بجٹ اور فوجی صلاحیتوں میں بڑے خلا کے باعث خطے کو اپنی سلامتی کی ضروریات پوری کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
لانگ رینج فائر بٹالین منسوخ
دوسری جنگ عظیم کے بعد بطور قابض فوج شروع ہونے والی امریکہ کی جرمنی میں موجودگی سرد جنگ کے دوران 1960 کی دہائی میں اپنے عروج پر تھی، جب سوویت یونین کے مقابلے کے لیے لاکھوں امریکی فوجی وہاں تعینات تھے۔
امریکی موجودگی میں ریمسٹائن ایئر بیس اور لینڈسٹول اسپتال جیسے بڑے مراکز شامل ہیں، جنہیں امریکہ نے ایران جنگ کے علاوہ عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بھی استعمال کیا۔
پینٹاگون کے فیصلے کے تحت جرمنی سے ایک مکمل بریگیڈ واپس جائے گی، جبکہ لانگ رینج فائرز کی ایک بٹالین، جس کی تعیناتی اس سال کے آخر میں متوقع تھی، منسوخ کر دی گئی ہے۔
لانگ رینج فائرز کی منسوخی برلن کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ یہ روس کے خلاف ایک اضافی دفاعی ڈیٹرنس کا اہم عنصر بننا تھا، جب تک یورپی ممالک خود ایسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار تیار نہ کر لیں۔


Comments