اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ برقرار، 100 انڈیکس میں 2800 سے زائد پوائنٹس کی گراوٹ
- 100 انڈیکس 2,829.70 پوائنٹس یا 1.71 فیصد کی کمی سے 162,994.17 پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو بھی فروخت کا دباؤ برقرار رہا جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس 2800 سے زائد پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔
تفصیلات کے مطابق انڈیکس میں کاروبار کا آغاز 164,357.47 کی بلند ترین سطح (انٹرا ڈے ہائی) کے قریب سے ہوا۔
تاہم فروخت کا دباؤ تقریباً فوری شروع ہوگیا اور صبح کے سیشن کے بیشتر حصے میں جاری رہا جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس 160,391.18 پوائنٹس کی کم ترین سطح (انٹرا ڈے لو) تک گرگیا۔
کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 2,829.70 پوائنٹس یا 1.71 فیصد کی کمی سے 162,994.17 پر بند ہوا۔
جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرحِ سود میں اضافہ پاکستانی ایکویٹیز (شیئرز) کے حوالے سے قلیل مدتی جذبات (سینٹیمنٹ) پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔
مزید برآں گزشتہ ایک روز کے دوران ہونے والی حالیہ جغرافیائی سیاسی (جیو پولیٹیکل) تبدیلیاں بھی منفی رہی ہیں۔
جیسے ہی یہ دباؤ خاص طور پر میکرو اکنامک اور جغرافیائی سیاسی محاذ پر کم ہونا شروع ہوں گے مارکیٹ میں استحکام اور بہتری آنے کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل بھی اسٹاک ایکسچینج شدید مندی کی زد میں رہی جہاں کمپنیوں کے مایوس کن مالیاتی نتائج، بڑے حصص میں کمزوری، عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں اور جغرافیائی سیاسی خدشات کے باعث پیدا ہونے والی محتاط صورتحال نے انڈیکس کو تیزی سے نیچے دھکیل دیا۔ بدھ کو 100 انڈیکس 2,588.35 پوائنٹس یا 1.54 فیصد گر کر 165,823.88 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر جمعرات کو ایشیا میں اے آئی سے متعلقہ حصص کی کارکردگی بہتر رہی جس کی وجہ کمپنیوں کی جانب سے سامنے آنے والی مجموعی طور پر مثبت مالیاتی رپورٹس تھیں۔ دوسری جانب خام تیل کی بڑھتی قیمتوں نے بانڈز کی مارکیٹ کو بری طرح متاثر کیا۔
سرمایہ کاروں کو اس بات کا خدشہ تھا کہ یورپی سینٹرل بینک اور بینک آف انگلینڈ آج دن کے اواخر میں شرح سود میں اضافے کا انتباہ دے سکتے ہیں۔ یہ خدشات فیڈرل ریزرو کے تین ممبران کی جانب سے نرم مالیاتی پالیسی ختم کرنے کے حق میں ووٹ دینے کے بعد پیدا ہوئے جو کہ 1992 کے بعد سے اب تک کا سب سے منقسم فیصلہ تھا۔
رخصت ہونے والے چیئرمین جیروم پاول نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ وہ فی الحال بطور گورنر اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے تاکہ ادارے کی خودمختاری کا دفاع کر سکیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ان کے جانشین کیون وارش کی تعیناتی کی توثیق کا عمل جاری ہے جنہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود منتخب کیا ہے اور جو شرح سود میں کمی کے حامی ہیں۔
مارکیٹ نے فوری طور پر اس سال فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کسی بھی ممکنہ کمی کے امکان کو مسترد کر دیا اور اب اگلے موسمِ بہار تک شرح سود میں اضافے کے برابر امکانات موجود ہیں۔ امریکی ٹریژری ییلڈز ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں اور ڈالر کی قدر میں مجموعی طور پر اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں یہ 160 ین سے تجاوز کر گیا۔
ایشیا میں نیس ڈیک فیوچرز میں 1 فیصد اضافہ ہوا کیونکہ گوگل کی بنیادی کمپنی کے مالیاتی نتائج توقعات سے بہتر رہے جس سے توسیعی ٹریڈنگ میں اس کے حصص کی قیمت 7 فیصد بڑھ گئی۔ ایمیزون اور مائیکروسافٹ کے نتائج بھی مستحکم رہے جس سے آج دن کے اواخر میں ایپل کے لیے بھی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔
میٹا پلیٹ فارمز نے سرمایہ کاروں کو مایوس کیا کیونکہ اس نے اے آئی کے بنیادی ڈھانچے پر مزید اربوں ڈالر خرچ کرنے کے لیے اپنے سالانہ سرمائے کے اخراجات کے تخمینے میں اضافہ کردیا جس سے اس کے حصص 7 فیصد گرگئے۔
جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس جمعرات کو مستحکم رہا لیکن اس کے باوجود اس ماہ اس میں مجموعی طور پر 16 فیصد کا بڑا اضافہ متوقع ہے۔ جاپان کا نکئی انڈیکس 1 فیصد گرا تاہم اپریل میں اس میں بھی مجموعی طور پر 16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔


Comments