ایرانی بندر گاہوں کی ناکہ بندی میں توسیع کا امکان، خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
- عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی جون کے لیے قیمت 52 سینٹ اضافے کے ساتھ 111.78 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بدھ کے روز مزید اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے گزشتہ کئی دنوں سے جاری تیزی کا رجحان برقرار رہا۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ وہ اطلاعات ہیں جن کے مطابق امریکہ ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو مزید توسیع دینے کا ارادہ رکھتا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ کے اہم پیداواری خطے سے سپلائی میں رکاوٹیں طویل ہونے کا خدشہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے معاونین کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے خلاف ناکہ بندی کو مزید بڑھانے کی تیاری کی جائے۔ اس اقدام کے تحت ایران کی بندرگاہوں سے آنے جانے والی بحری نقل و حمل کو محدود رکھا جائے گا، جس کا مقصد ایران کی معیشت اور تیل کی برآمدات پر دباؤ بڑھانا ہے۔
عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی جون کے لیے قیمت 52 سینٹ اضافے کے ساتھ 111.78 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو مسلسل آٹھویں روز اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ کی جون کی قیمت 57 سینٹ بڑھ کر 100.50 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جو گزشتہ آٹھ دنوں میں ساتویں مرتبہ اضافہ ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں جاری رکاوٹیں ہیں۔ یہ اہم آبی گزرگاہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا راستہ ہے۔ ایران کی جانب سے اس راستے میں رکاوٹ اور امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی نے عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے۔
اگرچہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی برقرار ہے، تاہم تنازع تاحال حل طلب ہے۔ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے پر زور دے رہا ہے، جبکہ ایران معاشی پابندیوں میں نرمی اور نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
ادھر امریکی پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے مطابق امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں مسلسل دوسرے ہفتے کمی ریکارڈ کی گئی۔ 24 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے میں خام تیل کے ذخائر میں 1.79 ملین بیرل، پیٹرول میں 8.47 ملین بیرل اور ڈسٹلیٹ میں 2.60 ملین بیرل کی کمی ہوئی، جس نے قیمتوں پر مزید دباؤ ڈالا۔


Comments