BR100 Decreased By (-0.4%)
BR30 Decreased By (-0.65%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.78 Increased By ▲ 0.15 (0.61%)
BOP 29.93 Decreased By ▼ -0.19 (-0.63%)
CNERGY 12.72 Decreased By ▼ -0.26 (-2%)
DFML 18.48 Increased By ▲ 0.99 (5.66%)
DGKC 187.07 Decreased By ▼ -0.15 (-0.08%)
FABL 93.18 Decreased By ▼ -0.53 (-0.57%)
FCCL 51.13 Decreased By ▼ -0.52 (-1.01%)
FFL 14.41 Decreased By ▼ -0.08 (-0.55%)
GGL 18.80 Decreased By ▼ -0.24 (-1.26%)
HBL 302.29 Decreased By ▼ -1.49 (-0.49%)
HUBC 198.64 Decreased By ▼ -0.32 (-0.16%)
HUMNL 9.68 Decreased By ▼ -0.17 (-1.73%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.25 Increased By ▲ 0.08 (0.31%)
MLCF 90.14 Decreased By ▼ -1.09 (-1.19%)
OGDC 314.62 Increased By ▲ 1.23 (0.39%)
PAEL 34.77 Decreased By ▼ -0.47 (-1.33%)
PIBTL 14.20 Decreased By ▼ -0.51 (-3.47%)
PIOC 234.00 Decreased By ▼ -5.62 (-2.35%)
PPL 220.66 Decreased By ▼ -0.70 (-0.32%)
PRL 90.35 Decreased By ▼ -0.87 (-0.95%)
SNGP 90.36 Decreased By ▼ -0.51 (-0.56%)
SSGC 23.27 Decreased By ▼ -0.03 (-0.13%)
TELE 7.36 Decreased By ▼ -0.25 (-3.29%)
TPLP 12.10 Decreased By ▼ -0.46 (-3.66%)
TRG 54.39 Decreased By ▼ -1.40 (-2.51%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

بنگلہ دیش میں آسمانی بجلی گرنے سے 14 افراد ہلاک

  • ملک کے مختلف علاقوں میں اچانک طوفانی بارشوں اور شدید گرج چمک کے باعث یہ افسوسناک واقعات پیش آئے
شائع اپ ڈیٹ

بنگلہ دیش میں موسمی گرج چمک کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے کم از کم 14 افراد ہلاک ہو گئے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں اچانک طوفانی بارشوں اور شدید گرج چمک کے باعث یہ افسوسناک واقعات پیش آئے۔

حکام کے مطابق ہلاکتیں مختلف اضلاع میں رپورٹ ہوئیں جہاں بارش کے ساتھ تیز آندھی اور بجلی کڑکنے کے واقعات سامنے آئے۔ زیادہ تر متاثرین کھلے کھیتوں میں کام کرنے والے کسان اور مزدور تھے جو غیر محفوظ مقامات پر موجود تھے اور آسمانی بجلی کی زد میں آ گئے۔

ان واقعات میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

بنگلہ دیش میں ہر سال آسمانی بجلی گرنے کے باعث سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ حکومت نے 2016 میں آسمانی بجلی کو قدرتی آفت قرار دیا تھا، جب صرف مئی کے مہینے میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں ایک ہی دن میں 82 اموات شامل تھیں۔

ماہرین کے مطابق آسمانی بجلی سے ہونے والی ہلاکتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ جنگلات کی کٹائی ہے۔ درختوں کی کمی کے باعث وہ قدرتی نظام متاثر ہوا ہے جو پہلے بجلی کو زمین کی جانب موڑ دیتا تھا اور انسانوں کو محفوظ رکھتا تھا۔

یہ حادثات خاص طور پر اپریل سے جون کے دوران زیادہ پیش آتے ہیں، جب پری مون سون موسم میں درجہ حرارت اور نمی بڑھنے سے فضا غیر مستحکم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں گرج چمک اور طوفانی بارشوں کا سلسلہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔

Comments

200 حروف