BAFL 58.17 Increased By ▲ 0.01 (0.02%)
BIPL 27.25 Increased By ▲ 0.02 (0.07%)
BOP 34.70 Increased By ▲ 0.30 (0.87%)
CNERGY 13.14 Increased By ▲ 0.03 (0.23%)
DFML 18.52 Increased By ▲ 0.12 (0.65%)
DGKC 214.44 Increased By ▲ 0.78 (0.37%)
FABL 99.98 Increased By ▲ 0.42 (0.42%)
FCCL 58.25 Increased By ▲ 0.19 (0.33%)
FFL 16.32 Increased By ▲ 0.09 (0.55%)
GGL 24.00 Increased By ▲ 0.02 (0.08%)
HBL 332.89 Decreased By ▼ -5.27 (-1.56%)
HUBC 213.55 Increased By ▲ 0.19 (0.09%)
HUMNL 10.56 Decreased By ▼ -0.02 (-0.19%)
KEL 7.45 Increased By ▲ 0.02 (0.27%)
LOTCHEM 27.88 Increased By ▲ 0.21 (0.76%)
MLCF 103.10 Increased By ▲ 0.35 (0.34%)
OGDC 320.36 Increased By ▲ 1.44 (0.45%)
PAEL 43.02 Decreased By ▼ -0.08 (-0.19%)
PIBTL 16.77 Increased By ▲ 0.14 (0.84%)
PIOC 277.00 Increased By ▲ 4.00 (1.47%)
PPL 231.20 Increased By ▲ 1.75 (0.76%)
PRL 70.76 Decreased By ▼ -0.04 (-0.06%)
SNGP 105.19 Increased By ▲ 0.61 (0.58%)
SSGC 27.69 Increased By ▲ 0.28 (1.02%)
TELE 8.54 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
TPLP 15.93 Increased By ▲ 0.17 (1.08%)
TRG 60.61 Increased By ▲ 0.32 (0.53%)
UNITY 11.82 Increased By ▲ 0.10 (0.85%)
WTL 1.20 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

بنگلہ دیش میں آسمانی بجلی گرنے سے 14 افراد ہلاک

  • ملک کے مختلف علاقوں میں اچانک طوفانی بارشوں اور شدید گرج چمک کے باعث یہ افسوسناک واقعات پیش آئے
شائع اپ ڈیٹ

بنگلہ دیش میں موسمی گرج چمک کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے کم از کم 14 افراد ہلاک ہو گئے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں اچانک طوفانی بارشوں اور شدید گرج چمک کے باعث یہ افسوسناک واقعات پیش آئے۔

حکام کے مطابق ہلاکتیں مختلف اضلاع میں رپورٹ ہوئیں جہاں بارش کے ساتھ تیز آندھی اور بجلی کڑکنے کے واقعات سامنے آئے۔ زیادہ تر متاثرین کھلے کھیتوں میں کام کرنے والے کسان اور مزدور تھے جو غیر محفوظ مقامات پر موجود تھے اور آسمانی بجلی کی زد میں آ گئے۔

ان واقعات میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

بنگلہ دیش میں ہر سال آسمانی بجلی گرنے کے باعث سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ حکومت نے 2016 میں آسمانی بجلی کو قدرتی آفت قرار دیا تھا، جب صرف مئی کے مہینے میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں ایک ہی دن میں 82 اموات شامل تھیں۔

ماہرین کے مطابق آسمانی بجلی سے ہونے والی ہلاکتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ جنگلات کی کٹائی ہے۔ درختوں کی کمی کے باعث وہ قدرتی نظام متاثر ہوا ہے جو پہلے بجلی کو زمین کی جانب موڑ دیتا تھا اور انسانوں کو محفوظ رکھتا تھا۔

یہ حادثات خاص طور پر اپریل سے جون کے دوران زیادہ پیش آتے ہیں، جب پری مون سون موسم میں درجہ حرارت اور نمی بڑھنے سے فضا غیر مستحکم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں گرج چمک اور طوفانی بارشوں کا سلسلہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔

Comments

200 حروف