ڈیجیٹل ادائیگیوں میں تیزی کا رجحان
- ملک میں ایک سہ ماہی کے دوران ڈیجیٹل ریٹیل ٹرانزیکشنز کی تعداد 3.1 ارب تک پہنچ گئی ہے، اسٹیٹ بینک
ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے رجحان میں تیزی آرہی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف میزان بینک کے کارڈز کے ذریعے ماہانہ ادائیگیوں کاحجم 45 ارب روپے سے تجاوز کرگیا جو صارفین کے ادائیگی کے رجحانات میں نمایاں تبدیلی اور پاکستان کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کی تیز رفتار ترقی کی عکاسی ہے۔
یہ سنگِ میل اس بات کی عکاسی ہے کہ ملک بھر میں کیش لیس ادائیگیوں کی جانب رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور کارڈز، موبائل ایپلی کیشنز اور کیو آر کوڈ پر مبنی ادائیگیوں کا استعمال مسلسل فروغ پارہا ہے۔
بینکنگ انڈسٹری کے اعدادوشمار کے مطابق سہولت، سیکیورٹی اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کی مقبولیت کی وجہ سے صارفین نقد لین دین سے بتدریج دور ہورہے ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ملک میں ایک سہ ماہی کے دوران ڈیجیٹل ریٹیل ٹرانزیکشنز کی تعداد 3.1 ارب تک پہنچ گئی ہے جن کی مجموعی مالیت 64 ٹریلین روپے رہی۔ اسی دوران مرکزی بینک کے فوری ادائیگی کے نظام راست کے ذریعے 645.7 ملین ٹرانزیکشنز ہوئیں جن کی مالیت 18.5 ٹریلین روپے رہی جب کہ زیر گردش پے منٹ کارڈز کی تعداد بڑھ کر 6 کروڑ 67 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
اس تیزی سے پھیلتے ہوئے منظرنامے میں میزان بینک کے اعدادوشمار اسلامی بینکاری اداروں کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق شریعہ کمپلائنٹ بینکس تیزی سے ٹیکنالوجی پر مبنی سلوشنزمیں سرمایہ کاری کررہے ہیں اور روایتی بینکنگ چینلز کے ساتھ مسابقتی حیثیت اختیار کر رہے ہیں۔
کارڈ کے استعمال میں اضافہ صارفین کے بدلتے ہوئے اخراجاتی رویوں کی بھی عکاسی ہے جہاں ریٹیل خریداری، کھانے پینے، سفر، ای کامرس اور روزمرہ لین دین کے لیے کارڈز کا استعمال بڑھ رہا ہے۔
میزان بینک کے مطابق یہ رجحان بہتر ادائیگی انفراسٹرکچر، وسیع مرچنٹ نیٹ ورک اور جدید سیکیوریٹی فیچرز کی بدولت فروغ پا رہا ہے۔
اس ترقی میں محفوظ ادائیگی کے نظام اور صارفین کے بہتر تجربے کے لیے مسلسل سرمایہ کاری کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، جس میں جدید فراڈ مانیٹرنگ، مضبوط تصدیقی نظام اور ٹوکنائزڈ ادائیگی کے سلوشنز شامل ہیں تاکہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر محفوظ ٹرانزیکشنز کو یقینی بنایا جا سکے۔
بینک کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں مسلسل اضافہ معیشت کے لیے وسیع فوائد کا باعث بن سکتا ہے جن میں مالی سرگرمیوں کی بہتر دستاویزی شکل، نقد لین دین پر انحصار میں کمی اور ریٹیل معیشت کی باضابطہ تشکیل شامل ہیں۔ یہ عمل مالی شمولیت کو بھی فروغ دے سکتا ہے، خصوصاً ان طبقات کے لیے جو اب تک رسمی بینکاری نظام سے باہر رہے ہیں۔
ریگولیٹری سرپرستی اورراستجیسے اقدامات کے ساتھ پاکستان میں کیش لیس معیشت کی جانب پیش رفت میں تیزی آ رہی ہے۔
میزان بینک کا 45 ارب روپے ماہانہ کارڈ اسپینڈ کا سنگ میل اس تبدیلی کی عکاسی ہے جو ڈیجیٹل مالیاتی خدمات پر صارفین کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور زیادہ مربوط اور شفاف معیشت کی تشکیل میں اس شعبے کے کردار کواجاگرکرتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments