وزیر مملکت بلال کیانی اور کاروباری رہنماؤں کا اہم اجلاس، آسان ٹیکس نظام, پالیسی تسلسل پر زور
- حکومت براہِ راست ٹیکسوں کی وصولی بڑھانے کے لیے فعال طور پر کام کر رہی ہے، کیانی
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کراچی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ٹیکس آفس میں بزنس کمیونٹی کے نمائندوں کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس کا مقصد باہمی تعاون کو فروغ دینا، تاجر برادری کے خدشات دور کرنا اور آنے والے وفاقی بجٹ میں اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز کو شامل کرنا تھا۔
اس موقع پر وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے ٹیکس نظام کو سادہ بنانے کے لیے حکومت کے غیر متزلزل عزم پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد ایک ایسا سادہ، شفاف اور آسان ٹیکس نظام متعارف کروانا ہے جو بزنس کمیونٹی کی زمینی حقائق کا احترام کرے، ہم ایک ایسا طریقہ کار وضع کرنا چاہتے ہیں جو پیچیدہ مشوروں کی ضرورت کو ختم کرے اور ٹیکس دہندگان کو ایک سادہ، ون پیج ڈیکلیریشن فارمیٹ کے ذریعے بااختیار بنائے۔
وزیر مملکت نے پالیسی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے حکومتی کوششوں پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ معاشی ترقی کے فروغ کے لیے طویل مدتی مالیاتی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت براہِ راست ٹیکسوں کی وصولی بڑھانے کے لیے فعال طور پر کام کر رہی ہے جبکہ ایز آف ڈوئنگ بزنس کی سہولت کے لیے بالواسطہ اور ودہولڈنگ ٹیکسوں کا بوجھ بتدریج کم کیا جائے گا۔
مزید برآں انہوں نے طویل مدتی ٹیرف پالیسی کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد 2030 تک اضافی کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹیز میں منظم طریقے سے کمی لانا ہے تاکہ تاجروں اور صنعت کاروں کے لیے مستحکم اور قابل پیش گوئی کاروباری ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے 12 ارب امریکی ڈالر کی آمد ان غیر متزلزل اعتماد کی عکاسی ہے جو عوام اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کا حکومت کی معاشی پالیسیوں پر ہے۔ انہوں نے بزنس کمیونٹی کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ان اکاؤنٹس کے وسیع تر دائرہ کار سے فائدہ اٹھائیں جو اب بین الاقوامی کمپنیوں اور افراد کے لیے ایک محفوظ اور موثر چینل کے طور پر دستیاب ہیں۔
وزیر مملکت نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ خواتین کاروباری انٹر پرینیور کی مدد کے لیے مخصوص سہولت ڈیسک قائم کیے جائیں اور فوکل پرسنز تعینات کیے جائیں۔ انہوں نے ڈی جی ٹیکس پالیسی کو منظم آگاہی میکانزم وضع کرنے کی بھی ہدایت کی جس میں مختلف چیمبرز آف کامرس میں ایف بی آر کی زیرِ نگرانی ماہانہ بنیادوں پر کھلی کچہریاں منعقد کرنا شامل ہے تاکہ ٹیکس دہندگان کو معلومات تک براہِ راست رسائی اور شکایات کے ازالے کی سہولت میسر آ سکے۔
اجلاس میں موجود کاروباری رہنماؤں، جن میں مختلف ممتاز تجارتی تنظیموں کے نمائندے بھی شامل تھے نے بجٹ سازی کے عمل کے دوران نچلی سطح کی بزنس کمیونٹی کے ساتھ براہِ راست رابطے کے حکومتی اقدام کو سراہا۔ انہوں نے پالیسی سازی کے حوالے سے حکومت کے اس جامع اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والے طریقہ کار پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
وزیر مملکت کیانی نے بزنس کمیونٹی کو جامع تحریری تجاویز پیش کرنے کی دعوت دیتے ہوئے اپنی بات مکمل کی اور اس بات پر زور دیا کہ حکومت کاروباری شعبے کو پاکستان کی پائیدار معاشی خوشحالی کے سفر میں ایک ناگزیر شراکت دار کے طور پر دیکھتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments