سعودی عرب اور قطر کی جانب سے پاکستان کو 5 ارب ڈالر مالی معاونت فراہم کرنے کا فیصلہ، رپورٹ
- متوقع 3.5 ارب ڈالر ادائیگی کے دباؤ کے پیش نظر زرمبادلہ ذخائر کے استحکام کے لیے مالی معاونت
ترک سرکاری خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی عرب اور قطر پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی معاونت فراہم کریں گے، جس سے اسلام آباد کو جون تک بیرونی ادائیگیوں کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑنے والے دباؤ سے بچنے میں مدد ملے گی۔
رپورٹ کے مطابق یہ مالی معاونت پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دے گی، جن پر رواں ماہ کے اختتام تک متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کی ادائیگی کے باعث دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر 3 اپریل 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران بڑھ کر 16.40 ارب ڈالر ہو گئے۔
انادولو ایجنسی کے مطابق ’’ریاض نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی سے جڑے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر اسلام آباد کو مالی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔‘‘
سعودی وزیرِ خزانہ محمد بن عبداللہ الجدان نے جمعہ کی شب اسلام آباد میں وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات بھی کی۔
ترک خبر رساں ادارے کے مطابق ’’پاکستان نے اضافی مالی معاونت کی درخواست کی ہے، جس میں موجودہ نقد ڈپازٹس میں توسیع اور تیل کی مالی سہولت میں اضافہ بھی شامل ہے، جو رواں ماہ کے آخر میں ختم ہو رہی ہے۔‘‘
ادھر رائٹرز کے مطابق متحدہ عرب امارات کو ادائیگی ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب پاکستان 7 ارب ڈالر کے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ( آئی ایم ایف ) پروگرام کے تحت جون تک زرمبادلہ کے ذخائر کو 18 ارب ڈالر سے زائد تک لے جانے کا ہدف رکھتا ہے، جس کے لیے دوطرفہ ڈپازٹس کا رول اوور ہونا ضروری ہے۔
ایک سرکاری عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ قرض 2018 سے مسلسل رول اوور کیا جاتا رہا، جس میں تقریباً 6 فیصد سالانہ شرح سود پر 3 ارب ڈالر کی سہولت بھی شامل تھی، تاہم رواں سال اسے سالانہ کے بجائے ماہانہ توسیع میں منتقل کر دیا گیا، اس سے قبل کہ اسلام آباد نے اسے مکمل طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا، جس کی کلیئرنس 23 اپریل تک متوقع ہے۔
عہدیدار کے مطابق متحدہ عرب امارات کا مزید 45 کروڑ ڈالر کا قرض بھی کئی برس سے واجب الادا تھا، جو مجموعی 3.5 ارب ڈالر کی ادائیگی کا حصہ ہے۔
دریں اثنا، رواں مالی سال جون سے قبل 1.3 ارب ڈالر کا یورو بانڈ بھی میچور ہو رہا ہے، جس سے ملک کی بیرونی پوزیشن پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے، اور مجموعی ذمہ داریاں تقریباً 4.8 ارب ڈالر تک پہنچ رہی ہیں۔


Comments