BR100 Increased By (1.16%)
BR30 Increased By (1.76%)
KSE100 Increased By (0.66%)
KSE30 Increased By (0.73%)
BAFL 58.55 Increased By ▲ 0.11 (0.19%)
BIPL 25.50 Increased By ▲ 0.30 (1.19%)
BOP 34.33 Increased By ▲ 0.34 (1%)
CNERGY 8.18 Increased By ▲ 0.07 (0.86%)
DFML 21.24 Increased By ▲ 0.40 (1.92%)
DGKC 197.90 Increased By ▲ 4.93 (2.55%)
FABL 89.65 Decreased By ▼ -0.14 (-0.16%)
FCCL 54.10 Increased By ▲ 1.27 (2.4%)
FFL 18.10 Increased By ▲ 0.15 (0.84%)
GGL 19.70 Increased By ▲ 0.73 (3.85%)
HBL 286.65 Increased By ▲ 1.15 (0.4%)
HUBC 215.50 Increased By ▲ 1.12 (0.52%)
HUMNL 11.00 Increased By ▲ 0.12 (1.1%)
KEL 8.13 Increased By ▲ 0.11 (1.37%)
LOTCHEM 27.55 Decreased By ▼ -0.34 (-1.22%)
MLCF 88.00 Increased By ▲ 1.49 (1.72%)
OGDC 324.00 Increased By ▲ 4.04 (1.26%)
PAEL 40.11 Increased By ▲ 0.69 (1.75%)
PIBTL 17.36 Increased By ▲ 0.69 (4.14%)
PIOC 270.00 Increased By ▲ 3.94 (1.48%)
PPL 232.40 Increased By ▲ 4.22 (1.85%)
PRL 35.07 Increased By ▲ 0.39 (1.12%)
SNGP 99.51 Increased By ▲ 0.33 (0.33%)
SSGC 27.20 Increased By ▲ 0.60 (2.26%)
TELE 8.64 Increased By ▲ 0.36 (4.35%)
TPLP 8.75 Increased By ▲ 0.53 (6.45%)
TRG 71.50 Increased By ▲ 1.79 (2.57%)
UNITY 11.71 Increased By ▲ 0.04 (0.34%)
WTL 1.27 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
مارکٹس

عراق نے ہرمز میں خلل ڈالنے پر غیر ملکی آئل فیلڈز پر فورس میجر کا اعلان کر دیا ہے، ذرائع

  • بغداد نے فورس میجر( غیر معمولی حالات میں معاہدے کی عدم پاسداری پر ذمہ داری سے استثنیٰ) کے معاملے پر کمپنیوں کو مذاکرات کی دعوت دے دی
شائع March 21, 2026 اپ ڈیٹ March 21, 2026 05:17pm

براہِ راست معلومات رکھنے والے تین توانائی حکام کے مطابق خطے میں فوجی کارروائیوں کے باعث آبنائے ہرمز سے جہاز رانی متاثر ہونے اور ملک کی زیادہ تر خام تیل برآمدات رک جانے کے بعد عراق نے غیر ملکی آئل کمپنیوں کے تیار کردہ تمام آئل فیلڈز پر فورس میجر کا اعلان کر دیا ہے۔

وزارتِ تیل نے 17 مارچ کو لکھے گئے ایک خط میں، جسے رائٹرز نے دیکھا ہے، کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز، جہاں سے عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس ( ایل این جی ) کی ترسیل ہوتی ہے، غیر معمولی فوجی سرگرمیوں کے باعث شدید متاثر ہوئی ہے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ عراقی خام تیل کی زیادہ تر برآمدات اسی راستے سے گزرتی ہیں، اور اس خلل کے باعث ذخیرہ کرنے کی گنجائش اپنی حد تک پہنچ چکی ہے۔

جمعہ کے روز عالمی تیل کی قیمتیں تقریباً چار برس کی بلند ترین سطح پر بند ہوئیں، کیونکہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف تین ہفتوں سے جاری جنگ میں شدت آ گئی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ”بین الاقوامی شراکت دار خام تیل اٹھانے کے لیے ٹینکر نامزد کرنے سے قاصر رہے، جس کے باعث برآمدات رک گئیں، حالانکہ سرکاری آئل کمپنی سومو (ایس او ایم او) کھیپ لوڈ کرنے کے لیے تیار تھی۔“

مزید کہا گیا ہے کہ ”صورتحال کے پیشِ نظر متعلقہ وزارت نے متاثرہ کنسیشن علاقوں میں پیداوار مکمل طور پر بند کرنے کا حکم دیا ہے، اور معاہدے کی شرائط کے تحت اس اقدام پر کسی قسم کا معاوضہ واجب نہیں ہوگا۔“

وزارت کے مطابق خطے کی صورتحال کے مطابق اس کمی یا بندش کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جائے گا، اور کمپنیوں کو ہنگامی مذاکرات کی دعوت دی گئی ہے تاکہ فورس میجر( غیر معمولی حالات میں معاہدے کی عدم پاسداری پر ذمہ داری سے استثنیٰ) کی صورتحال میں ضروری آپریشنز، اخراجات اور عملے سے متعلق امور پر اتفاق کیا جا سکے۔

وزارت کے جمعہ کو جاری بیان کے مطابق عراقی وزیرِ تیل حیان عبدالغنی نے کہا ہے کہ بصرہ آئل کمپنی میں خام تیل کی پیداوار 33 لاکھ بیرل یومیہ سے کم ہو کر 9 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی ہے، کیونکہ ملک کی جنوبی بندرگاہوں سے برآمدات معطل ہو چکی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پیدا ہونے والی مقدار کو ریفائنریز چلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

پیداوار اور برآمدات میں یہ کمی عراق کی پہلے سے کمزور مالی حالت پر دباؤ ڈالے گی، کیونکہ ریاست اپنے تقریباً تمام سرکاری اخراجات اور 90 فیصد سے زائد آمدن کے لیے خام تیل کی فروخت پر انحصار کرتی ہے۔

امریکا اوراسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ پہلے ہی ایران کی سرحدوں سے باہر پھیل چکی ہے؛ تہران نے جواباً اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک کو نشانہ بنایا ہے جہاں امریکی فوجی تنصیبات موجود ہیں، جبکہ ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کی سرحد پار فائرنگ کے بعد اسرائیل نے لبنان میں نئے حملے بھی کیے ہیں۔

Comments

200 حروف